اگرکوئی زبان مذہب اسلام کا کثیر اثاثہ اور قرآن سے قریب ہے تو وہ اردو زبان ہے: پروفیسر مسعود سراج ادیبی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
انجمن ترقی ہند شیموگہ کی جانب سے یوم اردو کا انعقاد ؛ کثیر تعدادمیں محبانِ اردو کی شرکت؎
شیموگہ:۔انجمن ترقی اردو ہند شیموگہ کی جانب سے شہرکے ملن شادی محل میں یوم اردو کاانعقادکیاگیاتھا ۔جلسے میں مہمان خصوصی کے طورپرمیسورو یونیورسٹی کےشعبہ اردوکے سابق ڈین و پروفیسر مسعود سراج ادیبی نےشرکت کرتے ہوئے کہاکہ انجمنیں تو ریاست بھرمیں کثیر تعداد میںہیں لیکن اردو کے تعلق کام کرنے والی انجمنیں بہت کم ہیں،اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ اردو والے احساس کمتری کا شکار ہوچکے ہیں،ساتھ ہی ہمارے خیالات بھی اردو کے تعلق سے منتشرہوچکے ہیں،اگر ہمارے خیالات کو یکجا کرتے ہیں تواردو زبان کی ترقی وبقاء ممکن ہے۔آزادی ہند کےوقت میں اردو اخبارات کوکالابازاری( بلاک )میں خریدا جاتا تھالیکن موجودہ حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ اردو اخبارات کی خریداری صرف محدود افراد ہی کررہےہیں،اردو کے تعلق سے ہمیں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اردو والوں کی کمزوری یہ ہے کہ ہم اردو کےرسالے، اخبارات یا کتابیں خرید کر نہیں پڑھتے، اسی لئے آج اردو مٹانے کی کوشش ہورہی ہے۔صرف زبانی خرچ سے اردو زباں کی بقاء ممکن نہیں ہے بلکہ اردو کی بقا و ترقی کیلئے ہمیں قربانیاں بھی دینے کی ضرورت ہے۔ اپنے حقوق کو منوانے کی ضرورت ہے،ہمیں اردو کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔اردو زبان کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جملہ 37 نوبل ایوارڈس صرف اردو زبان کےشعراء نے حاصل کئے تھے۔اگرکوئی زبان مذہب اسلام کا کثیر اثاثہ اور قرآن سے قریب ہے تو وہ اردو زبان ہے۔جلسے میں مزید ایک مہمانِ اعزازی کرناٹکااردو اکاڈمی کے سابق چیرمین پروفیسر سید عبدالقدیر ناظم سرگرونے اپنی تقریرمیں کہاکہ اردو زبان کسی ایک مذہب سے نہیں جڑی ہوئی ہے بلکہ ساری دنیا بھرمیں اردو زباں کا بول بالاہے، اردو امن و امان کو پھیلانے والی زبان ہےبلکہ اردو کے معنی امن و یکجہتی ہے۔جنگ آزادی میں اردو زباں کا بھی اہم رول رہا ، انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے بولی جانے والی زبان اردوزبان تھی،آزادی سے قبل ہندوستان میں اردو اخبارات سے آزادی ہندکیلئے انقلاب کے نعرے بلند کئے گئے تھے،اردو زبان میں بہادری جھلکتی ہے ۔لیکن موجودہ حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ اردو سے تعصب برتا جارہاہےاردو کو ایک مخصوص مذہب سے جوڑنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ہمارے دینی علم کاسرمایہ عربی زبان کے بعد کسی زبان میں ہے تو وہ صرف اردو زبان میں ہے ،ہماری زبان کو ہم خود بچا سکتے ہیں۔آپ اپنے بچوں کو کسی بھی اسکول پر تعلیم دلوائیں چاہے انگریزی ہو یا کنڑا زبان میں لیکن اپنے بچوں کو اردو سے آشنا کرائیں تاکہ اردو زبان کی حفاظت ہوسکے۔جلسے کی صدارت کرتے ہوئے ادارے کے صدر محمد عابداللہ اطہر شیموگوی نے کہاکہ انجمن ترقی اردو شاخ شیموگہ مسلسل یوم اردو کاانعقادکررہی ہے اور عوام کو اردو سے جوڑنے کیلئے جدوجہد کررہی ہے اوریہ کوشش آگے بھی جاری رہے گی۔انجمن ترقی ہندشیموگہ کی جانب سے ہر سال کی طرح امسال بھی طلباء میں ان کی صلاحیتوں کی بنیادپر انعامات تقسیم کئے گئے جس میں ایس ایس ایل سی کے امتحان میں اردو میں نمایاں نمبرات لینےوالے جملہ80 طلباء کو انعامات تقسیم کئے گئے،پی یو سی سال دوم25 طلباء،مختلف مقابلوں میں حصہ لینے والے30امیدواروں کو انعقامات سے نوازاگیا،جملہ135 انعامات تقسیم کئے گئے۔سیہادری آرٹس کالج کےپرنسپال منتخب ہونے ڈاکٹر سید ثناء اللہ کو تہنیت پیش کی گئی۔جلسے میںکیثر تعدادمیں عوام نے شرکت کی جس میں زیادہ تعداد خواتین اور طلباء کی تھی۔جلسے کی نظامت ادارے کے ذمہ داری نومان بیگ نے انجام دی،افتتاحی کلمات ادارے کے ذمہ دارڈاکٹر ریاض محمود نے اداکئے۔جلسے کاآغاز وثیق احمد کی قرات سے کیاگیاجبکہ نعت شریف محمد فاروق شمس نے پیش کیا۔استقبالیہ کلمات ادارے کے کنوینیرشبیراحمد،مہمانوں کا تعارف محمد نجات اللہ خان اورعبدالرشید نے پیش کیا،جبکہ شکریہ کے فرائض شیرازاحمد خان نے انجام دئیے۔