فتح ہو ئی ، خوشی ہوئی لیکن ذمہ داری بھی بڑھی ہے !!

ایڈیٹر کی بات نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
کرناٹک کے اسمبلی انتخابات کے نتائج میں کانگریس پارٹی نے تاریخی فتح حاصل کی ہے اور اس فتح کا سہرا جہاں کانگریس پارٹی کے لیڈروں کا جاتا ہے وہیں اس ریاست کے ہوشمند ووٹرو ں کو بھی جاتاہے، ،کانگریس کی فتح کسی ایک مذہب ، ذات یا گروہ کی نہیں ہے بلکہ یہ اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔کانگریس کی اس جیت کے بعد ریاست و بیرونی ریاست میں یہ پیغام عام ہوچکاہے کہ بی جے پی کو شکست دینے کے لئے متحدہ کوششوں سے ہی کام کیا جاسکتاہے ورنہ نہیں ۔ دوسری طرف اس کامیابی کے بعد خوشی کا اظہار کرنے اور جشن منانے کا جو طریقہ اختیار کیا جارہاہے وہ نہایت تشویشناک ہے خصوصاً مسلمانوں کی جانب سے جو رویہ اختیار کیا جارہا ہے وہ دوسری قوموں ، خاص طورسے ہندو پرستوں میں تعصب کی آگ کو بھڑکانے کیلئے مواد بنتا جارہاہے ۔ کئی ایسے پوسٹ جس میں  غیروں کو گندے الفاظ ، گندی گالیاں اور طنز کی وجہ سے سنگھیوں کے درمیان منفی تاثر دے رہاہے ۔یہ جیت کانگریس یا مسلمانوں کی جیت نہیں ہے بلکہ یہ جیت جمہوریت کی جیت ہے اور جمہوری نظام میں ایسا ہوتا ہی رہاہے ۔ دیکھا یہ جارہا ہے کہ سوشیل میڈیا میں کئی اہل علم حضرات ، مسلم نوجوان کانگریس کی کامیابی کو اس طرح سے پیش کررہے ہیں جیسا کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت نہیں بلکہ خلافت قائم ہوچکی ہے ۔ بعض واٹس گروپس میں تو کھلے عام یہ کہا جارہاہے کہ اب تو بڑے کا گوشت آسانی کے ساتھ مل جائیگا ۔ دوکانوں کو کھولنے سے کوئی نہیں روکے گا ، کوئی یہ کہہ رہاہے کہ اب ودھان سودھامیں نماز پڑھنے سے کوئی نہیں روکے گا، کوئی ٹیپوسلطان کی جینتی کا مطالبہ کررہاہے تو کوئی فجر کی اذان پر لگی ہوئی پابندی کو ہٹانے کیلئے ویڈیو بنارہاہے ۔ یہ سب کام تو ظاہری ہے اس پر کانگریس پارٹی بھی فی الوقت کھلے الفاظ میں کچھ نہیں کہے گی نہ ہی ان قوانین میں تبدیلی لائیگی کیونکہ کانگریس کو4 202کے پارلیمانی الیکشن کا مقابلہ بھی کرنا ہے ایسے میں وہ ہر گز بھی فرقہ پرستوں اور بھاجپائیوں کو یہ موقع نہیں دیگی کہ وہ کانگریس کے ان فیصلوں پر انگلی اٹھاسکے ۔ اس وقت کانگریس کی کامیابی کو ہی مسلمان آخری منزل نہ بناتے ہوئے حکمت سے کام لے اور اگلے دنوں میں ایسے مطالبات حکومت کے سامنے خاموشی کے ساتھ رکھے جس سے مسلمانوں کو فائدہ ہو نہ کہ نقصان ۔ 2بی ریزرویشن کی بات ہی لیں ، مسلمان کھلے عام اس پر بات کرنے اور تبصرے کرنے کے بجائے باطنی طورپر حکمرانوں کے سامنے مطالبہ کریں جو کا اثر زیادہ ہوگا۔ سوشیل میڈیامیں گھنٹوں ایسے مسائل پر بحث کرنے کے بجائے بنیادی مسائل کی فہرست بنائیں اوراپنے اپنے علاقوں کے یم ایل اے کے سامنے پیش کریں اور انکی گل پوشی و شال پوشی کو ترجیح دینے کے بجائے مسائل کے حل کے لئے متحرک ہوجائیں ۔ مسجد کی دیوار ، قبرستان کی جگہ ، مزارات کے عروسوں میں مہمان بن کر آنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے مسلمان جسٹس سچر کمیٹی ، جسٹس منڈل کمیشن ، سودھیر کمیشن کی رپورٹ کے تحت مسلمانوں کیلئے تعلیمی ، سماجی ، سیاسی اور معاشی حق پوچھیں ۔ یہ مسلمانوں کیلئے اہم ضرورت ہے ۔ ورنہ مسجد کا کمپائونڈ ، قبرستان کے انٹرلاک ٹائلس اور وضوخانوں کے لئے مسلمانوں کے چندے ہی کافی ہیں ۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تبھی جاکر مسلمانوں کو کانگریس کی جیت کا صحیح فائدہ ہوگا ورنہ پچھلے 70 سالوں سے جو حال رہا وہی حال اب بھی باقی رہے گا ۔