شیموگہ:۔کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین عبدالعظیم نے کہا کہ حکام کوضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے جرات مندانہ اور سخت فیصلے لینے چاہیے۔وہ شیموگہ ضلع میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر آج ضلع کلکٹر کے ہال میں منعقدہ میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے۔ راگی گڈا میں عید میلاد کے جلوس کے دوران پتھراؤ کا واقعہ درحقیقت ایک بُرا واقعہ تھا۔ اس واقعہ کے بعد سے میں ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور ڈپٹی کمشنر سے رابطے میں ہوں اور آج جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے۔یہ اچھی بات ہے کہ پولیس افسران نے واقعہ کے چند گھنٹوں میں ہی حالات کو قابو میں کر لیا۔ اس واقعہ کے سلسلے میں 50 سے 60 افراد کو گرفتار کیا گیا ہےجبکہ 32 مقدمات درج کرکے کارروائی بھی کی گئی ہے۔لیکن حکام کو ایسے واقعات کو رونما ہونے سے روکنے کیلئے مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے۔ مذہبی جلوسوں کی صورت میں انتہائی سخت شرائط میں اجازت دی جائے۔ اگر یہ پایا جاتا ہے کہ ایسے جلوس/تقریبات سے امن و امان کو خطرہ لاحق ہو جائے گا تو اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اشتعال انگیز کٹ آؤٹ، بینرز، فلکس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اگراجازت دینی بھی ہے تو اس کے لیے ایک قابل افسر مقرر کیا جائے اور وہ تمام بینرز، کٹ آؤٹ کا معائنہ کرے اور افسرکی تصدیق کے بعد ہی اس طرح کے بیانر ،فلکس اور کٹ آئوٹ لگانےکی اجازت دی جائے۔ ضلع میں فرقہ وارانہ طور پر حساس علاقوں کی نشاندہی اور وہاں کے لوگوں کو اعتماد میں لینے کے لیے کمیٹیاں بنائیں اور ہم آہنگی اور امن قائم کرنے کی کوشش کریں۔ صرف پولیس تھانوں میں ہی امن کی نشستوں کاانعقادکرنا کافی نہیں ہے،بلکہ حساس محلوں، برادریوں کی نشاندہی کی جائے، کمیٹیاں بنائی جائیں اور ذمہ داری دی جائے۔ حساس علاقوں کے لیے موثر افسران کوتعینات کیے جائیں۔ اگر یہ پایا جائے کہ امن و امان کو خطرہ ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ بلاتفریق، غیر فرقہ وارانہ اور سخت موقف اختیار کریں اور امن کوقائم کریں۔حکام کو چاہیے کہ وہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے نئے طریقے اپنائیں تاکہ عوام میں قانون کے تعلق سے بیداری آئے۔نشست میں کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کی سکریٹری سلمیٰ فردوز، صدر اسپیشل ڈیوٹی آفیسر مجیب اللہ جعفری، ڈپٹی کمشنرڈاکٹر سیلوامانی ، ایس پی متھون کمار، کارپوریشن کمشنر مایانا گوڑا، ضلع اقلیتی بہبود آفیسر پریتی سمیت دیگر حکام موجودتھے۔
