کیا ساورکر کامسئلہ مسلمانوں کاہے؟

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ کرناٹک۔9986437327
جی ہاں یہ سوال نہایت اہم ہے، وینائک ساورکر یقیناًبھارت کی آزادی کے دوران انگریزوں کا غلام رہا اور اس نے اپنی زندگی میں مسلمانوں سے زیادہ کانگریس کی مخالفت کی تھی اور کافی دنوں تک اس نے مسلم لیگ کا ساتھ دینے کی بات تاریخ دان کہتے ہیں کہ جب مسلم لیگ میں اسکی دال نہ گلی تو اس نے ہندو مہاسنگھ کا دامن پکڑا اور کٹر ہندوتواوادی بن گیا تھا۔جنگِ آزادی کے دوران انگریزوں کی تائید کرنے والے وینائک دامودر ساورکر کی فلیگس یا پوسٹر کو لیکر جو تنازعہ پیداہواہے،اُس کی مسلمان شدید مخالفت کررہے ہیں،جبکہ آزادی کے بعد سے اب تک یہ مدع کبھی بھی مسلمانوں کا نہیں رہاہے،بلکہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ سے ہی ساورکر کی مخالفت او رمذمت کی ہے۔یقیناً ساورکر ملک کی آزادی کے دوران انگریزوں کی غلامی تسلیم کرنے والاسنگھ پریوارکاہیرو ہے مگر اس کے تعلق سے سیاسی فائدہ ہمیشہ سے ہی کانگریس پارٹی نے اُٹھایاہے۔مگر اچانک ساورکر کے معاملے کو لیکر مسلمانوں نے جس طرح سے اپنا ردِ عمل ظاہر کیا ہے ، وہ موجودہ حالات کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ساورکر مسلمانوں کا مسئلہ ہے ،مسلمانوں کے پاس ساورکرکے علاوہ اور بھی کئی مسائل ہیں جن پر مسلمانوں کا ردِ عمل ہونا چاہیے۔غورطلب بات یہ ہے کہ پچھلے تین دنوں سےکرناٹک میں ساورکر کا مدعہ گرمایاہواہے اور اس معاملے میں مسلمانوں کو گھسٹنے کی کوششیں تیز ہوچکی ہیں۔ریاست میں اسمبلی انتخابات قریب ہوتے جارہے ہیں جیسے جیسے انتخابی ہوا گرم ہورہی ہے اُسی رفتارسے سنگھ پریوار ہندو مسلم کارڈ کھیلنے کی کوشش میں لگاہواہے،سنگھ پریوار اور کانگریس دونوں ہی جانتے ہیں کہ ان کے پاس سیاسی مدعوں کے طورپر ترقیاتی کام، گھوٹالے، حکومتی منصوبوں کی ناکامیاں یہ تمام مدعے آنے والے اسمبلی انتخابات کیلئے کوئی اثرنہیں کرینگے،اس لئےریاست میں مذہب اور ذات کی بنیادپر اگر مدعے اٹھائے جائینگے اس کا زیادہ فائدہ ہوگا۔ان مدعوں میں مسلمانوں کو قربانی کابکرابنایاجارہاہے۔مگر ان باتوں کو مسلمان سمجھنے کے بجائے مزید جذباتی ہورہے ہیں اور اُن کے جذبات کافائدہ سوائے سیاسی جماعتوں کے اور کسی کو نہیں ہورہاہے۔غورطلب بات یہ بھی ہے کہ ایسےمدعوں سے خود مسلمانوں میں کوئی لیڈر یا قائد نہیں بن رہاہے اور نہ ہی اس کا فائدہ مسلمانوں کو ہورہاہےبلکہ مسلمانوں کی بچی کچی قائدانہ صلاحتیں بھی دم توڑرہی ہیں اور دوسری قومیں و سیاستدان ان مدعوں کو استعمال کرتے ہوئے مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔حالات اس وقت نہایت ناز ک ہیں،ہر سیاسی جماعت مسلمانوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے،ایسے میں مسلمان ان جذباتی مدعوں کو چھوڑکربنیادی مسائل پرزیادہ توجہ دیں تو اس کا فائدہ ضرورہوگا۔آنے والے انتخابات کیلئے مسلمانوں کو اگر واقعی میں تیاری کرنی ہے تو اس کیلئےسب سے پہلے وہ اپنے اپنے علاقوں میں ،محلوں اور شہروں میں ووٹنگ لسٹ میں مسلمانوں کے ناموں کا اندراج کرانے کا سلسلہ شروع کریں۔موجودہ ووٹنگ لسٹ کا جائزہ لیں،دیکھیں کہ کس کا نام ہے،کس کا نام نہیں ہے۔نئے قوانین کے مطابق کیاووٹنگ لسٹ میں آدھارکارڈجوڑا گیاہے،یہ سب بنیادی اور اہم باتیں ہیں،بلاوجہ اشتعال انگیز یاپھرحالات کوبگاڑنے والے مدعوں پر سیاست کرنے کے بجائے حکمت سےکام کریں۔