یہ میرا آخری الیکشن ہے:سدرامیا

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔یہ میرا آخری الیکشن ہے ،اس کے بعد میں الیکشن کی سیاست میں قدم نہیں رکھونگا،لیکن میں سیاست سے کنارہ کشی نہیں کرونگا۔اس بات کااظہار سابق وزیر اعلیٰ سدرامیانے کیاہے۔انہوں نے ایک اخبارکو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ سال 2013 میں ہی میرا آخری الیکشن ہونا تھا ، لیکن وزیر اعلیٰ ہونے کی وجہ سے میں نے اپنے فیصلے کو رد کردیاتھا۔بی جے پی ریاست میں فرقہ وارانہ سوچ رکھ کر حکومت کررہی ہے،اس دفعہ بی جے پی کو سبق سکھانے کیلئے دوبارہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیاہے،میرا بیٹا یتیندربھی میرے لئے کام کررہاہے،یہ میرے لئے خوشی کی بات ہے،اس سے پہلے میں نے کولارسے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیاتھا،لیکن ہائی کمان نے مجھے ورنا اسمبلی حلقے سے الیکشن لڑنے کی ہدایت دی تھی،اب پھر سے لوگ کولار اسمبلی حلقے سے امیدوار بننے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایاکہ بی جے پی نے مسلمانوں کا حق چھیناہے،لنگایت اور وکلیگا سماج کوجو ریزرویشن دیاگیاہے اس سے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے،لیکن مسلمانوں کا حق کیوں چھینا گیایہ میرے لئے ناقابل قبول بات ہے۔اگر ہماری حکومت اقتدارمیں آتی ہے تو ہم مسلمانوں کو چھینے گئے ریزرویشن کو واپس لوٹانے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ بھی کر ینگے۔1995 میں چننا ریڈی کمیشن نے مسلمانوں کو جس طرح سے ریزرویشن دینے کی سفارش کی تھی اُسی طرزپر ریزرویشن دیاجائیگا۔ریزرویشن کی شرح میں50 فیصد کو بڑھاکر لنگایت اور وکلیگا سماج کو ریزرویشن دیاجاسکتاتھا لیکن بی جے پی حکومت نےایسا نہ کرتے ہوئے مسلمانوں کاحق چھیناہے اور مسلمانوں کاحق چھین کر ریاست میں تعصب کی فضاء کو عام کیاہے۔