شیموگہ کے شانتی نگرمیں حالات کشیدہ،لیکن زیر قابو

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
امتناعی احکامات جاری،لیکن کرفیو جیساماحول،43/مسلم نوجوان تحویل میں،7/سنگھی گرفتار
شیموگہ؛۔شہرکے مضافاتی علاقے شانتی نگر یعنی راگی گڈے میںاتوارکی شام میلادالنبی کے جلوس پر ہونے والے پتھرائو کے واقعے کے بعدعلاقے میں امتناعی احکامات جاری کئے گئے ہیں ،جبکہ حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔شیموگہ کےمضافات میں آنے والے اس علاقے میں بیشتر آبادی مسلمانوں کی ہے، یہاں پر اتوارکی شام پر میلادکا جلوس نکالا جارہا تھا ، اس دوران کچھ نوجوانوں نے پتھر پھینکے ،جس کے فوری بعد یہاں افراتفری مچ گئی۔جلوس میں شامل نوجوانوں نے پتھرائو کرنےوالے شرپسندوں کو گرفتارکرنے کا مطالبہ کیا اور احتجاج کرنے لگے ۔ حالات کو سنگین ہوتا دیکھ کر پولیس نے نوجوانوں کو منتشرکرنے کیلئے طاقت کااستعمال کیا۔دریں اثناء پتھر پھینکنے والے سات نوجوانوں کو ایک ہی گھر سے پکڑاگیا،پولیس کے پہنچنے سے پہلے نوجوانوں نے اُس گھر کو نشانہ بنایا جہاں پر پتھرائو کرنےوالے نوجوان چھپے ہوئے تھے۔دیر شام تک حالات مزید سنگین ہوئے،جس کے بعد علاقے میں144 سیکشن نافذ کیاگیا،امتناعی احکامات جاری ہونے کے باوجود نوجوان مشتعل رہے،جسے دیکھتے ہوئے پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی اور پورے علاقے میں پولیس کی سخت گھیرابندی کی گئی۔دیررات کو پولیس نے گھروں میں گھس کر پٹائی کی اورکئی نوجوانوں کو تحویل میں لیا۔کئی نوجوانوں پر لاٹھیوں کی برسات ہوئی ہے۔مقامی لوگوں میں پولیس کی اس بربریت سے خوف کا ماحول بناہواہے۔
شہرمیں امتناعی احکامات
راگی گڈے علاقے میں ہونےوالی اس واردات کے بعد شہرمیں بھی امتناعی احکامات نافذکئے گئے ہیں،جس کے بعدشہربھرمیں تجارتی مراکز ،بازاراور دُکانوں کو بندکرنے کی ہدایت دی گئی،نہروروڈ، گاندھی بازار،اردوبازارجیسے علاقوں میں دُکانیں بند کرنے کیلئے کہاگیاتو تاجروں نے پولیس اس کی کارروائی کی مخالفت کی۔تاجروں کا کہناہے کہ پہلے ہی چاردنوں سےبازاربندرکھے گئے ہیں،تین دن گنیش کیلئے اور ایک دن میلادکیلئے دکانوں کو بند رکھا گیاتھا،ایسے میں تجارت کرنےوالے کیاکر یں ؟ ۔ اس تعلق سے تاجروں اور ضلع انتظامیہ کے درمیان بات چیت ہوئی ،جس کے بعد ضلع انتظامیہ نے پیر کی شام سے دوبارہ دُکانیں کھولنے کا موقع دیاہے۔
کنڑامیڈیاکی دہشت:۔
ہمیشہ کی طرح کنڑانیوز چینل میں حقیقت کو چھپاکر سنگھ پریوارکی تائیدمیں خبریں پیش کی جارہی ہیں،جس کی وجہ سے مسلمانوں پر سخت اعتراضات ہورہے ہیں۔کنڑا کےنیوز چینلوں نے اس قدر دہشت پھیلائی کہ ریاست بھرمیں شیموگہ کے مسلمانوںپر لعن طعن کسا جارہاہے۔جبکہ حقیقت کو چھپاکر چینلس سنگھ پریوارکی طرف سے طئے شدہ کہانی کو پیش کررہے ہیں۔جو مظلوم مسلمان ہیں اُن کے تعلق سے ذرا برابربھی تذکرہ نہیں ہورہاہے۔
پولیس کے رویے پر مقامی لوگوں کا اعتراض
راگی گڈے کے مقامی لوگوں نےالزام لگایاکہ میلادکے قبل سے ہی یہاں کے پولیس انسپکٹرنے مسلمانوں کو یہ دھمکی دی تھی کہ وہ انہیں میلاد منانے نہیں دیگا اور یہ بھی سوال رکھاتھاکہ وہ دیکھ لےگاکہ کیسے میلادمنائینگے؟۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ یقیناً پولیس کی جانب سے برتی جانےوالی لاپرواہی کی وجہ سے ہی یہ حالات پیداہوئے ہیں،اگر پولیس مناسب طورپر کام کرتی تو ایسے بدترین حالات رونمانہیں ہوتے۔اس کے علاوہ مسلم نوجوانوں کو جس طرح سے زدوکوب کیاگیاہے اس پر بھی اعتراضات جتائے جارہے ہیں۔خصوصاًمسلم نوجوانوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیتے ہوئے بڑی بے دردی سے ماراہے،ان میں قصورواربھی تھے اور بے قصورنوجوان بھی شامل تھے۔