مسلسل جاری ہے مہنگائی کی مار: اب مہنگی ہوئی اسٹیل ،تعمیرات سمیت بہت سی مصنوعات پرپڑے گااثر

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔کرونا تباہی اور افراط زر کے دور میں تعمیراتی کام زیادہ مہنگا ہونے جارہا ہے کیونکہ اسٹیل کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ بہت سی گھریلو کمپنیوں نے اسٹیل کی قیمت میں فی ٹن 4900 روپے تک کا اضافہ کیا ہے۔ ہاٹ رولڈ کوائل (ایچ آر سی) کی قیمت میں 4000 روپے فی ٹن اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کولڈ رولڈ کوائل (سی آر سی) کی قیمت میں 4900 روپے فی ٹن اضافہ کیا گیا ہے۔ قیمت میں اضافے کے بعد اب ایچ آر سی کی قیمت 70000 سے 71 ہزار روپے فی ٹن ہوگئی ہے جبکہ سی آر سی کی قیمت 83 سے 84 ہزار روپے فی ٹن ہوگئی ہے۔ایچ آر سی اور سی آر سی فلیٹ اسٹیل ہیں جو آٹو، آلات اور تعمیراتی صنعتوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسٹیل کے نرخ میں اضافے کی وجہ سے گاڑیوں اور صارفین کے سامان کی قیمت میں اضافہ ہوگا جبکہ تعمیراتی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔ سیل، جے ایس ڈبلیو اسٹیل، ٹاٹا اسٹیل، جے ایس پی ایل اور اے ایم این ایس ہندوستان میں اسٹیل کے بڑے صنعت کار ہیں۔ ان کمپنیوں کا ہندوستان میں اسٹیل کی مجموعی پیداوار میں 55 فیصد حصہ ہے۔ خبر کے مطابق جب سیل کے عہدیداروں سے قیمت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کچھ بھی رائے دینے سے انکار کردیا۔ اتناہی کہا کہ یہ مارکیٹ پر مبنی قیمت ہے۔ جے ایس ڈبلیو اسٹیل کے عہدیداروں نے کہا کہ خام مال کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے عالمی منڈی میں اسٹیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، اس لئے ہمیں بھی قیمت میں اضافہ کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں لوہے کی قیمت فی ٹن 4000 ہوگئی ہے۔ ان تمام وجوہات کی وجہ سے اسٹیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیل کی ملکی قیمت بین الاقوامی قیمت سے 20-25 فیصد کم ہے۔ کمزور گھریلو مانگ کی وجہ سے زیادہ تر اسٹیل کمپنیوں نے برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