انسان سال بھر کھانے پینے اور خواہشات نفس کے تقاضوں کو پورا کرنے میں بے راہ روی اختیار کرتا ہے اور فطری ترتیب کے خلاف قوانینِ اسلام کی دہجّیاں اڑاتا ہے اور دنیا میں اس سے فساد وفتنہ برپا ہو تا ہے اسی غیر فطری و غیر اسلامی ترتیب کے خلاف اصل فطرت اسلام کی طرف انسان کومائل کرنے کیلئے من جانب اللہ اس ایک مہینے میں کچھ مخصوص اعمال کو کرنے کا حکم کیا جاتا ہے جس سے انسانی زندگی کو صحیح اسلامی رُخ کی طرف لے جایا جاتاہے ،اس صحیح اسلامی تمرین و ٹریننگ کے نتیجے میں انسان خدا سے بہت قریب ہوجاتاہے۔اب دیکھا جائے تو اللہ تعالی نے انسانوں کو تین قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے (۱)روح( ۲) جسم(۳) مال، ان تینوں نعمتوں کی ٹریننگ رمضان المبارک میں کرادی جاتی ہے ۔ یہ تینوں نعمتیں انسان کے حق میں انتہائی عظیم تحفہ ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ خدا کی عظیم نعمت اگر انسان کا جسم ہی نہ رہے تو روح کے رہنے اور جسم کے اندر قیام کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں، اسی طرح اگر روحِ انسانی نہ ہو تو انسانی جسم کی تخلیق وپیدائش بیکار و فضول ہے ، اسی طرح اگر انسان کے پاس مال ودولت نہ ہو تو انسان کی زندگی پریشان اور بحران کا شکار ہو جاتی ہے، اسلئے روح، جسم اور مال یہ تینوں چیزیں انساں کیلئے بے حد ضروری ہیں ۔ اللہ تعالی جو خالقِ کائنات ہے وہ چاہتے ہیں کہ اس کے مومن بندے ان تینوں نعمتوں کو توازن پر قائم رکھیں ،یعنی فطرتِ اسلام پر باقی رکھیں، اگر روح،جسم اور مال کو فطرت اسلام پر باقی نہیں رکھا گیا تو یہی سمجھا جائیگا کہ اب انسان صحت مند نہیں ہے بلکہ ایسا انسان جو ان تینوں ضروری اجزاء میں توازن کو کھو بیٹھاہے۔اسی توازن کی رمضان المبارک بندئہ مؤمن کو تلقین کرتاہے جس کے نتیجے میں ایک مؤمن بندہ اس توازن کے نتیجے میں اپنے خدا سے بے انتہا قرب اور نزدیکی حاصل کرتے ہوئے اپنی دنیا وآخرت کو کامیابی سے ہم کنارکرتا ہے اور اپنے آپ کو صالح و متقی بندوں میں شمار کرلیتا ہے، توازن کی شکل ان تینوں نعمتوں میں کس طرح پیدا کی جائے؟ تفصیل ملاحظہ ہو۔
کھانے پینے کے ذریعہ توازن:۔
رمضان کے علاوہ سال بھر انسان اپنی کمائی و محنت اور مشقت کے ذریعہ رزق کماتا ہے اور اس سے دنیا کی زندگی میں آسودگی حاصل کر تا ہے۔ اس آسودگی اور کھانے پینے میں اعتدال و توازن کو اللہ تعالی ایک مؤمن بندہ میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالی کا یہ منشا وارادہ ہوتاہے کہ جب ایک بندہ سال بھر اپنے کمائے گئے مال سے کھاتا پیتا رہا اسی کھانے اور پینے کو اللہ تعالی نے ماہِ رمضان میں روک لگادی کہ تم صبحِ صادق سے لیکر غروبِ آفتاب تک کھانے اور پینے سے رک جاؤ، اس ممانعت میں جہاں یہ حکمت ہے کہ غریبوں کی بھوک وپیاس کا احساس ایک کھاتے پیتے دولت مند شخص کے اندر پیدا ہوجائے تو یہاں پر یہ حکمت بھی پوشیدہ ہے کہ ایک بندئہ مؤمن اس بات کا احساس اپنے اندر پیدا کرے کہ میں نے سال بھرجو مال ودولت کمایا وہ حلال کے بجائے کہیں حرام تو نہیں؟ یا کہیں اس میرے مال میں سود کی آمیزش اور ملاوٹ تو نہیں، کہیں میں نے کسی مجبور و نادار سے ظلما ًمال کوحاصل تو نہیں کیا؟ کہیں میں نے ان چیزوں کی خرید و فروخت اور بیع و شرا تو نہیں کیا جن کی شریعتِ اسلام میں ممانعت ہے اور خدا ورسولِ خدا کی ناراضگی کا سبب تو نہیں بن گئی؟ میں سال بھر جس دولت سے فائدہ حاصل کرتا رہا کہیں وہ حرام و ناجائز طریقے پر تو نہیں آئی تھی؟ان اندرونی اور مخفی احساسات کو روزہ کی بھوک وپیاس ایک مؤمن بندہ کے ضمیر کو جھنجوڑتی رہتی ہے کہ جس سے بندئہ مؤمن جس کے دل میں خداوند قدوس کا خوف اور آخرت کی جواب دہی کا احساس ہو وہ فوراً اپنے آپ کو حرام و ناجائز اور سود جیسی انتہائی خطرناک چیزوں سے پرہیز کرنے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرکے توازن کو بر قرار رکھنے کی کوشش کرتاہے اور اس بات کو سمجھ جاتاہے کہ اللہ تعالی کھانے اورپینے سے مجھے روک کر میری کمائی اور کمائی کے ذرائع میں توازن پیدا کرنا چاہتے ہیں، اسی احساس کی طرف اللہ کے مؤمن بندوں کو رمضان کے روزے متوجہ کرتے ہیں اور ایمان و احتساب کا یہی مطلب شریعت اسلام میں مطلوب ہے۔
مباشرت کی ممانعت سے توازن:۔
جب کھانے اور پینے کی ممانعت سے روزہ دار کے اندر کسبِ حلال کے توازن کا احساس پیدا کرایا گیا جس سے اللہ تعالی کی نعمت انسان کے
جسم کی حفاظت مقصود و مطلوب تھی اب آگے اللہ کی دوسری نعمت’’ روح ‘‘کی حفاظت بھی ضروری تھی تو اللہ تعالی نے روزہ دار سے یہ مطالبہ بھی کردیا کہ صبحِ صادق سے لیکر غروبِ آفتاب تک روزہ کی حالت میں مباشرت سے اپنے آپ کو روک لو ،حالانکہ رمضان کے علاوہ دوسرے ایام میں مباشرت کی یہ قید بالکل نہیں ہے مگر رمضان میں روک لگادی گئی ہے، اس سے اللہ تعالی ایک مؤمن بندہ کے ساتھ از راہِ ہمدردی اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ روزہ دار اس بات کا موازنہ کرے کہ میں نے سال بھر اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کہیں ناجائز مقام پر تو نہیں کی؟کسی غیر محرم سے میں نے زنا کا ارتکاب تو نہیں کیا؟ اپنے نفسانی خواہشات کی پیروی میں کہیں میں نے ربّ العالمین کو اور رحمۃ اللعالمین ﷺ کو ناراض تو نہیں کیا؟ کہیں زنا کاری کے نتیجے میں آسمان سے غضبِ الہٰی نازل تو نہیں ہوا؟ کہیں میری یہ ہیجانی وبے حجابی اور بے حیائی ربِّ کریم کی ناراضگی کو دعوت تو نہیں دے رہی ہے؟ کہیں میری زنا کاری کے نتیجے میں اپنے آپ پر میں ظلم و زیادتی کو نہیں لاد رہا ہوں ؟ تو یہ صومِ رمضان روزہ دار کو متوجہ کررہا ہے کہ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی میں بے راہ روی اور خدا کے حکم عدولی سے باز آجاؤ ورنہ خدا کی گرفت سے کوئی بھی طاقت بچا نہیں سکتی۔ اب تو زناکاری کی قسمیںاور کوانٹیٹی اتنی کثیر تعداد میں بڑھ گئی ہے کہ نام نہاد مسلمانوں نے کفّار کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے،نوجوانوں، غیر شادی شدہ اور کنواری لڑکیوں کا چکر اور عشق بازی تک معاملہ چل رہا تھا اب تو اس کے اندر ایسی ترقی ہوئی اور زناکاری کے ایسے بھیانک واقعات و حادثات گردش کرنے لگے ہیں کہ شیطان بھی پناہ مانگتا ہوگا،شادی پر بیس سال پچیس سال گزرچکے اولاد جوانی میں قدم رکھ چکی ہے ایسی حالت میں اچانک ایک اجنبی مرد سے عورت کی آنکھ لڑگئی دفعتاًکائنات بدل گئی ایک اجنبی مرد کے چکّر میں اپنے شوہر سے بغاوت کر بیٹھتی ہے اپنے بچوں کی بھی پرواہ نہیں اور بعض مکّار وعیّار عورتیں ایسی بھی ہیں کہ بچوں کو باپ سے جداکرکے اپنے ساتھ اجنبی مرد کے پاس لیکر چلی جاتی ہیں، قطع رحمی کرتے ہوئے اولاد کو باپ سے جدا کرنے کاجرم بھی کر بیٹھتی ہیں،اچھے خاصے آباد گھر کو برباد کر بیٹھتی ہیں، ایسی بد چلن، بد کردار اور غدّار عورتوں کے ماں باپ بھی اپنی لڑکیوں کی ہی تائید میں آسمان و زمین ایک کردیتے ہیں، بڑی ہی جسارت کے ساتھ اُلٹا اپنے داماد پر الزام تراشی ہی نہیں بلکہ تہمت لگا دیتے ہیں کہ ہماری لڑکی کا کہناہے کہ اس کا شوہر نامرد ہے ہماری لڑکی کے قابل نہیں، اگر ان سے یہ سوال کیا جائے کہ شادی ہوے بیس سال پچیس سال گزرگئے اور صاحب اولاد بھی ہیں اس کے باوجودعدمِ رجولیت کابہتان عورت بھی لگارہی ہے اور اس کے والدین بھی لگارہے ہیں، بجائے اپنی بد کردار لڑکی کو سمجھاتے داماد اور بیٹی کے درمیان صلح کرواتے، اولاد کے مستقبل کو سلجھانے کی کوشش کرتے، مگر نہیں اپنی اور اپنی لڑکی کی ناک اونچے رہے کا مسئلہ ہے اس میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو خاندانی اعتبار سے نام نہاد سید زادے ہیں جن کی زند گیوں کا چراغ ٹمٹما ر ہاہے اور گل ہونے کے قریب ہے اور اس بے حیائی وبے حجابی اور عیّاشی کے گہرے سمندر میں ہمارے اسلامی دارالقضا کے ناعاقبت اندیش بعض قاضی صاحبان اور بعض معروف دینی درسگاہوں کے بعض شیخ الحدیث و افتا وقضا پر براجمان حضرات تک ملوّث ہیں اور ایسی زناکار وبدکار عورتوں کی حمایت میں فیصلے کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کررہے ہیں نہ ہی انہیں خداکے یہاں باز پرسی و مسوؤلیت کا خوف ہے، العیاذ بااللہ ثم العیاذ بااللہ۔
بڑے افسوس کے ساتھ اس بات کو بھی قلم بند کرنا پڑرہا ہے کہ اسلامی دارالقضا جو مدارس میں یا ہماری مساجد میں قائم ہیں ایسی بد چلن وبدکردار عورتوں کی جانب داری کا پارٹ ادا کرتے ہوئے ان کا نکاح شوہر کی مرضی کے بغیر فسخ کیا جا رہا ہے اس عورت کے چاہنے والے عاشق سے نکاح بھی کردیا جاتاہے اور حقیقی شوہر کو اس فسخِ نکاح کی کاپی دی جاتی ہے نہ ہی شوہر کو اس کی اطلاع کی جاتی ہے ایسی کھلی دھاندلی بازیاں ہمارے اسلامی دارالقضا میں رچائی جا رہی ہیں ،اب علم والے بھی جانبداری سے کام لیتے ہوئے زناکاری و فحّاشی اور بے حجابی کی خوگر عورتوں کی تائید میں مصروف ہیں حقیقت میں بے حجابی کا بازار گھر گھر میں جنم لے رہاہے، اسلامی دارالقضاء میں ناعاقبت اندیش قاضی غلط عورتوں کی جانبداری میں مست مگن ہیں تو سرپر حجاب سے متعلق مسئلہ پر پھر اتنی شدت کے کیا معنی ؟