کیا کرناٹک میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر مسلمان بڑے جانوروں کی قربانی دے پائینگے؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ریاست میں پانچ سات سالوں سے بڑے جانوروں کی قربانی کو لیکر مسلمان پریشان تھے، خصوصاً عیدالاضحیٰ کے موقع پر بڑے جانوروں کی قربانی کے دوران پولیس اور انتظامیہ کی سختی کی وجہ سے مسلمانوں کو پریشان ہوناپڑرہاتھا۔کرناٹکا حکومت نے سال2021 میں انسداد گائو کشی و تحفظ جانور قانون ایکٹ کو منظورکرتے ہوئے ریاست میں بڑے جانوروں کے ذبح پر سختی سے پابندی عائدکی تھی،اس قانون کونافذکرنے کے بعد ریاست بھرمیں بڑے جانوروں کونہ صرف ذبح کرنے میں دشواریاں ہورہی تھیں،بلکہ لانےلے جانےکے دوران بھی سنگھ پریوارکے غنڈوں کی جانب سے انجام دئیے جانےوالے پُر تشدد وارداتوں کا سامنا کرناپڑاہے،اس کے علاوہ کئی علاقوں میں بڑے جانوروں کے بازاروں پر بُراثر پڑاہے۔بی جے پی حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں پر توجہ بھلے ہی نہ دی گئی ہومگر گائوکشی کی روک تھام کیلئے بی جے پی نے ہر طرح کے حربوں کا استعمال کیاتھا۔گزشتہ دوسالوں سے مسلمان عیدالاضحیٰ کے موقع پر بڑے جانوروں کی قربانی دینے میں یاتو پوری طرح سے ناکام رہے،یاپھر چوری چھپے بڑے جانوروں کی قربانی دینے کیلئے مجبورہوئے۔اب ریاست میں کانگریس حکومت آنے کے بعد اس بات کا چرچہ ہے کہ حکومت بڑے جانوروں کی قربانی کیلئے منظوری دیگی۔بعض حلقوں میں یہ بحث ہورہی ہے کہ کانگریس حکومت نے بڑے جانوروں کی قربانی کیلئے اجازت دے چکی ہے۔دریں اثناء اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سدرامیا سمیت مختلف وزراء نے گائو کشی قانون پر نظرِ ثانی کرنے کی بات کہی ہے،لیکن اس پر اب تک پوری طرح سے فیصلہ نہیں لیاگیاہے،نہ ہی کابینہ میں اس تعلق سے کوئی بحث ہوئی ہے۔ممکن ہے کہ آنےوالے دنوں میں اس تعلق سے کوئی فیصلہ لیاجاسکتاہے یاپھر پارلیمانی انتخابات کو مدِ نظررکھتے ہوئےحکومت اس سلسلے میں خاموشی بھی اختیارکرسکتی ہے۔اگر کسی وجہ سے کانگریس پارٹی غیر رسمی طورپر بڑے جانوروں کی قربانی کے تعلق سے اشارہ دیتی بھی ہے تو ان حالات میں مسلمانوں کو بہت ہی محتاط ہوکر بڑے جانوروں کی قربانی کرنی ہوگی،جانوروں کی نمائش نہ کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کے مذہبی جذبات کوٹھیس پہنچائے بغیر احتیاط سےقربانی کو انجام دینے کی ضرورت ہے،ورنہ ہر عمل کا ردِ عمل آنےوالے دنوں میں آسکتاہے۔