ظلم وفرقہ پرستی کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہوگا: مولانا محمود مدنی;  بلڈوز چلانا ہے تو نفرت کی دوکانوں پرچلائیں: مولانا تنویر ہاشمی

اسٹیٹ نیوز
بنگلورو:۔اگر اس ملک کی ترقی مقصود ہے تو ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والوں اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر کے حقوق ملنے چاہئے۔ جب تک اس ملک میں امن قائم نہیں ہوگا اور انصاف کی بالادستی نہیں ہوگی اس وقت تک ملک کی ہمہ جہتی کامیابی ممکن نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار 21؍ اگست بروز منگل ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام کے مشہور شہر گوہاٹی میںمنعقدہ’’ امن وانصاف کانفرنس‘‘ میں ایک جمِ غفیر سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء ِہند کے صدر مولانا سید محمود اسد مدنی نے کیا۔ آپ نے مزید فرمایا کہ یہ ہمارے ملک کے لیے خوشی کی بات ہے کہ چندراین3 چاند پر پہنچنے والا ہے، مگر بے حد افسوس کا مقام ہے کہ زمین پر رہنے والوں پر ظلم وزیادتی ونا انصافی کی جارہی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو پیغام دیتے ہوئے مولانا مدنی صاحب نے فرمایاکہ اب شکوہ وشکایت کرنا چھوڑدیں میدان عمل میں سرگرم ہوجائیں اور مسائل ومصائب کا مقابلہ کرنے کی اپنے اندر صلاحیت پیدا کریں۔ جماعتِ اہلِ سنت کرناٹکا بنگلور کے صدر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا سید محمدتنویر ہاشمی نے شرکائِ کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ پچھلے دس سالوں سے مسلسل فرقہ پرستوں کی جانب سے دیش کو توڑنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے حالات میں گوہاٹی آسام کے مسلمان مبارکباد کے مستحق ہیں کہ آپ لوگوں نے امن وانصاف کانفرنس کا انعقاد کرکے اور اس شہ نشیں پر ہندو مسلم سکھ عیسائی مذہبی رہنمائوں کو مدعو کر کے پورے ملک کو یہ پیغام دیا ہے کہ گنگا جمنی تہذیب والایہ ملک اتنا کمزور نہیں ہے کہ یہ توڑا جائے۔ ہمارا ملک بہت عظیم اور مضبوط ہے اس لیے کہ اس ملک کی آزادی اور ہمہ جہتی ترقی میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کی قربانی اور تعاون شامل ہے، بلکہ مسلمانوں کا سب سے زیادہ تعاون رہا ہے۔ دورانِ خطاب مولانا تنویر ہاشمی نے یہ بھی فرمایا کہ چند سالوںسے وطنِ عزیز میں بات بات پر بلڈوزر چلائے جانے کے واقعات رونماہورہے ہیں ، مسلمانوں کے مکانوں اور دوکانوں کو نشانہ بناکر بلڈوزر چلا یا جارہاہے ، یہ نا صرف غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔ جبکہ ہمارے ملک میں عدلیہ موجود ہے۔ آپ نے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر بلڈوزر چلانا ہی ہے تو نفرت کی دوکانوں پر چلائیں، فرقہ پرستی کے مکانوں پر چلائیں، بے روزگاری کے بازاروں پر چلائیں، مہنگائی کے دفتروں پر چلائیں۔ یاد رکھیں کہ نفرت کبھی کامیاب نہیں ہوتی ہے۔ تاریخ شاہد عدل ہے کہ ہمیشہ جیت محبت کی ہی ہوئی ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ قیام امن وانصاف کے لیے برابری کے حقوق لازم ہیں، اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔ سید سعادت اللہ حسینی امیرِ جماعتِ اسلامی ہند نے اپنے مبسوط خطاب میں فرمایا کہ نفرت کے خاتمہ کے لیے اس ملک میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے متحد ہوکر جد وجہد کرنا ضروری ہے۔ اللہ کے ملک اور اللہ کی زمین پر عدل وانصاف اور قیامِ امن کے لیے ہر حال میں مسلمانوں کو کھڑا ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ ہم خیرامت ہیں ۔ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے اندر بیداری پیداکرتے ہوئے انہیں انسانی حقوق کی جانب متوجہ کرائیں اور اس ملک میں آگ لگانے والوں کو جواب دینے کے لیے ہمیں پانی کا کام کرناہوگا۔ مسلمانانِ ہند کی یہ بھی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ وہ باہمی اتحاد کے ساتھ اس ملک کی ضرورت بنیں اور اپنے ہم وطن بھائیوں کے ساتھ تعلقات خوش گوار بنائیں۔ اس امن وانصاف کانفرنس کے پیغام کو پورے آسام بلکہ پورے میں پہنچائیں ۔ اس تحریک کو آگے بڑھائیں اور کوشش کریں کہ ہر طرح کے مثبت کام میں حصہ لیں اور ہرطرح کے منفی کاموں سے گریزکریں۔ جمعیت علماء ہند آسام کے صدر مولانا بدر الدین اجمل نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد ملک کے باشندوں کو امن وانصاف بھائی چارہ اخوت ومحبت کا پیغام دینا ہے کہ ہم سب ہندوستانی ہیں اور ہندوستان کی ترقی وخوشحالی سارے ہندوستانیوں کی ترقی و خوشحالی میں پوشیدہ ہے۔ ایک بڑے طبقہ کو پریشان وہراساں کرکے ملک کی ترقی وخوشحالی کیسے ممکن ہوگی۔ مولانا اجمل نے خصوصی طورپرفرمایا کہ ہمارے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے فتنے اور ہرطرح کے ردِ عمل سے بچنا چاہئے۔ امن وانصاف کانفرنس کو مولانا فہد رحمانی، مجتبی فاروق اور دیگر مذاہب کے رہنمائوں نے مخاطب کیا اور اپنے زرین خیالات کا اظہار فرمایا۔ واضح ہو کہ یہ کانفرنس تمام مکاتبِ فکر کے اکابر علماء و ذمہ داروں کی سرپرستی میںمنعقد کی گئی تھی۔ میزبانی کے فرائض جمعیت علماء ہند آسام نے بڑے حسن وخوبی کے ساتھ انجام دیئے۔ اس کانفرنس میں ہزاروں کی تعداد میں فرزندانِ توحید کے علاوہ ہم وطن بھائی بھی بڑی تعداد میں شریک رہے۔ آخرمیں جمعیت کے ذمہ داروں نے شرکائِ کانفرنس کا شکریہ ادا کیا۔