حکیم الاسلام ؒکی حیاتِ طیّبہ کے آخری تین سال اور آپ سے شرفِ صحبت

مضامین

۱۹۸۰؁ء کی بات ہیکہ ہندوستان کے مشرق و مغرب ،شمال وجنوب ہرطرف دارالعلوم دیوبند کے اجلاس صدسالہ کا شہرہ تھا اور ہرایک زبان پراسی کاتذکرہ تھا ،بڑے تزک واحتشام اور اعلٰی اہتمام کے ساتھ اس اجلاس کی تیّاریاں شروع ہوچکی تھیں ، عوام اور خواص کا طبقہ بڑی بے چینی سے اجلاس صدسالہ کا منتظر تھا ،آخر اس مبارک اجلاس کا وقت آہی گیا ،۲۳/۲۲/۲۱ مارچ ۱۹۸۰؁ء کی تاریخ کا اعلان ہوگیا ،ہندوستان ہی کیا ساری دنیاسے لوگوں نے دیوبند کا رخ کیا،اتنا عظیم الشان اجلاس دینی مدارس کی تاریخ میں کبھی ہوا نہ ہی دنیاکی کسی یونیورسٹی میں اس نوعیت کا اجلاس ہوا ،بظاہر مستقبل میں نہ اس کی امید کی جاسکتی ہے۔ بقول حضرت حکیم الاسلامؒ
بہر صورت ہوا اجلاس ایسا
ہواہوگا نہ اس دنیا میں و یسا
یہ دارالعلوم کی تھی ایک آواز
جو معنیً تھی خلیل اللٰہی آواز
عرب ہوں یا عجم، تھے محوِ پرواز
عجب تھا والہانہ اْن کا انداز
مختصر یہ چند اشعار نمونہ کے طور پر میں نے پیش کیا ہے ،حکیم الاسلام نے تو جلاس صدسالہ پر ۸۰؍ صفحات پرمشتمل طویل نظم’’ ارمغانِ اجلاس صد سالہ‘‘ کے نام سے لکھی ہے۔ اصل میں یہ اجلاس صدسالہ دارالعلوم دیوبند کی ۱۱۷سالہ دینی تعلیمی تدریسی تصنیفی اور دعوتی خدمات کا اعتراف تھا ،مستقبل میں نئے عزائم ،نئے پروگرام نئی جہت اور جدید اسلوب سے دارالعلوم دیوبند کی خدمات کو مزید عالمی اور بین الاقوامی طورپر پیش کرنا تھا ،اس اجلاس کا سب سے بڑا مقصد بلکہ اجلاس کا ماحصل کہنا بھی حق بجانب ہوگا کہ حضرت حکیم الاسلامؒ اور آپ کے جانشین وخلف الرشید حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ نے اجلاس صد سالہ کے فوری بعد ساری دنیا میں ایک ہزارمبلّغ دارالعلوم کی جانب سے مبعوث کرنے کا پروگرام تجویز کرلیا تھا اور ہر کنٹری میں اس کنٹری کی تہذیب وثقافت اور زبان وقلم پر اعلیٰ عبور رکھنے والے افراد کا تقرر دارالعلوم کی جانب سے کیا جا رہا تھا، تاکہ اسلامی دعوت ساری دنیا میں عام ہو، بہکی ہوئی اور راہِ راست سے ہٹی ہوئی انسانیت کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایاجائے، غیر مسلم اسلام میں جوق در جوق شامل ہوجائیں اور اسلامی دعوت جو دراصل عالمی ہے جسکو نبیِ خاتم ﷺ نے عالمی دعوت قراردیا اور خود بھی آپﷺساری دنیائے انسانیت کے پیامبر اور داعی کی حیثیت سے مبعوث کئے گئے تھے ۔کاش یہ تجویز کامیاب ہوجاتی تو دارالعلوم دیوبند کی اسلامی خدمات بڑی سرعت کے ساتھ براہِ راست ساری دنیا میں عام ہوجاتی ،باطل مذاہب کے ماننے والوں کی بڑی تعداد حلقہ ٔ اسلام میں داخل ہوجاتی اس طرح غیر مسلموں میں عالمی طور پر تبلیغ ِ اسلام کی اشاعت کاعلمبرداردارالعلوم دیوبند کو قرار دیا جاتا اور سارے علماء اور مدارس کی طرف سے اسلام کو پھیلانے کاجو فریضہ واجب تھا وہ فریضہ دارالعلوم دیوبند کی طرف سے ادا ہوتارہتا اور سارے علماء بروز ِ قیامت اللہ تعالیٰ کے یہاںدعوت ِ اسلامی کے فریضہ کے متعلق مسووّل نہ ہوتے ،مگر بدقسمتی اور ستم ظریفی کہئے کہ دقیانوسی،کوتاہ ذہنی ،قدیم روایتی ،خود غرضی ، پست ذہنی کے حامل افرادنے اجلاس صدسالہ کے اثرات کو بری طرح ختم کردیا اور اپنے ذلیل مقاصد کی تکمیل کیلئے دارالعلوم دیوبند کو حکیم الاسلام کی سربراہی سے محروم کرنے کے بعد صرف ایک ہی خاندان کی جاگیر داری کو مسلّط کردیا گیا اور دارالعلوم دیوبند کو دیگر مدارس کی طرح عام روایتی ادارہ بنادیا گیا ۔