ویکسین اورمسلمان

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327
اس وقت بھارت بھر میں کوویڈ سے عام لوگوں کو بچانے کے مقصد سے بھارت کی حکومت کوویڈ ویکسین دینے کیلئے مہم چلارہی ہے اس مہم کے مطابق بھارت کے ہر طبقے کے لوگ ویکسین حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ بڑ ے پیمانے پر لوگ ویکسین نیشن کیلئے اسپتالوںویکسین سنٹر اور ویکسین کیمپس کا رخ کررہے ہیں۔ لیکن ایک چیز یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد کورونا کے خطرات کو کم کرنے والی ویکسین کو لینے سے کترارہی ہےاور سوشیل میڈیا پر جاری ہونے والے بے معنی اور احمقانہ ویڈیوز کو دیکھ کرلوگ اس ویکسین کو لینے سے کترارہے ہیں۔ دراصل مسلمانوں کی اسطرح کی سوچ آنے والے دنوں میں خود انکے لئے نقصانات پیدا کرسکتی ہے۔ کئی لوگ اب بھی اس بات پر اعتماد نہیں کررہے ہیں کہ کورونا کی بیماری حقیقت میں موجود ہےاور اس بیماری سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ احتیاطی انجکشن کا لینا بھی ضروری ہے۔ کوویڈ سےبچنے کیلئے یقیناً ویکسین آخری دوا نہیں ہے لیکن کوویڈ سے ہونے والے زیادہ نقصانات سے بچنے کیلئے ویکسین کارآمد مانی جاسکتی ہے، جس تیز اورشدت کے ساتھ آج کوویڈ سے متاثر ہونے والے لوگ نقصانات اٹھارہے ہیں ،ویکسین نیشن کے بعد یہ نقصانات کافی حدتک کم ہوجائیںگے۔بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کورونا کا ویکسین لینے کے بعد بھی لوگ کیوں مررہے ہیں۔ تحقیق وجانکاری کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسطرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ان غلط فہمیوں کا شکار صرف ان پڑھ یا جاہل ہی نہیںبلکہ تعلیم یافتہ طبقہ بھی ہے۔ یہ لوگ سمجھ رہے ہیںکہ کورونا سے متاثر ہونے والے لوگوں پر حکومت تجربے کررہی ہے۔ سوال یہ ہےکہ اب تک بھارت میں 20 کروڑ سے زائد لوگ ویکسین لے چکے ہیںاور اس میں سے شائد ہی کوئی ویکسین کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔ اگر ویکسین کی وجہ سے ہلاکت ہوئی ہوتی تو یقیناً اب تک اس مہم کو روک دیا گیا ہوتا، بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں آبادی ختم کرنے کیلئے ویکسین کا استعمال کیا جارہا ہے اورلوگوں کو انجکشن دیکر مارا جارہا ہے ۔ اگرواقعی میں حکومت کو مارنا ہی ہوتا تو اتنا قیمتی انجکشن اوراتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کو بلا کر بٹھاکر انجکشن دیکر مارنے کی کیا ضرورت تھی۔ کوئی بم یا بارود کے دھماکے سے ایک ہی جھٹکے میں مارا جاسکتا تھا۔ یقیناً موت حیات اللہ کے ہاتھوںمیں ہے۔ لیکن موت وحیات کو اللہ کے بھروسے پر چھوڑنے کے ساتھ ساتھ اللہ کی بتائی ہوئی حکمت کو بھی اپنانا ہوگا، جان بوج کر جان کو جوکھم میں ڈالنا خود کشی کہلاتی ہےاورخود کشی اسلام میں حرام ہے۔ کئی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس وقت کورونا کا ویکسین نہیں لینا چاہئے، ابھی اورکچھ دن انتظار کرلیںگے جب انجکشن کاتجربہ سب پر کامیاب ہوجائےگا تب جاکر ہم انجکشن لیںگے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے اس ویکسین کو لینے کے بعد فوری طورپرجسم میں قوت مدافعت ، یعنی ایمیونیٹی پاور نہیں بڑھتا بلکہ مرحلہ وار ایمیونیٹی سسٹم مضبوط ہوتا ہے، اس لئے بہتر ہے کہ لوگ کورونا کی تیسری لہر آنے سے پہلے یا کورونا کی وجہ سے حالات مزید بدتر ہونے سے پہلے ویکسین لے لیں، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ روزانہ کم ہورہے کیسس کی بنیا د پریہ سمجھ رہے ہیں کہ اس لئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کورونا ختم نہیں ہورہا ہے بلکہ ان لوگوں کو ختم کرچکا ہے جن کے پاس کورونا سے لڑنے کی طاقت نہیں تھی، دیکھا ہوگا کہ کیسے پہلے مرحلے میں بزرگوںکی اموات دیکھی گئی، پھر اسکے بعد اس دفعہ نوجوانوں اورادھیڑ عمر کے لوگوں کو کورونا نے دوسرے مرحلے میں ختم کردیا، اب ماہرین نے پیشن گوئی کی ہے کہ اس دفعہ بچوں اور 45 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو متاثر کرنے والی کوروناکی تیسری لہر آئیگی۔ کورونا کوئی جادوئی کھلونانہیں بلکہ ایک ایسا وائرس ہے جو حالات اور جغرافیائی بنیادوں کے مطابق پھیلتا ہے اورپھر طاقتور بن جاتا ہے۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ انسانی تخلیق شدہ وائرس ہے تب بھی ہمیں اس سے بچنے کیلئے دوائی کا استعمال کرنا ہوگااور اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدائی عذاب ہے تب بھی اس عذاب سے بچنے کیلئے دوا اوردعائوں کا سہارا لینا پڑیگا۔ احادیث سے ثابت ہے کہ وباء سے بچنے کیلئے احتیاط ضروری ہے۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیںکہ یہ تو چین کا پیدا کردہ وائر س ہے اورہمیں دوائی نہیں لینی چاہئے تو یہ ہماری حماقت ہوگی اورہم یہ سمجھتے ہیں کہ مودی کی سازش ہے تو یہ بھی ایک طرح کی حماقت ہوگی ۔ہمیں مودی اورچین سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ اپنی زندگی بچانا اوراپنوں کے ساتھ رہنا ضروری ہے اوراس ضرورت کو احتیاط برتنے، ویکسین لگانے اورخداکو یاد کرنے سے ہی ممکن ہے۔