شیموگہ:۔ہوٹلوں، لاڈج، گیریجو ں، گھریلو کام کاج، اینٹوں کے بھٹوں سمیت دیگر جگہوں پرکام پربچوں کو رکھنے والےافرادکے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے ایف آئی ار درج کریں۔اس بات کی ہدایت ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سیلوامنی نے متعلقہ افسران کو دی ہے ۔ڈپٹی کمشنر دفترمیں منعقدہ ڈسٹرکٹ چائلڈ لیبر پروجیکٹ سوسائٹی کی ڈسٹرکٹ ورکنگ کمیٹی اور مانیٹرنگ اینڈ ویجیلنس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے انہوں نے کہاکہ ضلع کے مختلف دیہی علاقوں میں عموماً بچے ہوٹلوں، شراب خانوں اور ریستورانٹوں، لاڈج، گیریجوں، گھر کے کام کاج، صفائی ستھرائی کے کاموں میں کام کرتے نظر آتے ہیں، حکام کو ایسے علاقوں پر زیادہ توجہ دیتے ہوئے ایسے بچوں کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئےچائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے اور قواعد کے مطابق ان کے لیے تعلیم اور دیگر مناسب انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کو ملازمت دینے والے مالکان کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔بچوں کے اسکول چھوڑنے میں کمی لانے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں احتیاط برتنی چاہیے۔ اگر بچوں کو کم از کم پی یو سی تک چھوڑنے سے روک دیا جائے تو ان کی چائلڈ لیبر میں کمی آئیگی ۔ اسلئےمحکمہ تعلیم، اقلیتی اور پسماندہ طبقات کی بہبود کے محکمے کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے کہ بچے اسکول نہ چھوڑیں ۔ ضلع کے تمام تعلقہ جات میں بچہ مزدوری(چائلڈ لیبر )کی جانچ ہونی چاہیے۔ ایسی جگہوں کی نشاندہی کی جائے جہاں بچے عموماً کام کرتے ہیں ،ایسے مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں تو بچہ مزدوری جیسے واقعات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔چائلڈ لیبر فری زون بنانے کےمنصوبے پرپر عمل درآمد کے ساتھ ہی، ایم ایس ڈبلیو کے طلباء محکمہ لیبر کے افسران کے ساتھ مل کر چائلڈ لیبر کا سروے کرینگے، اس سے سروے کے ساتھ کمیونٹی میں بیداری پیدا ہوگی۔ لہذا، انہوں نےایم ایس ڈبلیوطلباء کے ساتھ ایک منظم سروے کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس موقع پرڈسٹرکٹ لیبر آفیسر سوما ایچ ایس نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئےایک منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے اور ضلع بھر میں عوام میں بیداری پیدا کی جا رہی ہے۔ اپریل 2022 سے مارچ 2023 تک ضلع میں 853 مقامات کا معائنہ کیا گیا اور 18بچوں کا تحفظ کیاگیاہے اور4 مقدمات کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔نشست میںاے ایس پی انیل کمار بھوماریڈی، ضلع پنچایت کے ڈپٹی سکریٹری ملیکارجن تھوڈل باگی، ڈسٹرکٹ چائلڈ لیبر پروجیکٹ سوسائٹی کےڈائریکٹر رگھوناتھ سمیت دیگر افسران موجودتھے۔