انّا للہ وانّا الیہ راجعون۔
حکیم الاسلامؒکے دورِ اہتمام کاآخری مرحلہ :
یہ مردِ مومن، اکابرِ دیوبند کا ترجمان،بانئیِ دارالعلوم دیوبند کا نسبی وعلمی جانشین جب دارالعلوم کے دفتر اہتمام کیلئے اپنے مکان "طیّب منزل ” سے ٹھیک صبح ۹؍بجے روانہ ہوتا ،”دیوان گیٹ "سے نکل کر”طیب مسجد "سے ہوتے ہوئے بابِ قاسم ” میں داخل ہوجاتا، د ا ہنی جانب مسجد قدیم کے زینہ سے بالآئی منزل کی بالکونی سے ہوتے ہوئے دفتر اہتمام میں داخل ہوجاتا .اپنی چال سے دوسرے بڑے اہل منصب کی طرح اتراتے ہوئے ، فخر وغرور کا اظہار کرتے ہوئے سینہ تان کر اپنے ہاتھوں کو ہلاتے ہوئے یااپنی لاٹھی کو لہراتے ہوئے نہیں بلکہ آپ کی نگاہیں نیچی ، گردن مبارک جس پر سارے دارالعلوم دیوبند کی اور دینی، تعلیمی، اصلاحی اوردعوتی ذمہ داری کابوجھ تھا جھکی ہوئی رہتی ،خراما خراما رفتارکے ساتھ روانہ ہوتا، گرمی کے موسم میں انتہائی سفید کُرتا پائجامہ ،کُرتا سیلف ڈیزائن کی نقش ونگاری سے مزیّن رہتا ،سر پر علم وحکمت کو ظاہر کرتی ہوئی اونچی دوپلّی ٹوپی ہوتی سردی کے موسم میں انتہائی نفیس گرم شیروانی اور شدت کی سردی میںاوپر سے خوبصورت ہلکی کمبل زیبِ تن کئے ہوئے ہوتے ،بلامبالغہ عرض کررہاہوں ایسا لگتا کہ کوئی وقت کا بادشاہ گزررہاہو ، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ہر شخص آپ کو گزرتے ہوئے بڑی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا ،سائیکل رکشہ والے جوں ہی حضرت کو گزرتے ہوئے دیکھتے دور ہی سے رکشہ روک کر عمیق نظروں سے دیکھتے ،ہوٹلوںمیں ناشتہ یا چائے پینے والے افراد ہوٹلوں کے باہر آجاتے اور آپ کو تکتے رہتے ، جب میرا پڑھائی کاوقفہ خالی ہوتا تو میں حضرت کے پیچھے ذرافاصلہ کے ساتھ اہتمام تک چلاجاتا۔یہ تھی حضرت کی مقبولیت کہ تھوڑی دیر کی زیارت کوبھی لوگ اپنی سعادت سمجھتے ،اسی طرح پنج وقتہ ًنمازکیلئے آپ طیب مسجد محلہ دیوان میں بیماری کی حالت میں بھی تشریف لے جاتے،بلا ناغہ نمازِ مغرب کے بعد دورکعت سنت سے فارغ ہوکر ایک طرف کنارے اوّابین کی چھ رکعت نماز اداکرتے اور مکمل ایک پارہ دھیمی آواز سے تلاوت فرماتے، یہ سلسلہ آپ کی جوانی سے لے کر صبح ِ موت تک جاری رہا ،اس کا ثواب اپنے والدین اور دادا،دادی اور دیگر اعزہ کو پہنچاتے ،میں بھی موقع کو غنمت جان کر پیچھے نیت باندھکر اقتدا کرتا بعد نماز جب حضرت کی نگاہ مجھ پر پڑتی تو فرماتے کہ "بھائی یہ تو مطالعہ کاوقت ہے جو ضروری ہے ” پھر میں حضرت کے ساتھ گھرتک جاتا جب حضرت گھر کے مین دروازے سے اندر داخل ہوتے میںاپنے سر پر حضرت کا ہاتھ رکھواکر واپس چلاآتا۔اس دوران دومرتبہ حضرت نے دارالحدیث فوقانی میں بخاری شریف کا افتتاحی درس بھی دیاہے۔