جب کہ یہ اندرونی بے حجابی کی طرف بالکل توجہ نہیں ہے اور صاحب ِ اولاد عورتوں کی اس طرح بے حجابی و بے حیائی پر اُن کے سرپرستوں کی طرف سے اور نہ والدین کی طرف سے کوئی تنبیہ کی جارہی ہے اب تو معاملہ بعض اسلامی دارالقضاء کا یہاں تک بڑھ گیا ہے کہ جوعورت اپنا خلع یا طلاق کے مسئلہ کو قاضی کے پاس لے جاتی ہے اس عورت سے قاضی یہ مطالبہ کر بیٹھتا ہے کہ "میں تو تمہار ی خواہش کے مطابق تمہارے شوہر سے آزاد کرادوں گا اس کے بدلہ میں مجھے کیا ملے گا؟” عورت جواب دیتی ہے کہ جتنے پیسے آپ لینا چاہیں لے سکتے ہیں۔مگر قاضی یہ کہتا ہے کہ’’مجھے پیسہ سونا ہیرے جواہرات نہیں چاہئے، مجھے تو آپکی ضرورت ہے‘‘ استغفراللہ مگر بعض عورتیں بڑی غیرت مند ہوتی ہیں تو اس عورت نے یہ ساری گفتگو کو ریکارڈ کیا اور واٹساپ کے ذریعے وائرل کردیا ، چنانچہ وہ قاضی سارے علاقے میں بے آبرو ہوگیا اور دارالقضاء کو مقامی علماء نے صوبائی امیر شریعت کے حکم پر بند کردیا۔ اس قدر زناکی قسمیں رائج ہیں کہ لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپ جاتے ہیں، اللہ ہی نیک توفیقات عنایت فرمائیں۔اسی لئے رمضان میں حکمِ الہی ہے کہ دن بھر روزہ کی حالت میں نفسانی وجنسی خواہش پر مکمل کنٹرول رکھو تاکہ غیر رمضان میں جنسی بے راہ روی سے اجتناب کرنے میں آسانی پیدا ہوجائے۔ جب نفسانی خواہشات پر مکمل کنٹرول ہوجائے تو انسان کی روح بھی بالکل آلودگیوں س اور گندگیوں سے پاک وصاف ہو جاتی ہے اسی لئے روزے کے ذریعے جنسی خواہش کو قابو میں رکھ کر روح کے تزکئہ و صفائی کاکام کیاجاتا ہے۔
مال کے ذریعہ توازن کی برقراری:۔
اب تیسری نعمتِ خداوندی "مال” ہے مال اگر آدمی نے کہیںناجائز کمایا ہو، کسی کو ظلم و استبداد کا نشانہ بنا کر مال حاصل کیا ہو یا مال کمایا جائز طریقے سے ہی مگر ز کواۃ وخیرات اور صدقات کو نہیں نکالا تو اب حکمِ خداوندی ہے کہ اپنے جمع شدہ مال میں سے زکواۃ وصدقات اور خیرات نکالو۔اس سے مال کی تطہیر ہوجائیگی اور مال پاک وصاف ہوجائے گا، جس سے بلاؤں اور مصیبتوں کا دفاع بھی ہوگا اور آخرت میں اجر و ثواب بھی ملے گا ،تو اس طرح مال میں توازن پیدا ہوجائیگا، اسی چیزکی صومِ رمضان نشاندھی کر تا ہے، یہ تینوں انعامات اللہ تعالی نے مؤمنوں کو عطا فرمایا ہے یعنی جسم، روح اور مال ان تینوں کے اندر توازن پیدا ہوکر روزہ دار مومن اللہ کے پاس اجر وثواب کا مستحق بن جاتا ہے، لہٰذا ماہِ رمضان المبارک اسی توازن کو پیدا کرکے اللہ کے یہاں ایک مؤمن بندہ کو سرخ روئی و کامیابی کی سعادت سے بہرور کردیتا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ماہِ رمضان المبارک میں ادا کی جانے والی ہر ا طاعت و عبادت کو قبول فرمائے اور روزوں کی برکت سے ہمارے ہر عمل میں توازن عطا فر ما ئے ۔
آمین بجاہ سید المرسلین ورحمۃ للعالمینﷺ
از:۔ عطاء الرحمن القاسمی،کڑیکل،شیموگہ

