داونگیرے(الطاف رضوی)شہر کے بودی ہال روڈ پر واقع تاج پیالیس میں مسلم جماعت کے زیر اہتمام شہر کے علماء و آئمہ مساجد کی قیادت میں مسلم سماج کو تعلیمی معاشی اقتصادی طور پر بیدار کرنے کی غرض سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا،اجلاس کی صدارت تنظیم علمائے اہلِ سُنت کے ضلع صدرمولانا محمد حنیف رضا قادری نے فرمائی ، شہر کی مختلف مساجد کے ذمہ دار ملی سیاسی قائدین و سماجی کارکنوں کے علاوہ مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابسطہ لیڈران ،مساجدکمیٹیوں کے متولی و اراکین شریک رہے ، کلام ِ پاک سے کی تلاوت ، حمد باری تعالیٰ، و نعت رسول کے ساتھ اجلاس کے افتتاح کے بعد مسلم جماعت کے کنوینیر اڈوکیٹ نذیر احمد نے اجلاس کے مقاصد و مطالب کو گوشِ گذار کیا ، شہر کے گیارویں وارڈ کے کارپوریٹر سعید چارلی ، ٹی اضغر،جی ہیچ مسعودمجاہد ،مجاہد پاشاہ،محمد علی شعیب ، سماجی کارکُن یس یف سی یل ساجد،ریاض ،الطاف ، سمیر غازی خان،اڈوکیٹ ابراہیم خلیل اُللہ،بی داداپیر، وغیرہ نے مسلمانوں کی تعلیمی معاشی اقتصادی بد حالی پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے سیاسی طور پر عوام میں شعور بیدار کرنے سے متعلق کہتے ہوئے کہا اگر قوم میں سیاسی طور پر بیداری پیدا ہوجاتی ہے تو بہت سارے معاملات کا خود بہ خود حل نکل ہی آئیگا ،درمیانی ریاست کرناٹک کا کثیر مسلم آبادی والا حلقہ داونگیرے جنوب جن مسائل سے دوچار ہے ،ترقیاتی کاموں کا جو فقدان یہان موجود ہے داونگیرے شمال کی بجائے اگر اسی پر ایک جائزہ لیا جائے تو ہمیں سیاسی طور پر شعور حاصل ہوسکتا ہے،جے امان اُللہ خان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ داونگیرے شہر کو اسمارٹ سٹی بنانے بھٹی لے آوٹ سے شہہ ملی اور 372 کروڑ روپیئے بھٹی لے آوٹ کو ترقی دینے کے لئے منظور ہوئے اُن میں سے 350 کروڑ روپیئے داونگیرے شمال میں جو خرچ کئے گئے کیا ہم نے کبھی رکن اسمبلی سے اس سلسلے میں سوال کیا ہے ،نہیں ۔؟ تو کیا یہ مزاج ہماری بے حسی ثابت نہیں کرتااگر رُکنِ اسمبلی داونگیرے جنوب اپنے حلقہ انتخاب کی ترقی سے متعلق فکر مند ہوتے تو کیا ہماری ومینس ڈگری کالیج آنجنیا بڑوانے منتقل ہوتی،اس تاج پیالیس کے آس پاس میں تین جگہوں پر چالیس چالیس ہزار اسکوئر فٹ جگہ پارک کی تعمیر کیلئے مخصوص اِن کی ترقی نہیں کی جاسکتی تھی،ہیگڈے نگر کے مکینوں کو دوسری جگہ گھر فراہم کرتے ہوئے جگہ کو خالی کرایا جاتا تو رنگ روڈ کی تکمیل سے ہمارا علاقہ ترقی کی جانب روان نہیں ہوسکتا تھا ؟