حکیم الاسلام کی مثالی اور یادگار مجلس:۔
جب بھی حضرت کا دیوبندمیں قیام رہتا ہر دن بعد نماز عصر طیب منزل میں آپکی مجلس ہوتی جس میں علما ،طلبا اور باہر سے آئے ہوئے مہمان بھی شریک رہتے ، حضرت سے لوگ مختلف سوالات کرتے اور حضرت تسلّی بخش جواب دیتے ،علم و حکمت کے جوہر کھول کررکھ دیتے ،حضرت حکیم الاسلامؒکو طبعی طورپر علمی کاموں اور علمی میدانوں سے بڑاہی گہرارشتہ تھا اور خود علمی کاموں سے بڑا شغف رکھتے تھے، اسی دلچسپی اور علمی لگن کی بات ہیکہ حضرت کسی بھی اہم کام میں مصروف ہوں یا کسی بھی نوعیت کا مرض ہو بڑی پابندی سے عصر کے بعد بیٹھک میں جلوہ افروز ہوتے ،حاضرینِ مجلس کے سوالات کے جوابات بڑے مدلل انداز پر دیتے ، قرآن وحدیث اسوہ نبوی ﷺ آثار ِصحابہ اور علما سلف کے واقعات سے اپنی بات کو منطبق کرتے ،استدلالی قوت اللہ نے بے نظیر عطا کی تھی ۔
میرے ساتھ پیش آیا ہوا ایک واقعہ ہے کہ جنوری۱۹۸۳؁ء کا آخری مہینہ امریکہ کے دورے سے حضرت دوپہرکے تقریباً دوبجے دیوبند پہنچے ،ضعف ونقاہت بے انتہا اور ساتھ میں بخار بھی تھا مگر حضرت کو علم سے دلچسپی اور لگائوکی بات تھی کہ ساڑے چار بجے حضرت گرم اونی طویل کوٹ اور اوپر سے انتہائی خوبصورت ہلکی کمبل اوڑھے ہوئے مجلس میں حاضر ہوگئے اگرچیکہ حاضرین مجلس کو توقع نہیں تھی کہ حضرت مجلس میں تشریف لائیں گے ،جب حاضر ہوگئے تو حاضرین مجلس بھی باغ وبہار ہوگئے مگر حضرت کے ضعف و بخار اور طویل ترین سفر کی تکان کو دیکھتے ہوئے سب حاضرین خاموش تھے سب حضرت کے مقدس سراپا پر نظریں بڑے انہماک کے ساتھ جمائے ہوئے تھے ،کہ اچانک اپنی گردن مبارک اٹھائی اور حاضرین سے مخاطب ہوکر یہ فرمایا کہ ’’بھائی کیا یہ گونگوں کی مجلس تونہیں ؟ میں کافی دیر سے منتظر ہوں کہ کوئی سوال کرے تو میں جواب دوں مگر یہاں حال یہ ہیکہ سب کے سب خاموش ہیں‘‘۔تو کسی نے عرض کیا حضرت آپ کے ضعف اور طویل سفر کی تھکاوٹ کے پیشِ نظر ہماری ہمت نہ ہوئی کہ آپ سے سوال کریں مبادا کہیں آپ بوجھ محسوس نہ فرمائیں۔تو اس پر یہ جواب مرحمت فرمایا کہ” بھائی میں تو سفرکے بوجھ اور بیماری وضعف کو’’ ہلکا کرنے کی غرض سے تو آپ حضرات کے پاس مجلس میں حاضر ہوا "میں حضرت کے بالکل قریب بیٹھاتھا تومجھ پر جیسے حضرت کی نگاہ پڑی یہ فرمایا کہ بالکل تمہاری شباہت کا ایک لڑکا نیویارک میں مجھ سے ملاقات کی غرض سے آیا تو میں نے یہ سمجھاکہ تم دیوبند سے یہاں آگئے ہو بلکہ میںنے اس سے پوچھا بھی کہ بھائی تم دیوبند سے یہاں کب پہنچے ؟