بنگلورو:۔اولڈ پینشن اسکیم کو نافذکرنے اور نیو پینشن اسکیم کو منسوخ کرنے کیلئے کابینہ میں بحث کی جائیگی اور کوشش کی جائیگی کہ یہ فیصلہ بجٹ میں پیش ہو۔اس بات کی اطلاع وزیر اعلیٰ سدرامیانے دی ہے۔انہوں نے یہاں سرکاری ملازمین کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی جانب سے نافذکردہ پانچ گیارنٹیوں کو عوام تک پہنچانے کیلئے ملازمین کام کریں،ایمانداری کے ساتھ عوام تک ان منصوبوں کا فائدہ پہنچائیں۔ودھان پریشدکے سابق رکن وی ایس اُگرپا نےبات کرتے ہوئے کہاکہ سال2006 میں این پی ایس کوجاری کیاگیاتھا،جس کے ماتحت98.2لاکھ ملازمین ہیں،پینشن کی رقم کو این ایس ڈی ایل فنڈس میں جمع کی جارہی ہے،اسی رقم کا استعمال کرتے ہوئےوظیفہ یابی کے دوران ملنےوالی جی پی ایف کی رقم میں جمع کیاجائے،ساتھ ہی ساتھ ووٹ فار اوپی ایس تحریک میں شامل ہونے والے ملازمین پر ہورہی کارروائی کو ختم کیا جائے ۔ راجستھان،چھتیس گڑھ میں این پی ایس کوختم کیا گیاہے،اسی طرح سے کرناٹک میں بھی این پی ایس کو ختم کرتے ہوئے اوپی ایس جاری کیاجائے۔این پی ایس میں دستیاب 19 ہزار کروڑ روپئے حکومت ترقیاتی کاموں کیلئے استعمال کرے اور ملازمین کے حصے میں آنےوالے9 ہزار کروڑ روپیوں کا جی پی ایف میں تبدیل کیاجائے،اس کے علاوہ جو بقیہ10 ہزار کروڑ روپے کی جو رقم ہے اُسے حکومت سرکاری منصوبوں کیلئے استعمال کرسکتی ہے۔اس پر وزیر اعلیٰ سدرامیانے یقین دلایاکہ وہ اس سلسلے میں کابینہ کی نشست میں بحث کرینگے اورکوشش کرینگے کہ اس تعلق سے بجٹ میں اعلان ہو ۔ اس موقع ٹیچرس اسوسیشن ،کے پی ٹی سی ایل، ریونیو، ہیلتھ اور مختلف محکموں کے افسران موجودتھے۔