مگر ہمارے علاقے کے ووٹوں سے بالخصوص مسلم قوم کے ووٹوں کے تعاؤن سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والوں کو کیا ہماری ترقی گوارہ ہے اس بات پر ہمیں غور و فکر کرنا ضروری ہے،تعلیمی ،معاشی ،اقتصادی ،سماجی ،و سیاسی طور پر یہ قوم کس بدحالی کا شکار ہے ،کیا ساچار رپورٹ سے حکومت کی آنکھیں نہیں کھلی۔؟ کیا ساچار کمیٹی کواس لئے بنایا گیا تھا کہ مسلم قوم کو آئینہ دیکھایا جائے اور آیئنہ پر پڑی گرد کو بھی حکومت صاف کرنے کی کوشش نا کرے،یہ الگ بات ہے کہ مسلم قوم کے تعلق سے کوئی بھی سیاسی پارٹی مخلص نہیں مگر پھر بھی ماگنہلی روڈ پر ایک زمین کو کسی فرد واحد کیلئے نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے حکومت سے منظوری کی سفارش کرنے سے رکنِ اسمبلی نے صاف انکار کردیا ، اور اس موقع پر ہیچ یس ناگراج اور کچھ احباب اور تنظیم المسلمین کے ذمہ داروں نے اُس وقت کے وزیراعلیٰ کمار سوامی سے ملاقات کی اور جگہ منظور کرنے کی گذارش کی تو جگہ کی منظوری کے ساتھ ساتھ پچاس لاکھ روپیئے فنڈ بھی مہیا کرایا کیا ہمیں اس کا حق ادا کرنا نہیں ہے ۔؟ اس کے بعد بھی میں امان اُللہ خان جو اس وقت میرا نام جنتادل یس اُمیدواروں کی پہلی فہرست میں داونگیرے جنوب اسمبلی حلقہ سے اُمیدوار کے طور پر اعلان پارٹی کی جانب سے کیا جا چکا ہےقوم مسلم ہمیشہ سے اکثریت کے ساتھ کانگریس پارٹی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور کانگریس پارٹی کا یہ فریضہ ہے کہ ریاست کرناٹک میں کثیر مسلم آبادی والاحلقہ داونگیرے جنوب سے کسی مسلمان کو اُمیداور بنائے،اگر ایسا کیا جاتا ہے تو میں اپنی اُمیداوری سے دستبردار ہوتے ہوئے خود الیکشن میں حصہ لینے پر جن وسائل کی ضرورت ہوتی ہے وہ تمام وسائل کانگریس پارٹی سے نمایندہ داونگیرے جنوب اسمبلی حلقہ کے اُمیدوار کے لئے فراہم کرنے کا پابند رہوں گا،قوم کو متحد ہوکر اس مرتبہ کے الیکشن میں اپنے نمایندے کو دیگر اقوام کے دل جیتے ہوئے کامیابی ہمکنار کرانا ہم سب کا فرض ہونا چاہیے ،ریاست کرناٹک کے قد آور کانگریس قائدین کی بھی جو ذمہ داری بنتی ہے اسکو وہ اپنے ذمہ لیں ،آسمان سے کوئی قیادت تو نہیں اُتریگی ہم میں سے جو بہتر ہے اُس کو قائد تسلیم کرلینے میں ہی ہماری بھلائی پوشیدہ ہے یہ احساس ہر کسی میں ہونا ضروری ہے ورنہ آیندہ نسلوں کے سامنے شرمندگی سے سر جھکا لینے کے سواء کوئی چارہ نہیں رہ جائے گا ، رہا معاملہ تعلیمی ،سماجی ،معاشی واقتصادی یوں بھی اِس سلسلے میں ہماری قوم کےاہل ثروت احباب کچھ سرکاری تعلیمی اداروں کو گود لیتے ہوئے،اور نجی تعلیمی اداروں کے قیام سے اس جانب کام کررہے ہیں ،معاشی اور اقتصادی میدان میں یہ قوم کسی پہ تکیہ کئے بغیر اپنے بازؤں کے دم پررواں دواں ہے،اگر سیاسی طاقت اس قوم کومیسر آئی توضرور وسائل کی فراہمی ہوگی جس کی بنیاد پر قوم مزید ترقی کی راہوں پر گامزن ہوسکے گی،اجلاس کی