پولیس محکمہ کا بھگواکرن برداشت نہیں کیاجائیگا:ڈپٹی سی ایم شیوکمار

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ کیا پولیس محکمہ کو بھگوا کرن کرنے چلے ہیں؟ ہماری حکومت میں اس کیلئے کوئی موقع نہیں ہوگا۔ منگلورو ، وجئےپورا، باگلکوٹ میں تم لوگ بھگوا کپڑے پہن کر محکمہ کی ہتک کیا جانا ہمیں پتہ ہے ، ویسے اس میٹنگ کیلئے بھی بھگواشال پہن کر آسکتے تھے۔ اگر ملک کا احترام کرتے ہیں تو قومی ترنگا لے کر کام کرسکتے تھے۔ ہماری حکومت پولیس محکمہ کو بھگواکرن کرنے نہیں دیگی۔ نومنتخب نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں بنگلورو میں محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران کے ساتھ منعقدہ میٹنگ میں اعلیٰ پولیس افسران کو آڑے ہاتھوں لیتےہوئے انہیں انصاف کےساتھ کام کرنے کی ہدایت دی۔مزید انہوں نےمحکمہ پولیس کی بدتر کارکردگی پر ناراضگی اور بیزارگی کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ پی ایس آئی عہدوں کی غیر قانونی بھرتی میں ایک اے ڈی جی پی OMRپیپر میں ترمیم کرتا ہے تو سمجھ لیجئے محکمہ پولیس کس حد تک بدنظمی کا شکار ہوگیا ہے۔پورے ملک میں کرناٹکا کے محکمہ پولیس بہت مشہور تھالیکن اس عزت، احترام کوآپ لوگوں نے برباد کیا ہے۔ انہوں نےکہاکہ عوام نے ہمیں بڑی امیدوں کے ساتھ ایک بڑے بدلاؤ کے لئے منتخب کیا ہے اور اعتماد کیا ہے۔ یہ کام محکمہ پولیس سے ہی شروع ہونا چاہئے، ہماری حکومت کے ذریعے عوام کو پیغام جائے کہ تبدیلی ہورہی ہے۔ آپ لوگوں سے ہمیں ایک پیسہ کی ضرورت نہیں ہےاور تمہیں کسی اور کو پیسہ دینےکی ضرورت بھی نہیں ہے۔ عوام کو تکلیف نہ ہو، پریشان نہ ہوں ایسا کام کریں تو کافی ہے۔ اس سے پہلے آپ نے جس طرح کا سلوک اپنایا ہے وہ ہماری حکومت میں نہیں چلے گا۔نائب وزیر اعلیٰ شیوکمار نے کہاکہ ریاست میں جب پے سی ایم مہم چلی تھی تو اس وقت میرے اور سدرامیا جی کے ساتھ آپ نے کیسا برتاؤ کیا ہے ہمیں پتہ ہے۔ ہم پر کئی کیس درج کئے، ہماری کارکنان پر جھوٹے ہزاروں کیس درج کئے گئے۔ جب مجھے اور سدرامیا کو ہی تم نے نہیں چھوڑا تو پھر عام عوام کو چھوڑیں گے ؟ ۔شیوکمار نے سختی برتتنے ہوئےکہاکہ سدرامیا کو ٹیپو سلطان کی طرح مارڈالنے کا بیان دیتےہوئے قتل کی اپیل کرنے والے کے خلاف تم نے کیوں کیس درج نہیں کیا ؟ کیا وہ جرم نہیں تھا؟ تم نےکیاکیا ہے اس کے سبھی ثبوت ہمارے پاس ہیں، ہم سب واچ کررہے ہیں۔ ہم چاہتےہیں کہ تم خود بدلو، اپنے رویے کو بدلو، ورنہ تمہیں ہی بدلا جائے گا۔ ہم نفرت و دشمنی نہیں کریں گے اور نہ ہمیں اس پر یقین ہے۔ پرانی باتوں کو بھول جاؤ، تبدیلی کے راستے پر چلو، نئے طورپر کام کی شروعات کرو، عوامی اعتماد کی حفاظت کرو، ایمانداری کے ساتھ کام کریں گے تو ہم تمہارےساتھ ہیں۔ عوام حکومت پر اعتماد کرتی ہے اس کو باقی رکھیں۔ محکمہ پولیس  کی کارکردگی سے عوام میں یہ واضح پیغام جائے کہ اسی حکومت کے ذریعے تبدیلی ہوگی۔