تو اس نے جواب دیا کہ نہیں حضرت میں تو امریکہ کا رہنے والاہوں اسی شہر کا باشندہ ہوں تو مجھے تردّد ہواکہ بالکل وہ تمہارے مشابہ ہے ،میں نے اس کو آزمانے کیلئے سوال کیا کہ تم مجھے سورہ فاتحہ پڑھ کے سنائو ،تو اس نے جب سنانی شروع کی تو ٹہیر ٹہیر کے تکلف سے سنانے لگا اور انگریزی تلفظ کی ادائیگی کے ساتھ پڑھ رہاتھا جیسے الحمد کے بجائے الحمڈْ لفظ” دال ” کو "ڈال "سے بدلکر پڑھ رہاتھا تو گویا وہ انگریزی لفظ "D” ’دال ‘ کی جگہ اداکررہاتھا،یوں پھر مجھے یقین کرنا پڑا کہ جو ہماری بیٹھک میں روازانہ کا حاضرباش ہے اور دارالعلوم دیوبند میں پڑھنے والا طالب علم ہے وہ اور ہے ،تووہ لڑکا بالکل صورت شکل اور رنگ میں چال میں ہوبہو تمہاری طرح تھا‘‘ یہ مجھ سے مخاطب ہوکر سارے حاضرین کے سامنے عرض کیا ، پھر جو تشبّہ اور شباہت پر حضرت نے مغرب کی اذان تک تقریباً ایک گھنٹہ مدلل ایسی تقریر کی کہ سامعین پر سکتہ طاری تھا اور لطف کی دنیا میں سب کھوئے ہوئے تھے ،میں نے خود دیکھا ہیکہ حضرت کوضعف ہویا کوئی اوربیماری کا عارضہ لاحق ہو بڑے شوق وذوق سے بعد عصر مجلس میں ضرور حاضر ہوتے ،یہاں تک کہ جب انتہائی ضعف اور نقاہت میں مبتلا ہوگئے تو صاحبزادگان حضرت مولانا محمد سالم اور مولانا محمد اسلم صاحبان نے عصر کے بعد مجلس میں حاضر ہونے والوں سے یہ کہ کرکہ حضرت کو بے انتہا ضعف ونقاہت ہے لہٰذا ان کیلئے آپ حضرات کی حاضری کہیں باعثِ تکلیف نہ بن جائے ، واردین کو واپس کردیتے ہم دو تین مخصوص ساتھی ہی حضرت کے پاس عصر کے بعد موجود رہتے۔اچانک حضر ت نے مجھ سے سوال کیا کہ’’ بھائی کیا دیوبند میں آج کل چھٹی چل رہی ہے‘‘ ؟ میں نے جواب دیاکہ نہیں حضرت تعلیم دونوں دارالعلوم میں برابر چل رہی ہے چھٹی کا یہ زمانہ نہیں ہے تو سوال یہ کیا کہ لوگ مجلس میں کیوں نہیں آرہے ہیں ؟ میں نے جواب دیاکہ آپ کے صاحبزادگان نے آپ کے ضعف ونقاہت کے سبب کہ مبادا کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو لوگوں کومنع کردیا ہے ،اس دوران مولانا محمد سالم صاحب تشریف لے آئے تو ان سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ بھائی تم نے میری نقاہت وعلالت کی بناپر لوگوںکومجلس میں آنے سے کس لئے منع کیا تو صاحبزادے نے فرمایاکہ” کہیں آپ اور زیادہ تعب نہ محسوس کریں اور آپ کی طبیعت پر لوگوں کی حاضری گراں نہ گزرے ” تو فرمایا کہ بھائی مجھے لوگوں کی حاضری سے طبعی طورپر سکون ملتاہے ،ضعف و نقاہت کو ہلکا محسوس کرتا ہوں تم مت روکو کل سے آنے کی اجازت دیدو "تو پھر لوگ گھر کے اندر والے حضرت کے مخصوص کمرے میں آنے لگے تو پوری بشاشت کے ساتھ حضرت سوالات کے جوابات مرحمت فرماتے ،واپسی پر جب لوگ حضرت سے مصافحہ کرتے تو مولانا سالم صاحب نے گرج دار آواز میں منع کردیا کہ "آپ لوگ ملاقات کرکے مزید تکلیف کا باعث نہ بنیں "تو حضرت نے صاحبزادہ کی یہ آواز سن کر فرمایا کہ "بھائی ان حضرات کو ملاقات سے ہرگز نہ روکو پتہ نہیں کس مقبول عنداللہ بندہ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے مَس ہوجائے اور وہی میری نجات کا باعث بن جائے”اللہ اکبر۔یہ تھی حضرت کی عجز وانکساری اور تواضع ایسے ہی انفاسِ قدسیہ کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔من تواضَعَ للہ رفعہ اللہ”جس نے اللہ کے لئے تواضع اختیار کیا اللہ اس کو بلند مرتبہ عطاء کرتا ہے۔