صدارت کررہے تنظیم علمائے اہلِ سُنت کے ضلع صدر مولانا حنیف رضا قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اجلاس کا مقصد قوم کو تعلیمی معاشی اقتصادی طور پر بیدار کرنا ہے،حکومت کی بہت ساری اسکیمات کے ذریعہ سہولیات کی جانکاری کے فقدان سے سہولتوں کو حاصل کرنے میں بہت پیچھے ہے جو ہماری اقتصادی کمزروی کا باعث بھی ہے،اس تعلق سے قوم میں بیداری ضروری ہےاور اس کام کے لئےتعلیم بے حد ضروری ہے،تعلیم سے دوری بُری عادتوں حتہ کہ نشہ جیسی بھیانک بُرائیوں سے پوری قوم پستی کا شکار ہورہی ہے،نوجوانون کی بے راہ روئی سے خاندان کے خاندان پریشانی میں مبتلاء پائے جارہےہیں ،اس کی روک تھام کیلئے معاشرے میں بہتر سوچ رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو حرکت میں آنا ہوگا ،مذہب اسلام میں تعلیم کی بڑی اہمیت بتائی گئی ہے اور ہم اِسی مذہب کے ماننے والے ہیں ،ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ قوم کو پستی سے نکالنے کی ذمہ داری تعلیم یافتہ افراد و معاشرےکی بھلائی کی سوچ رکھنے والے احباب کی ہونی چاہیئے ،اگر ہم اولاد کو تعلیم فراہم کرتے ہوئے بہتر اخلاق کے ساتھ تربیت دینگے تو الیکشن کے موقع پر وہ کسی سورت اپنے ووٹ نوٹوں کے بدلے فروخت نہیں کرینگے،یہی وجہ ہے کہ اس میدان میں ہماری وقعت گھٹتے جارہی ہے،اگر ہم ہر معاملے میں بیدار رہے ہمارے آس پاس کیا ہورہا ہے اس کا احساس ہمیں رہا تو اسسی ہزار سے زائد ووٹ کے ہوتے ہوئے ہمیں ٹکٹ کی بھیک مانگنی نا پڑتی بلکہ کسی بھی پارٹی کی ٹکٹ ہو وہ قوم کو بنا مانگے میئسر آتی کہ تم جس کو چاہو کھڑا کرو یہ آپ کی ذمہ داری ہے، آنے والے اسمبلی الیکشن میں داونگیرے جنوب اسمبلی حلقہ سے ایک مسلمان کا کامیاب ہونا ضروری ہے،اس کیلئے قوم کے سیاسی لیڈران اپنی پارٹیوں پر دباؤ بنائے کہ اس مرتبہ ہماری کثیر آبادی والے علاقے سے ہماری ہی قوم کو موقع فراہم کیا جائے کہ ہمارے علاقے کا جو ماحول ہے وہ بدلےاور دیگر طبقات کو بھی اعتماد میں لیں کہ وہ اُن کے حقو ق کی مکمل حفاظت کے ساتھ اُن کی ترقی کو بھی یقینی بنانے کی سمت اُن کے دل جیتے صرف الیکشن آیا اور علماء کو سامنے کیا پھر سازباز کی نوبت آئی تو علماء کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا مفاد حاصل کرلیا یہ عمل بھی قوم کو پستی کی جانب دھکیل سکتا ہے،اجلا س میں سماجی کارکن ڈاکٹر سی آر نصیر احمد ،مولاناالیاس قادری ،مولانا سید مختار احمد رضوی ،مولانا مفتی رضوان اُللہ ،مولانا مفتی شمیم قادری،مولانا مفتی حیات اُللہ ،مولانا شاہد رضا،یو یم منصور علی ،سبحانی مسعود ،کبیر ،وغیرہ اجلاس میں شریک رہے صلاۃ سلام و دعا کے ساتھ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
