اڈپی نیجار مرڈر کیس : ملزم سنیپ چاٹ کے ذریعے پہنچا تھا آئیناز کے گھر؛ پولس نے مزید رازوں پر سے اٹھایا پردہ؛ تفتیش مکمل

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
اڈپی:۔ نیجار میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کو بیک وقت قتل کرنے والے ملزم پروین چوگلے کے بارے میں پولیس نے اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہے اور  اسے عدالت میں پیش کرکے جوڈیشیل کسٹڈی میں بھیج دیا گیا ہے۔چھان بین کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نے مقتولہ آئیناز کے گھر کا پتہ لگانے اور وہاں تک پہنچنے کے لئے سنیپ چاٹ ایپ کا استعمال کیا تھا اور آٹو رکشہ والے کو متعلقہ مقام تک اسے پہنچانے کیلئے رہنمائی کی تھی ۔ سنیپ چاٹ کے ذریعے نور محمد کے گھر تک پہنچنے کی جو بات معلوم ہوئی ہے اس بنیاد پر پولیس کا کہنا ہے کہ پروین نے پہلی بار نیجار تک کا سفر کیا تھا اور قتل کی واردات انجام دی تھی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے قبل یہ جو خبریں آئی تھیں کہ ملزم پروین چوگلے ایک ہفتے قبل آئیناز کے گھر آیا تھا اور اس نے سب کے سامنے آئیناز کو انگوٹھی پہنائی تھی، وہ سب جھوٹی تھیں ۔پولیس تحقیقات میں یہ بات بھی صاف ہوئی ہے کہ سنتے کٹّے سے آٹو رکشہ ڈرائیور کو نیجار کے تروپتی لے آوٹ میں واقع آئیناز کے گھر تک کا راستہ ملزم پروین چوگلے نے ہی بتایا تھا اور اس کے لئے اس نے ‘سنیپ چاٹ’ کا سہارا لیا تھا ۔ جب ایک مقام پر آٹو ڈرائیور راستہ بھول کر ذرا دور نکل گیا تھا تو ملزم چوگلے نے سنیپ چاٹ دیکھ کر ہی اسے رکشہ واپس لینے اور صحیح مقام تک پہنچنے کے لئے نشاندہی کی تھی ۔پتہ چلا ہے کہ پروین کی ہراسانی سے تنگ آ کر آئیناز نے اس کا نمبر بلاک کیا تھا ۔ مگر پروین کو معلوم تھا کہ آئیناز اس دن گھر پر موجود ہے اور رات کو دبئی جانے والی فلائٹ پر اس کی ڈیوٹی ہے اس لئے وہ صبح گیارہ بجے نیجار میں واقع گھر سے منگلورو کیلئے نکلنے والی ہے۔ اس لئے ملزم پروین چوگلے نے آئیناز کو گھر سے منگلورو کیلئے نکلنے سے قبل ہی ختم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ سنیپ چاٹ پر لوکیشن کے ذریعے ملزم پروین کو یقینی طور پر پتہ چل گیا کہ آئیناز گھر میں موجود ہے اور وہاں پہنچ کر اپنا منصوبہ انجام دینے میں کامیاب رہا ۔پولیس تفتیش کے دوران پتہ چلا ہے کہ چار افراد کے قتل کا ملزم پروین چوگلے ایک تربیت یافتہ پہلوان ہے اور اپنے گاوں میں وہ کشتی مقابلوں میں حصہ لیتا رہا ہے۔ جسمانی طور پر مضبوط ہے اور اپنے دفاع کا ہنر جانتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ اس نے صرف پندرہ منٹ میں بڑی بے دردی کے ساتھ نہ صرف چار افراد کا قتل کیا، بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھا کہ خود اس کو زخم نہ آئیں اور اس کے کپڑوں پر بھی زیادہ خون کے دھبے نہ لگیں اور پھر بھی اتنی بھیانک واردات انجام دینے کے بعد وہ بڑے آرام اور اطمینان کے ساتھ جائے واردات سے نکل بھی گیا۔ پولیس نے بتایا کہ منگلورو میں جس فلیٹ میں آئیناز اپنی بہن کے ساتھ کرایے پر رہتی تھی اس عمارت کے پاس قتل کے ملزم پروین چوگلے کا اسکوٹر پارک کیا ہوا ملا جسے پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔ اب پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا پروین نے یہ اسکوٹر آئیناز کو فروخت کیا تھا۔ کیا اس اسکوٹر کی ملکیت آئیناز کے نام پر ہے یا ابھی وہ پروین چوگلے کے نام پر ہی ہے، اس تعلق سے پولیس جانکاری حاصل کر رہی ہے ۔ نور محمد نے بتایا کہ اس وحشتناک واردات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اس دوران خود پر حملہ ہوتے ہی باتھ روم میں گھس کر دروازہ بند کرنے والی نور محمد کی والدہ ہاجرہ ابھی بھی صدمے میں ہے۔ زخمی ہاجرہ کا علاج منی پال کے اسپتال میں ہوا تھا اور وہاں سے ڈسچارج ہونے کے بعد انہیں کنداپور تعلقہ کے ہائکاڑی میں واقع ان کے گھر میں رکھا گیا ہے۔ اس وقت وہ واردات کی تنہا عینی شاہد ہے اور انتہائی دکھ اور صدمے میں ہے جس کی وجہ سے واردات کی زیادہ تفصیلات بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔واضح ہوکہ سنیپ چاٹ ایک ملٹی میڈیا انسٹینٹ میسیجنگ ایپلی کیشن ہے ۔ اس میں اپنے دوستوں کے تیزی کے ساتھ فوٹو میسیج بھیجے جاسکتے ہیں۔ دونوں افراد کے پاس اگر یہ ایپلی کیشن موجود ہے تو پھر فرینڈ شپ کی درخواست بھیجی جا سکتی ہے۔ اس پر موجود لوکیشن کے ذریعے اپنے دوستوں کے گھر یا درست مقام تک پہنچنا بالکل آسان ہوتا ہے۔ یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اپنا دوست اس وقت کس مقام پر موجود ہے۔ یا پھر دوستوں یا جاننے والوں سے اپنا لوکیشن چھپانے کے لئے لوکیشن ہائیڈ کرنے کی بھی سہولت ہوتی ہے۔