عربی زبان سیکھیں تاکہ قرآن و احادیث آسانی سے سمجھ سکیں:ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی
شکاری پور:۔مدرسہ مدینۃ العلوم شکاری پورمیں خلیل الرّحمان عمری مدنی کی آمد کے موقع سے عربی زبان کی اہمیت و افادیت پر ایک مجلس منعقد کی گئی۔ اس مجلس کی صدارت کے فرائض ادب اطفال کے قومی انعام یافتہ شاعر و ادیب اور مدرسہ مدینۃ العلوم کے ناظم ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے ادا کیے۔
اس جلسے میں مدرسہ کے مہتمم مولانا اظہر ندوی ، ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی، انیس الرّحمن نائب سرپرست ادارہ ہذا، ایچ کے فاؤنڈیشن کے صدر فیاض احمد ،عبداللہ بھائی سرسی ،ابوذر ،احتشام اور مدرسہ مدینۃ العلوم کے اساتذہ مولانا مفتی محمد شاہد، مولانا محبوب عالم ندوی، اور بہت سے دوسرے اساتذہ وطلبا کے علاوہ شہر کے معززین نے بھی شرکت کی۔
مہمان خصوصی اور خصوصی خطاب کار کی حیثیت سے خلیل الرّحمن عمری مدنی نے شرکت فرمائی۔ مجلس کا آغاز حسب دستور قرآن کریم کی تلاوت اور حافظ کرناٹکی کی نعت سے ہوا۔ مجلس کا تعارف کراتے ہوئے اور عنوان کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے کہا کہ زبان ام العلوم کی حیثیت رکھتی ہے، دنیا کے سارے علوم کسی نہ کسی زبان کے ہی توسط سے وجود میں آتے ہیں اور زبان ہی کے توسط سے پھلتے اور پھولتے ہیں۔ دنیا کی قدیم ترین زبانوں میں اور لسانی اظہار کی وسعت کے معاملے میں عربی زبان کا خاص مقام ہے۔ فصاحت اور بلاغت کے معاملے میں عربی زبان کا مقابلہ دنیا کی کوئی زبان نہیں کرسکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عربی اسلام کی زبان ہے۔ قرآن کریم کی زبان ہے۔ اسی لیے اللہ نے اسے آسان بنادیاہے۔ ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو کم زم کم اتنی عربی تو ضرور آنی چاہیے کہ وہ ام الکتاب یعنی قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھ سکے۔ عربی زبان کی اہمیت جہاں مذہب، اور دین کے اعتبار سے ہم مسلمانوں کے لیے سب سے بڑھ کر ہے وہیں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ بولنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے عربی دنیا کی تیسری سب سے بڑی زبان ہے۔ عربی زبان میں مہارت حاصل کرنے سے نہ صرف یہ کہ دنیاوی ترقی کی راہیں کھل جاتی ہیں بلکہ دینی اور روحانی فیضیابی کے وسیلے بھی بے حد آسان ہوجاتے ہیں۔ جناب خلیل الرّحمن عمری مدنی صاحب کی ذات والا صفات اس کی عمدہ مثال ہے جو آج ہمارے درمیان حاضر ہیں۔ہم سب کو عربی زبان کو اپنے رسول کریم اور اپنے دین کی وراثت سمجھ کر حفاظت کرنی چاہیے۔صدر جلسہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ؛ہمارے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ ہمارے درمیان ضیاء المیزان فی التعلیم القرآن کے مصنف خلیل الرّحمن عمری مدنی ، عتیق ، عبداللہ بھائی سرسی ،ابوذر ،احتشام اور دوسرے معزز مہمانان گرامی کے علاوہ اساتذہ، طلبا بڑی تعداد میں حاضر ہیں۔ عربی زبان کی جہاں بہت ساری انفرادیت ہے، اور اس کی لاتعداد خوبیاں ہیںوہیں اس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ جن لوگوں کو عربی زبان آتی ہے ان کی اردو بہت اچھی اور معیاری ہوتی ہے۔ اردو زبان کا خمیر عربی اور فارسی سے ہی اٹھاہے۔ اس لیے عربی سیکھے بغیر بہت ہی اعلیٰ درجے کی اردو سیکھ پانا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عربی کا جاننا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کا کلام اور نبی کریمﷺ کی احادیث کا خزانہ اسی زبان میں محفوظ ہے۔ اس زبان کی برکتوں کا بھلا کوئی کیا اندازہ کرسکتا ہے کہ اسی مقدس زبان میں اللہ نے اپنے محبوب حضرت محمدﷺ سے کلام فرمایا اور اسی زبان میں اپنا کلام محفوظ فرمایا۔ ذرا غور تو فرمائیے نماز جو دین کا ستون ہے وہ ازاوّل تاآخر یعنی اللہ اکبر سے لے کر السلام علیکم ورحمت اللہ تک عربی ہی زبان میں ہے۔ اگر ہم اپنی ہی پڑھی نمازوں اور نمازوں میں پڑھی جانے والی آیتوں اور سورتوں اور دعاؤں کا مطلب نہیں سمجھتے ہیں تو یہ کتنی بڑی محرومی ہے۔ اس لیے عربی زبان ضرور سیکھنی چاہیے۔ اردو بہت ساری زبانوں کی آمیزش سے بنی ہے۔ اس زبان کا صرف نحو اور صوت اور حرف و آواز عربی سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ اس لیے ہمارے لیے عربی قطعی مشکل نہیں ہے۔انہوں نے اساتذہ اور طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے طلبا سے عربی میں گفتگو کرنے کا ماحول بنائیے۔ طلبا سے کہا کہ آپ بلاتکلف عربی بولنے کی مشق کریں، آپ عربی زبان پر دسترس حاصل کرلیں گے۔
