شیموگہ:۔مختلف ریاستوں میں اس وقت جو فرقہ وارانہ حالات پیدا ہوئے ہیں اور جگہ جگہ پر شدت پسند تنظیمیں مسلمانوں کونشانہ بنارہے ہیں اس پر شیموگہ ضلع میں بھی عام لوگوں کا بھی یہ سوال اٹھ رہاہے کہ اگر کل کے دن کچھ ہواتو کون مظلوم مسلمانوں کا رہبربنے گا،کون مسلمانوں کی قیادت کریگا؟۔یہ سوال تو سب پوچھ رہے ہیں لیکن جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔اس وقت شیموگہ شہرکی ہی بات کی جائے تو یہاں پر مسلم متحدہ محاذ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی موجودہے،لیکن دونوں ہی کمیٹیاں پہلے تو محدود افراد پر مشتمل ہیں تو دوسری بات یہ ہے کہ دونوں کمیٹیوں میں شہرکےذمہ داران ہوتے ہوئے بھی اتحاد نہیں ہے ۔ اتحا دسے محروم کمیٹیاں کل کےدن پورے مسلمانوں کی نمائندگی کس طرح سے کرینگی یہ سب سےبڑاسوال ہے؟۔ جب بھی قدرتی آفات آتے ہیں ،جب بھی فرقہ وارانہ تشدد کے معاملات پیش آتے ہیں اُس وقت شہرکے مسلم قائدین سرجوڑکر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر کچھ کام کرجاتے ہیں۔لیکن مستقل طو رپر ان کمیٹیوں کاوجودہی نہیں رہتا۔شیموگہ مسلم متحدہ محاذ کا عمل 2010 میں ہواتھا،اس کے بعدطویل عرصے تک اس کی کوئی قانونی شکل ہی نہیں بنی تھی،جب قانونی طو رپر اس کا رجسٹریشن ہواتھاتو یہ اعادہ کیاگیاتھاکہ محاذکے اراکین میں اضافہ کرتے ہوئے اسے مرکزی شکل دی جائیگی ، یہ کام آج تک پورانہیں ہوسکا۔اسی طرح سے بھدراوتی کی بات کی جائے تو وہاں پر بھی انجمن کا بٹوارا ہوچکاہے،قانونی طور پر تمام مساجدکے ذمہ داروں نے مل کرجس انجمن کو تشکیل دی ہے وہی قانونی حیثیت رکھتی ہے مگر کچھ لوگوں نے علیحدہ ڈوپلیکٹ انجمن بنارکھی ہے۔اسی طرح سے ضلع کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی متحدہ نمائندگی ہی نہیں ہے اور جو تنظیمیں وادارے موجود ہیں،وہ مسلمانوں کے سماجی،اقتصادی اور معاشی تحفظ کو بنیاد بنانے کے بجائے محض رمضان میں راشن کٹ تقسیم،بارش میں کپڑوں کی تقسیم، اپریل میں اجتماعی ختنوں کا اہتمام،شادی بیاہ میں لال جوڑا نماز کا جوڑا اور قرآن کی تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ مسلمانوں نے سنگین حالات میں نمٹنے کیلئے کیا تیاریاں کررکھی ہے۔ان کے پاس کتنے بیت المال ہیں، فوری طور پرجواب دینے ،حکومتوں سے رابطہ کرنے، حکمرانوں کے ساتھ رابطہ کرنے کیلئے کتنے مخلص نمائندے موجود ہیں؟۔بعض علاقوں میں لیڈرنما دلال موجودہیں اور کچھ مخبر۔ان کی بنیادپر مسلمان قوم کے مستقبل کو دائوپر لگانے کیلئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان فوری طورپر مستقبل کیلئے ہر علاقے میں محلہ شہرتعلقہ اور ضلعی سطح کے نیٹ ورک کی بنیادپر مضبوط تنظیموں کی تشکیل دیں،ورنہ داستاں نہ رہے گی داستانوں میں اور دلالوں کے ہاتھ رہیں گے قوم کے خزانے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
