قربانی کا حقیقی مقصد اوراس کی حکمت

مضامین

از:۔مفتی محمد شوکت الامجدی ۔خطیب وامام جامع مسجد گلن پیٹ ..
10 ذی الحجۃ وہ تاریخی، مبارک اور عظیم الشان قربانی کا یادگار دن ہے جب امت مسلمہ کے مورثِ اعلیٰ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بڑھاپے میں عطا ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حکم الٰہی کی خاطر قربان کرنے کا ایسا قدم اٹھایا کہ آج بھی اس منشائے خداوندی کی تعمیل پر چشم فلک حیران ہے جبکہ دوسری طرف فرمانبرداری وجانثاری کے پیکر آپ علیہ السلام کے فرزندحضرت اسماعیل علیہ السلام نے رضا مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی گردن اللہ کے حضور پیش کر کے قربانی کے تصور کو ہمیشہ کے لئے امرکرنے کا ایسا مظاہرہ کیا کہ خود ’’رضا‘‘ بھی ورطہ حیرت میں مبتلا ہوگئی۔ان دونوں کی فرمانبرداری اور قربانی کو اسی وقت رب تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا اور آپ کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سلامتی کا پروا نہ عطا کر کے آپ علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا جسے رب تعالی نے ذبحِ عظیم قرار دیا ہے۔چنانچہ ارشادِباری تعالی ہے : وَفَدَيْنٰـهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ. (الصٰفٰت، 37: 107)اور ہم نے عظیم قربانی کا فدیہ دے کر اس کو بچا لیا۔
قربانی کی تاریخی اہمیت پر قرآن حکیم کی یہ آیت دلالت کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
وَلِکُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّيَذْکُرُوا اسْمَ اﷲِ عَلٰی مَا رَزَقَهُمْ مِّنْم بَهِيْمَةِ الْاَنْعَام۔اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کر دی ہے تاکہ وہ ان مویشی چوپایوں پر جو اﷲ نے انہیں عنایت فرمائے ہیں (بوقتِ ذبح )اللہ کے نام کا ذکرکریں۔ (الحج، 22: 34)۔مذکورہ بالاآیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی (قربانی) کو دوام بخشنے پر دلالت کرتی ہے کہ سابقہ تمام امتوں پر قربانی فرض تھی ۔اسلام کا تصور قربانی نہایت ہی پاکیزہ، اعلیٰ اور افضل ہے۔ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنت ابراہیمی یعنی قربانی کا جو تصور دیا وہ اخلاص اور تقوی پر زور دیتا ہے۔ قربانی اور تقوی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ عید الاضحی کے روز ہر مسلمان اس عظیم الشان قربانی کی یاد تازہ کرتا ہے جو رویائے صادقہ پر منشائے خداوندی سمجھتے ہوئے حضرت ابرہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے پیش کی تھی۔خلوص اور پاکیزہ نیت سے اللہ کی راہ میں دی گئی قربانی انسان کے دل میں غمگساری، ہمدردی، مخلوق پروری اور دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔قربانی کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور شیطانی قوتوں کو خائب وخاسر بنانا ہے۔ قربانی کی اصل روح انسان میں تقویٰ کو پروان چڑھانا ہے نہ کہ محض جانور قربان کر کے گوشت اور خون اس کی نذر کرنا ہے اور کئی ایام تک اسکا استعمال کرناہے..یاد رہے کہ قربانی کے ساتھ ساتھ اپنی ساری برایوں کا خاتمہ بھی اس کے ساتھ کردیں اور اپنے اندر جذبہ ایثار پیدا کریںاور ابراہیمی سنت کے مطابق دن کی خدمتگار بننے کی سعی بھی کریں۔