دہلی :۔ سپریم کورٹ نے بدھ کو مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا الزام لگانے والی 14 فریقوں کی عرضی پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔ درخواست میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے من مانے استعمال کا الزام لگایا گیا تھا اور مستقبل کے لئے رہنما خطوط کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کی درخواست پر چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے بی پاردی والا بھی بینچ کا حصہ تھے۔اپوزیشن کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ 2014 سے اپوزیشن کے لیڈروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 885 استغاثہ کی شکایات درج کی گئی ہیں، صرف 23 کو سزا ملی ۔ 2004 سے 2014 تک… تقریباً آدھی آدھی جانچ ہوئی ہے۔ اس پر سی جے آئی نے کہا کہ ہندوستان میں سزا کی شرح بہت کم ہے۔سنگھوی نے دلیل دی کہ 2014 سے 2022 تک ای ڈی کے لئے 121 سیاسی رہنماؤں کی جانچ کی گئی ہیں، جن میں سے 95 فیصد اپوزیشن کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی معاملہ میں 124 لیڈروں کی جانچ کی گئی، جن میں سے 108 اپوزیشن کے ہیں۔ تب سی جے آئی نے کہا کہ یہ ایک یا دو متاثرہ افراد کی دلیل نہیں ہے… یہ 14 سیاسی پارٹیوں کی دلیل ہے… کیا ہم کچھ اعداد و شمار کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ جانچ سے چھوٹ ہونی چاہئے؟چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے اعداد و شمار اپنی جگہ درست ہیں، لیکن کیا سیاستدانوں کو جانچ سے بچنے کی کوئی خصوصی حق ہے! آخرکار سیاست دان بھی ملک کے شہری ہیں۔ سنگھوی نے پھر کہا کہ میں ممکنہ گائیڈ لائن مانگ رہا ہوں… یہ کوئی مفاد عامہ کی عرضی نہیں ہے، بلکہ 14 سیاسی جماعتیں 42 فیصد رائے دہندگان کی نمائندگی کرتی ہیں اور اگر وہ متاثر ہوتے ہیں تو لوگ متاثر ہوتے ہیں۔اس پر بینچ نے کہا کہ سیاستدانوں کو کوئی خصوصی حق نہیں ہوتا ہے۔ ان کے بھی وہی حقوق ہیں جو عام آدمی کے ہیں۔ کیا ہم عام صورت میں کہہ سکتے ہیں کہ اگر جانچ سے بھاگنے/ دیگر شرائط کی خلاف ورزی کا کوئی اندیشہ نہ ہو تو کسی شخص کو گرفتار نہ کیا جائے۔ اگر ہم دیگر معاملات میں ایسا نہیں کہہ سکتے تو سیاستدانوں کے معاملہ میں کیسے کہہ سکتے ہیں۔