حضرتؒ کی یہ گرانمایہ علمی مجالس کو محترم مولانا حبیب اللہ قاسمی دہلی نے "مجالسِ حکیم الاسلام” کے نام سے مرتب کیا ہے ،جودیوبند اور دہلی کے کتب خانوں میں دستیاب ہے ، یہ اہم کتاب ہر ایک کے لئے فائدہ مند ہے۔۱۹۸۱؁ء میں حضرت نے امریکہ وکناڈاکے دورے سے دیوبند واپسی کے بعد دارالعلوم دیوبند کے ملازمین بشمول اساتذہ کرام سب کی تنخواہیں ڈبل کردیں مگر احتیاط یہ کیا کہ دفتر محاسبی میں اپنی طر ف سے تحریر بھیج دی کہ "احقر کی تنخواہ آئندہ ماہ سے بندکردی جائے ” اس کے بعد حضرت نے دارالعلوم سے تنخواہ لینا بند کردیا۔
مولانا فضل الرحمن عثمانیؒ کے مزارسے قریب جدید مسجد کا سنگ ِ بنیاد:۔
۱۹۸۱؁ء کی ہی بات ہیکہ مدینہ منورہ کے وزیر اوقاف دارالعلوم دیکھنے کی غرض سے دیوبند تشریف لے آئے صبح ۹؍بجے دارالحدیث تحتانی میں عظیم الشان خیر مقدمی اجلاس حضرتؒ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں آپ کے خلفِ اکبر حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی نے دارالعلوم دیوبند کی سواسو سالہ خدمات پر روشنی ڈالی اور وزیر موصوف کی تقریر کی اردو ترجمانی استاذ عربی ادب و رئیس التحریر” الداعی "مولانا بدرالحسن قاسمی نے کی اس کے بعد حضرت وزیر موصوف کو اس جگہ لے گئے جہاں آج مسجد رشید قائم ہے اس جگہ مسجد کی سنگِ بنیاد رکھوائی۔خود بھی اپنے دستِ مبار ک سے بنیاد رکھی نیز حضرت مولانا محمد سالم صاحب ،حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحبؒ مفتی ٔا عظم دارالعلوم اور حضرت مولانا سید انظر شاہ صاحب وغیرہ نے بھی سنگ بنیاد رکھی ،اس تقریب میں تقریباً سارے طلبہ دارالعلوم موجود تھے ، احقر کو حضرت کی قربت حاصل رہی اور حضرت کے جوتے سنبھالنے کی سعادت بھی میں سمیٹ تارہا ،تاریخی بات اس واقعہ سے واضح ہوگئی کہ حضرت ہی کے دورِ مسعود میں مسجد رشید کی بنیاد پڑ چکی تھی ،مگر دارالعلوم کی نئی انتظامیہ نے اس تاریخ کو دفن کردیا اور مسجد رشید کی تعمیر کا سہرا اپنے اوپر ہی چسپاں کرلیا۔لیکن دنیا کا یہ دستور ہیکہ تاریخ حقیقت سے کوتاہ چشمی نہیں کرسکتی۔
قرب و جوار کے اسفارمیں حضرت ؒکے ساتھ رفاقت:۔
اس زمانے میں مظفر نگر ،میرٹھ ،سہارنپور اور دہلی بارہا حضرت کا رفیقِ سفر بننے کی سعادت راقم الحروف کورہی ،یہ حضرت مولانا محمد سالم صاحب کی مہربانی وکرم فرمائی رہی کہ احقر کو حضرت کے ساتھ سفر میںبھیج دیاکرتے تھے اور دوسرے بہت سارے امیدوار مایوس ہوجاتے۔ حضرت کے ساتھ سفر میں بہت ہی نادر واہم خصوصیات وامتیازات میںنے دیکھا، مگر ان کو یہاں قلم بند کرنا طوالت کا سبب ہے ،ان کو مستقل موضوع بناکر سپردِ قلم کیاجائے گا۔ان شاء اللہ
آپؒ نے دارالعلوم کی خدمت آخرت سمجھ کر کی تھی:۔
حضرتؒکی طویل حیات و خدمات پر نظر ڈالی جائے تو یہ پتہ چلتا ہیکہ انہو ں نے اپنے جدِّ امجد حضرت نانوتویؒ کے لگائے ہوئے اس گلشنِ دینِ محمد ﷺ کی آبیاری للٰہیت ،خدا کی خشیّت اور آخرت کی نجات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کی ہے ،جبکہ اتنے بڑے ادارہ کا اہتمام ان جیسے ولیِ کامل ،امامِ رشدوہدایت اور بے نفس وبے ضرر انسان کی کرامت وولایت ہی سمجھاجائے گا اور دارالعلوم دیوبند کے مہتممین میں ان کا امتیاز واعجاز ہی سب سے جدا ،سب سے نرالا اور حیرت ناک و حیرت انگیز ہے۔
