چراغ تلے اندھیرا

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

سیلاب ہو یا طوفان،زلزلے ہویا فسادات ،مسلمانوں کی مددکرنے کیلئےجمعیۃ علما ہند (ا۔م)جمعیۃ علماہند(م۔م)سمیت ملک کے مختلف علما تنظیموں کی جانب سے باقاعدہ طور پر چندے اکٹھے کئے جاتے ہیں اور مالی امداد پہنچانے کیلئے ایک بڑے پیمانے پر مہم چلائی جاتی ہے،اس سے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی استفادہ کرتے ہیں۔علما کی یہ تنظیمیں ملک میں نمائندہ تنظیمیں کہلاتی ہیں۔کئی سیاسی پارٹیاں اب تک انہی علما تنظیموں کے اشاروں پر کام کرتے رہے ہیں اور کئی موقعوں پر یہ علما تنظیمیں گنگاجمنا تہذیب کو بحال رکھنے کیلئے باقاعدہ طور پربڑے بڑے جلسوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔اصلاح معاشرہ،اتحا بین المذاہب،اتحاد ملت کے عنوانات پر بھی بڑے جلسوں کا انعقادہواہےاور ملت اسلامیہ نے ان جماعتوں کی آواز پر ہمیشہ لبیک کہاہے۔لیکن اس وقت کوروناکی وباکے دوران کم وبیش ہر طبقہ پریشان ہے۔غریب تو غریب متوسط گھرانے کے لوگ بھی ان مسائل کا شکارہورہے ہیں،کئی مقامات پر بھوک وتنگ دستی کی وجہ سے خودکشیوں کی وارداتیں بھی سامنے آرہی ہیں۔حال ہی میں کرناٹک کے ایک گائوں میں ایک عالم دین کا بروقت اور بہتر علاج نہ ہونے کی وجہ سے انتقال ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔جب تک عالم زندہ ومریض تھے اُس وقت تک حضرت کی مددکیلئے کوئی آگے نہیںآیاتھا،لیکن جب ان کاانتقال ہواتو ان کی میت ان کے آبائی شہر کو پہنچانے کیلئے قریب ایک لاکھ روپئے خرچ کیلئے مخیر حضرات سامنے آئے۔اسی طرح سے ایک عالم دین نے ہمارے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم اس وقت نہایت بدحالی کی زندگی گذاررہے ہیں،مگر کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔مسجدوں میں امامت کرنے والوں کو تنخواہ دی جارہی ہے،لیکن وہ بھی آدھی تنخواہ مل رہی ہے۔سوال یہ ہے کیا انسان لاک ڈائون میں آدھا پیٹ ہی کھاناکھاتاہے۔سب لوگوں کو اپنی ضرورتیں یادہیں،لیکن علماء کی پریشانیاں کسی کے سامنےکوئی اہمیت نہیں رکھتی۔یہ بات صرف صرف ایک مولوی کی نہیں بلکہ کم وبیش تمام علماءکی یہی حالت ہے،سوائے مدرسوں کے مالکان اور مہتمم کے۔اب ہمارے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب ہماری جمعیۃ علماءہند،علماء کائونسل کے علاوہ دیگر تنظیمیں دوسروں کیلئے کام کررہے ہیں،لیکن خود علماء برادری کیلئے کیوں کام نہیں ہورہاہے؟پچھلے سال کوروناکی پہلی لہر کے دوران سے لیکر اب تک کئی علماءمعاشی تنگدستی کی وجہ سے شعبہ درس وتدریس اور امامت کی ذمہ دارایوں سے اپنے آپ کو دورکرتے جارہے ہیں،ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں علماء کی مزید تعداد درس وتدریس کے شعبے سے اپنے آپ کو علیحدہ کرلیگی۔جمعیۃ علماء ہندکے سربراہان مولاناارشد مدنی و محمود مدنی سے گذارش ہے کہ وہ اپنی برادری کے لوگوں کی طرف پہلے توجہ دیں،اس کے بعد گنگا جمنا تہذیب کی خاطر بین المذاہب جلسوں کا اہتمام کریں،کیونکہ یہاں چراغ تلے اندھیراہے،تو دوسروں کے گھروں کو کیسے اجالاکیاجائے۔

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327