مولانا اظہر ندوی نے کہا کہ خلیل الرّحمان عمری مدنی عربی زبان و ادب کے ایک آئیڈیل ہیں۔ انہوں نے اپنی نیک نامی، ملنساری، اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پاسداری اور پاک طینتی کے ساتھ جس طرح مختلف شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں اور اپنی شناخت بنائی ہے وہ قابل قدر ہے۔ اور آپ جان لیجئے کہ آج جناب خلیل الرّحمان عمری مدنی صاحب جو کچھ بھی ہیں اس میں عربی زبان پر مہارت حاصل کرنے کا اہم رول ہے۔ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہمارے استاد اور مربی ڈاکٹر حافظ کرناٹکی صاحب عصر حاضر کے بڑے بڑے علماء، دانشور، اور اسکالروں سے ہمیں ملنے کے مواقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تقریروں سے فیضیاب ہونے کے مواقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے مدرسے کے بانی اور ناظم ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی محبت کا ثمر ہے کہ آج یہ مدرسہ دینی تعلیم کا گہوارہ بناہوا ہے۔ اور عربی زبان کے فروغ میں ہمہ وقت مصروف ہے۔ خلیل الرّحمان عمری مدنی کی کتاب ضیاء المیزان فی التعلیم القرآن کا تعارف سب سے پہلے استاد گرامی ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے ہی ہم سے کروایا تھا۔ انہوں نے اس کتاب پر ایک عمدہ تبصرہ کر کے ہمیں اس کتاب کی اہمیت اور خلیل الرّحمن عمری مدنی کی شخصیت سے متعارف کرایاتھا۔ اور آج ہم انہیں کی بدولت براہ راست خلیل الرّحمان عمری مدنی سے مل رہے ہیں اور ان کے کلمات سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے خلیل الرّحمان عمری مدنی اپنی کتاب’’ ضیاء المیزان فی التعلیم القرآن ‘‘کی رونمائی بھی کردی ۔ تاکہ اساتذہ و طلباء مستفید ہوسکیں۔
مدرسہ مدینۃ العلوم کے استادمولانا محبوب ندوی نے کہا کہ ہمارے ادارے کے سرپرست ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نہایت دوستانہ ماحول میں اساتذہ اور طلبا سے برتاؤ کرتے ہیں اور عربی زبان پر مہارت حاصل کرنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ خلیل الرّحمان عمری مدنی نے یہاں تشریف لا کر ہم لوگوں کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔
مہمان خصوصی خلیل الرّحمن عمری مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ زبانوں پر مہارت حاصل کرنا اور عربی زبان سے محبت کرنا ہماری تربیت اور تہذیب کا خاصہ ہے۔ میں نے تقریباً نصف صدی پہلے مدینہ یونیورسیٹی میں حصول تعلیم کے لیے داخلہ لیا تھا، فراغت کے بعد مختلف شعبوں میں خدمات انجام دی۔اور سچ پوچھیے تو عملی اور علمی دونوں زندگی میں مجھے عربی زبان سے بہت فائدہ پہونچا اس لیے میں نے اپنی عربی دانی پر مزید توجہ صرف کی آج میرے بہت سارے شاگرد ہیں جو عربی زبان پر اچھی دسترس رکھتے ہیں۔ ہم سبھی لوگوں کو اپنی مادری زبان اردو کی طرح عربی زبان سے بھی محبت کرنی چاہیے۔ اور اس پردسترس حاصل کرنے کے لیے محنتیں کرنی چاہئیں۔ قرآن کریم اور اللہ تبارک وتعالیٰ اور حضورﷺ سے محبت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہم عربی زبان سے بھی محبت کریں اور اسے اپنے دل میں عقیدت سے جگہ دیں۔ انہوں نے خوشی کا اظہارکیا کہ مدرسہ مدینۃ العلوم کے اساتذہ اور طلبا عربی زبان پر خصوصی توجہ کرتے ہیں اور کسی حدتک بول چال میں بھی عربی کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو ۳۵؍سالوں سے جانتا ہوں ان کی خدمات سے واقف ہوں اور ان کی شاعری کا مداح ہوں، ان کی نظمیں اخبار و رسائل میں پڑھتا ہوں تو بے ساختہ ان کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ اتنی اہم اور معتبر شخصیت کی سرپرستی میں یہ ادارہ یقینا ترقی کی نئی منزلیں سر کرے گا۔اللہ اس ادارے کو اور آپ سبھوں کو محفوظ و مامون رکھے۔
انجینیرمحمد عتیق شیخ بن عتیق انٹرنیشنل ٹورشیموگہ نے اساتذہ اور بچوں سے کافی دیر تک عربی زبان میں گفتگو کی، عربی زبان کی نزاکتوں، باریکیوں اور القاب و آداب کلام سے واقف کرایا۔ عربی صرف نحو کی مبادیات پر بھی روشنی ڈالی اور طرز تخاطب کا انداز بھی سکھایا۔یہ مختصر مگر جامع مجلس اساتذہ، طلبا اور زبان و ادب کے اسکالروں کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی۔ اس مجلس کا اختتام مفتی شاہد کے شکریہ کے ساتھ ہوا۔