میں آنکھوں دیکھا حال قلم بند کررہا ہوں ،۱۹۷۵؁ء میں حضرت نے دارالعلوم دیوبند کیلئے جنریٹر کی اپیل کی ،چنانچہ یہ خبر سارے ہندوستان کے اخبارات میں شائع ہوئی ، سورت (گجرات )کے ایک مخیر شخص نے جوحضرت سے ہی بیعت کا تعلق رکھتے تھے،یہ اپیل پڑھ کر حضرت کے نام خط لکھا کہ حضرت دارالعلوم دیوبند کیلئے جنریٹر کا اکیلا میں ساراخرچ برداشت کروں گا مگر شرط یہ کہ "آپ مع اہلیہ ایک مہینہ میرے گھر قیام فرمائیں ” حضرت نے جواب دیاکہ ’’بھائی میں دارالعلوم دیوبند کا منتظم ہوں ایک ماہ کے بجائے ایک ہفتہ آپ کے یہاں قیام کرلوں گا‘‘ تو ان صاحب نے اس صورت کو بھی غنیمت سمجھ کر قبول کرلیا ،حضرت نے مع اہلیہ ایک ہفتہ قیام کیا ،اس کے بعد ان صاحب نے دارالعلوم دیوبند کیلئے جنریٹر کا بندوبست کردیا ،دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ وملازمین کے گھروں میں دور دور تک جنریٹر کا کنکشن پہنچایا مگر اپنے گھر میں اور دونوں صاحبزادوں کے گھر جنریٹر کا کنکشن نہیں لیا جبکہ دارالعلوم کے مہمان خانہ سے متصل صرف بیس یا پچیس فٹ کے فاصلے پرحضرت کا مکان ہے۔میں کبھی کبھار مغرب بعد حضرت پاس بیٹھ جاتا ،اکثر بجلی غائب رہتی ، جب بجلی غائب ہوجاتی تو حضرت مجھ سے فرماتے بھائی موم بتی یا لائے نٹین جلادو میں فوراً جلاتا تو حضرت اپنی گردن مزید جھکا دیتے اور تصنیف کاکام اسی دھیمی روشنی میں کرتے ،یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ آ پ طویل المدت مہتمم آپ کے ایک خاص مرید نے جنریٹر کا انتظا م کیا ،دونوں صاحبزادے بھی دارالعلوم دیوبند میں خدمات پر مامور ،جنریٹر کا کنکشن اپنے گھروں میں لینے سے کوئی رکاوٹ نہیں تھی یہ ان کا حق بھی تھا ،مگر احتیاط کا یہ عالَم تھا ، دارالعلوم دیوبند کا لمبا چوڑا اور طویل رقبہ جنریٹر کی روشنی سے جگماتا تھا معمولی درجہ کے ملازمین اور اساتذہ کے گھروں میں جنریٹر کاکنکشن پہنچایا گیاتھا ،مگر آستانہ قاسمی میں موم بتی جلائی جاتی تھی۔ اور یہ وقت کا رازی وغزالی ،علمِ شریعت کا نیّرِ تاباں ، علمِ نبوت کا شمعِ فروزاں ، امامِ رشدو ہدایت اور دارالعلوم دیوبند کا معماراپنا تصنیفی کام چراغ کی معمولی روشنی میں انجام دیتا ، اللہ اکبر کس قدر احتیاط کا پہلو حضرت کی زندگی میں نمایاں تھا۔دوسری چیز میں نے حضرت کی زندگی میں یہ دیکھا ہیکہ کہ شدید مرضِ وفات میںمبتلا ہیں سخت گرمی کا موسم ہے حضرت کے پاس کولر رکھا ہوتا تھا مگر جب بجلی غائب ہوجاتی تو وہ کولر بھی بند ہوجاتا ہم خدّام پنکھاکرتے لیکن گرمی کی شدّت اتنی زیادہ ہوتی کہ دستی پنکھوں کی ہوا ناکافی ہوجاتی او رحضرت پسینہ سے دوچار ہوجاتے ،ہم لوگوں سے مخاطب ہوکر فرماتے کہ’’ بھائی جب تک بجلی موجود ہے یہ کولر کام کرتا ہے جوں ہی بجلی غائب ہوئی کہ یہ بے چارہ اپناکام کرنا بند کردیتا ہے‘‘ ،یہ سادگی اور قناعت پسندی کی مثال اس شخصیت کی ہے جس نے دارالعلوم دیوبند کی زمامِ اہتمام ساٹھ سال تک سنبھالی تھی عالمِ اسلام کی شہرت یافتہ اور غیر معمولی حیثیت کی حامل بین الاقوامی شخصیت تھی۔
