حج اخراجات میں اضافہ کے خلاف بھوپال میں مسلمانوں کا احتجاج

نیشنل نیوز

بھوپال:۔ریاست مدھیہ پردیش کے بھوپال اور اندور دونوں مقامات کے درمیان حج اخراجات کا مسئلہ اب بھی جوں کا توں ہے۔ ممبئی اور بھوپال یا اندور سے روانگی کے لئے حاجیوں کو جو بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے وہ اب ممبئی ایمارکیشن پوائنٹ کے انتخاب سے ظاہر ہو رہی ہے۔ فی الحال آخری وقت میں اٹھائے گئے اس مطالبے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ امبارکیشن پوائنٹ کو تبدیل کرنے کے مطالبے کے درمیان یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو آنے والے دنوں میں ریاست کے امبارکیشن پوائنٹس پر تالہ بندی ہو سکتی ہے۔حج کے درخواست دہندگان کی ایک بڑی تعداد حج کمیٹی کے چیئرمین رفعت وارثی سے ملاقات کے لئے پہنچی جنہوں نے سفری مقامات کو تبدیل کرنے یا حج اخراجات میں کمی کا مطالبہ کیا۔ لیکن حج کمیٹی کے صدر کے نہ ملنے پر حج کمیٹی کے سی ای او سید شاکر علی جعفری سے ملاقات کی اور اپنی بات رکھی۔ حج کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے بات کرتے ہوئے سی ای او نے پورے معاملے کو سنجیدگی سے سنا اور عازمین حج کے مسائل کو حکومت اور سینٹرل حج کمیٹی تک پہچانے کی یقین دہانی کی۔اس موقع پر شاہد علی نے کہا کہ سنٹرل حج کمیٹی کی جانب سے مختلف ایئرلائنز کو دیے گئے ٹینڈر کے مطابق ملک کی مختلف ریاستوں سے حج کے اخراجات میں کافی فرق ہے۔اس کی وجہ سے ریاست کے حاجی بھاری رقم اضافی ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حج کی درخواست کے وقت اخراجات کا انکشاف نہ کرنے کی وجہ سے حاجیوں نے ممبئی کے بجائے اندور اور بھوپال امبارکیشن پوائنٹس کا انتخاب کیا ہے۔ لاگت کے بڑے فرق کی وجہ سے وہ اب ایمارکیشن پوائنٹ کی تبدیلی کے لئے درخواست دے رہے ہیں۔