جئے شری رام کےنعرے سے بی جے پی کا ووٹ بینک ہورہاہے مضبوط
شیموگہ:۔پچھلے دنوں شیموگہ شہرکے شانتی نگر( راگی گڈے) میں ہونےوالے پُرتشدد واقعات کے بعد بھلےہی مسلمانوں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہواہے لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ سیاستدانوں کو ہورہاہےاورآنےوالے دنوں میں پارلیمانی انتخابات کیلئے بی جے پی کا یہ ایجنڈہ کامیابی کی طرف لے جارہاہے۔اس معاملے کو گرمانے کیلئے جہاں کنڑا میڈیاکے دو تین چینلوں نے رات دن ایک کردئیے وہیں ان کی طرف سے بوئے گئے نفرت کے بیچوں کو لیکر بی جے پی اپنی سیاسی فصل اُگانے کی تیاری میں ہے۔اس معاملے میں مسلمانوں پر بےبنیاد الزامات عائدکئے جارہے ہیں،کچھ چینلوں میں یہ بتایاجارہاہے کہ میلادکے اس جلسے وجلوسوں کیلئے پانچ کروڑ روپئے بیرونی ممالک سے فنڈ وصول ہواہے تو کچھ چینلوں میں یہ کہاجارہاہے کہ جلوس کے ذریعے سے تبدیل مذہب کی سازش رچی جارہی ہے۔بعض ٹی وی چینلوں میں اِدھر اُدھر کے ہتھیاربند نوجوانوں کی تصاویر دکھاکر مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ کہاجارہاہے کہ شیموگہ کو مسلم راشٹر بنانے کی سازش رچی جارہی ہے۔بی جے پی کے ریاستی صدرنلین کمار کٹیل نے اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے کہاکہ شیموگہ میں میلادکے جلوس کے دوران ہندوئوں کی دُکانوں اور گھروں پر حملے کئے گئے تھے،ان حالات کو روکنے میں ریاستی حکومت پوری طرح سے ناکام ہوئی ہے،اس واردات کے پیچھے خفیہ طاقتوں کا ہاتھ ہے۔اسی طرح سے ایشورپانے موقع پر پہنچ کر جائزہ تونہیں لیا البتہ پتھرائوکرنے کے الزام میں گرفتار نوجوان جو اسپتال میں زیر علاج تھے،اُن کی عیادت کرتے ہوئے اُنہیں نقد رقم پیش کی۔رکن اسمبلی چنبسپانے اپنے بیان میں کہاہے کہ شیموگہ شہرمیں یوپی اور مہاراشٹر سے کچھ سواریاں آئی تھیں جن میں سوار ہونےوالوں نے ہی یہ حملے کئے ہیں،جبکہ ایس پی نے اس کی تردید کی ہے۔ان تمام معاملات کے درمیان 5/اکتوبر کو راگی گڈے میں ہونےوالے واقعے کی حقیقت کو جاننے کیلئے ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم جارہی ہے،جس میں بی جے پی کے ریاستی صدرنلین کمارکٹیل،بی وائی راگھویندرا،کے ایس ایشورپا،اشوتھ نارائن،ارگا گینانیندرا ،این روی کمار،ایس رودرے گوڈا،چنبسپا،ڈی ایس ارون،بھارتی شیٹی رہینگے۔راگی گڈے کا فساد بی جے پی کیلئے تیارشدہ روٹی کی طرح الیکشن کی تھالی میں آچکاہے۔آنےوالے پارلیمانی انتخابات کیلئے اس مدعےکو بڑھا چڑھا کر پیش کیاجارہاہے،میلادکے جلوس پر ہونےوالے پتھرائو پر کوئی بات تو نہیں کررہا،البتہ میلادکے دوران شہربھرمیں لگائےگئے ٹیپوسلطان،اورنگ زیب،شاہ جہاں اور تلوارکے کٹ آئوٹ کو لیکر خوب سیاست کی جارہی ہے اور ان مدعوں کو لیکر کانگریس پر نشانہ لگایاجارہاہے۔دریں اثناء میڈیا بھی آگ میں تیل ڈالنے کا کام بڑی ہی تیزی کے ساتھ انجام دے رہاہے اور میڈیاکی رپورٹس کو بنیاد بنا کر بی جے پی کام کررہی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ آگ لگارہے اس میڈیاکے خلاف مسلم جماعتوں ،تنظیموں یاپھر وکلاء کی طرف سے کارروائی کا مطالبہ بھی نہیں کیاگیاہے،نہ ہی کوئی شکایت اس سلسلے میں درج کروائی گئی ہے،جس کافائدہ میڈیاکے شرپسند وفرقہ پرست صحافی اٹھارہے ہیں۔