حضرت کا ایک قابل ِ رشک واقعہ:۔
تیسرا حضرت کی زندگی کا حیرت انگیز واقعہ یہ ہیکہ وفات سے ایک ماہ پہلے اپنے دوسرے صاحبزادے حضرت مولانا محمد اسلم صاحبؒسے یہ فرمایا کہ’’ بھائی "مقاماتِ مقدسہ” میری آخری تفصیلی اور ضخیم تصنیف ہے جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اس پر شب وروز کی محنت صَرف ہوئی ہے لہٰذا میری یہ زندگی کی آخری خواہش ہیکہ کتابی شکل میں چَھپی ہوئی دیکھنا چاہتا ہوں ، یہ تمنا بھی ہیکہ” تاریخ دارالعلوم "کی طرح ٹائٹل ہوکتابت وطباعت بھی بعینہ اسی طرز پہ ہو تم اس کتاب کو جلد شائع کردو تاکہ میں اپنی زندگی میں دیکھ لوں‘‘مگر صاحبزادہ بھی دارالعلوم پر قبضہ کے بعد سے بے روزگار تھا پچیس تیس ہزار روپئے بھی نہیں تھے کہ اپنے والد ماجد کی یہ خواہش پوری کردیں تو بڑی ہمت کرکے مولانا اسلم صاحب نے فرمایا کہ "ابّاجی اگر آپ اپنے کسی متعلق کو اس کتاب کی اشاعت کیلئے فرمادیں تو بہت جلد یہ کام اپنے انجام کو پہنچے گا ” مولانا اسلم کا بیان ہیکہ حضرت کا چہرہ سرخ ہوگیا اور اس طرح زندگی میں حضرت نے ناراضگی کا اظہارکبھی نہیں فرمایا تھا پھر کہنے لگے کہ” بھائی تم نے میرے ضمیر کے خلاف بات کہدی اب اس کے بعد کتاب کی اشاعت کیلئے کبھی نہ کہوں گا چاہے کتاب چھَپے یا نہ چھَپپے "آخر کار اس امامِ رْشد و ہدایت کی زندگی کا چراغ ٹمٹمارہا تھا جو۱۷؍جولائی ۱۹۸۳؁ء صبح گیاربجے گل ہوگیا،عالمِ اسلام کی مشہور شخصیت ، اپنے وقت کے بے مثال خطیب ، ایشیا کے علما میں امتیازی مقام، صّفِّ اول کے مقرر ،مشہور مصنف، دارالعلوم دیوبند کے ساٹھ سالہ طویل المدّت مہتمم کہ جس کے پاس زندگی کے آخری ایّام میں اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ اپنی کتاب طباعت کراسکیں ،کیا اسکی مثال بڑے سے بڑے ادارے کے ارباب ِ اہتمام پیش کرسکتے ہیں ؟ حالانکہ چھوٹے بڑے سب مدارس کے مہتمم خوش حال ہیں اور جنکا بینک بیلنس بھی موجود ہے۔اور کروڑوں کی جائداد کے مالک ہیں ،مگر یہاں معاملہ کچھ اورہی تھا ، آخر کار تمنا کے باوجود حضرت اپنی زندگی میں مقاماماتِ مقدسہ کو کتابی شکل میں دیکھ نہ سکے ، جبکہ حضرت ساٹھ برس تک بین الاقوامی ادارہ کے مہتمم رہے اور ذاتی حیثیت بھی انکی عالَمی تھی ،اس کے باوجود بیس پچیس ہزارروپئے اُن کے پاس نہیں تھے کہ اپنی آخری کتاب کو شائع کراسکیں، سبحان اللہ یہ نمونہ تو صحابہ کرام اور خلافتِ راشدہ کا بھولا ہوا سبق یاد دلادینے والا ہے۔آخر کار مولانا محمد اسلم صاحب نے حضرت کے وصال کے ۷؍ سال بعد اس کتاب کو شائع کیا ۔
پڑھنے لکھنے اور مطالعہ کے بے انتہا شوقین:۔
پڑھنے لکھنے اور مطالعہ کا اس قدر شوق تھا کہ ضعیفی وکمزوری اور نقاہت اپنے عروج پر تھی اس کے باوجود دونوں جانب سرہانے متعدد تفسیرو حدیث اوردیگر موضوعات پر مشتمل کتابیں رکھی رہتیں ، جب لوگ عیادت سے فارغ ہوکر چلے جاتے تو حضرت مطالعہ میں مشغول ہوجاتے ،حضرت کے شوقِ مطالعہ اور قوت ِ حافظہ کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہیکہ جس روز حضرت کا وصال ہوا صبح۷؍بجے ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد مولانا اسلم صاحب سے فرمایا کہ’’ میرے سرہانے مقاماتِ مقدسہ کا مسوّدہ رکھ د ینا ،اس لئے کہ مزید تفصیلات مقاماتِ مقدسہ سے متعلق دل وماغ میں آرہی ہیں مسودہ میں انہیں شامل کردوں گا‘‘ ،صاحبزادہ محترم نے جواب دیا کہ ضرور مسودہ رکھدوں گا دس بجے حکیم صاحب آپکی تشخیص کیلئے آئیں گے موصوف کے چلے جانے کے بعد لادوں گا۔کس کو خبر تھی ؟ یہ کون جانتاتھا کہ اسی دن تین گھنٹے بعد گلستانِ علومِ شریعت کا یہ گلِ سرسبز، چمنستانِ علومِ نبّوت کا مہکتا پھول، علومِ قاسمی کا حقیقی ترجمان،اکابرِ دیوبند کی شان اور علمائے حق کی آن لاکھوں چاہنے والوں کو روتا ،بلکتا اور سسکتا چھوڑکر داعیِٔ اجل کو لبّیک کہتا ہوااس دارِ فانی سے رخصت ہو جائے گا،انّا للہ ِ وانَّا الیہ راجعون۔نوّراللہ مرقدہ وبرّداللہ مضجعہ۔ایسی شخصیّات بقول میر تقی میر اہلِ دنیا سے یہ کہتے ہوئے رخصت ہوجاتی ہیں۔ ؎
مت سہل ہمیں جانو پھرتاہے فلک برسوں
تب خاک کے پردہ سے انساں نکلتے ہیں
حضرت کی تدفین اور کل ترکہ:۔
اسی دن بعد نماز عشاء دارالعلوم دیوبند کے احاطہ مولسری میں لاکھوں چاہنے والے فرزندانِ اسلام نے نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کے جدِّ امجد قاسم العلوم والخیرات حجۃالاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒبانی ٔ ِ دارالعلوم دیوبند کے پہلو میںسپردِ خاک کردیا ۔
ایک حیرت ناک اورتعجب خیز واقعہ بھی قلم بند کردوں ،وفات کے تین دن بعد حضرت کے صاحبزادوں اور صاحبزادیاں اپنے عظیم المرتبت والد ماجد کے کمرے میں جمع ہوکر حضرت کی مخصوص الماری کوکھولتے ہیں تو صرف الماری میں ساڑھے چارسو روپئے ملے ، بھائی، بہنوں نے حضرت کی چھوڑی ہوئی اسی وراثت کو آپس میںشریعت کے مطابق تقسیم کرلیا ،اس کے علاوہ نہ کوئی جائداد تھی نہ ہی بینک بیلنس تھا۔یہی کل ترکہ حضرت نے چھوڑا تھا اگر یہ چاہتے تو دنیا بھرکی دولت ،بڑے بڑے پلاٹ، عالی شان کوٹھیاں اور کروڑوں روپیو ں کے بینک بیلنس چھوڑجاتے مگر اس بے نفس و بے ضرر ولیِٔ کامل نے اولیائے کاملین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مال و ذر کی ذخیرہ اندوزی سے حد درجہ احتیاط کی ،مکمل محاسبہ ٔ آخرت کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے دیانت داری کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کا اہتمام ۶۰؍ سال تک سنبھالا۔ اللہ تعالیٰ ہی اداروں کے مہتممین ،تنظیموں کے ذمہ داروں کو ایسی توفق سے نوازے ، آمین۔بس علّامہ اقبالؒ کے اس شعر پر اپنے احساسات وجذبات اور مشاہدات کو ختم کرتا ہوں۔
آئے عشّاق گئے وعدۂ فَردا لیکر
اب اُنہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لیکر

از:۔محمد عطاالرحمٰن القاسمی ،کڑیکل ،شیموگہ