انعام کی کشش بچوں میں جیت کی تحریک پیدا کرتی ہے: ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

گلشن زبیدہ میں ثقافتی شعور کی تربیت اور تقسیم انعامات کا شاندار جلسہ

شکاری پور:۔ علامہ اقبال ہال احاطہ گلشن زبیدہ شکاری پورمیں ایک خصوصی جلسے کا انعقاد کیاگیا۔ اس جلسے کی ایک خاص غرض یہ تھی کہ یوم اطفال کے موقع سے جن بچوں نے ثقافتی اور ادبی پروگراموں میں حصّہ لیکر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا انہیں انعامات سے نوازاجائے اور جلسے کے انعقاد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے بچوں کو ثقافتی پروگرام پیش کرنے کا موقع فراہم کیاگیا۔ جلسے کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے ادا کیے جبکہ انیس الرّحمان نائب سرپرست گلشن زبیدہ، انجینئرمحمد شعیب ممبر مجلس شوریٰ مدرسہ مدینۃ العلوم، مولانا اظہرندوی مہتمم مدرسہ مدینۃ العلوم شکاری پور، عبدالعزیز میر مدرس زبیدہ پرائمری اسکول، حافظ ناصر امام ہلیور مسجد شکاری پور، اور آفاق عالم صدیقی نے شرکت کی۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ’’بچوں کے اندر کھیل کود کے جذبے کی پرورش کرنی بے حد ضروری ہے۔ کیوں کہ یہی جذبہ ان کے اندر جیتنے کا جوش پیدا کرتا ہے۔ آگے بڑھنے کا امنگ پیدا کرتا ہے۔ مشکلوں پر فتح حاصل کرنے کا حوصلہ بخشتا ہے۔ بچوںمیں جب مقابلے کا جذبہ فروغ پانے لگتا ہے تو اس کا فائدہ اس کی تعلیم و تدریس میں بھی نظر آنے لگتا ہے۔ اور وہ اپنے آپ کو ہر طرح کی آزمائش اور امتحان کے لیے تیار کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ کھیل کا جذبہ ہو کہ کسی بھی مسابقے میں جیتنے کا جذبہ یہ بچوں کو زندگی کے سفر میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔‘‘مزید انہوں نےاس بات پر بھی زور دیا کہ’’بچوں کے درمیان مسابقے اور مقابلے کا اہتمام کرتے ہوئے انعام واعزاز کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ انعام کی کشش بچوں میں جیت کی تحریک پیدا کرتی ہے۔ انعام کی کوئی صورت نہ ہو تو اساتذہ اور طلبا خود مل جل کر اس کا اہتمام کریں مگر انعام و اعزاز کا اہتمام ضرور کریں ۔‘‘حافظؔ کرناٹکی نے انعام و اعزاز حاصل کرنے والے سبھی بچوں کو مبارکباد پیش کی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔اس موقع پر آفاق عالم صدیقی نے کہا کہ ’’جس طرح ہم چیزوں کو اس کی ضد سے پہچانتے ہیں، اسی طرح بچے اپنی صلاحیتوں اور اپنی قابلیتوں کو اپنے مقابل کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے آئینے میں دیکھتے اور اس سے واقف ہوتے ہیں۔ بچوں میں کھیل کود ہو کہ ذہنی و فکری ورزش اور مقابلے کی اسپرٹ یہ اسی وقت پروان چڑھتی ہے جب اس کے اندر جیت کی للک پیدا ہوتی ہے۔ہمیں یہ بات ضرور سمجھنی چاہیے کہ مقابلہ جتنا سخت ہوتا ہے صلاحیتوں میں اسی قدر اضافہ ہوتا ہے۔ ایک اچھا کھلاڑی اچھا تب بنتا ہے جب اس کا مقابلہ اس سے بھی اچھے اور بڑے کھلاڑی سے ہوتا ہے۔ کمزور کھلاڑی کے ساتھ کھیلنے اور کھیل کر جیتنے والاکھلاڑی زندگی کی بازی کبھی نہیں جیت پاتا ہے۔ اس لیے مسابقے کو کبھی آسان بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔‘‘انیس الرّحمان نے کہا کہ’’ثقافت اور کھیل کود کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے، ثقافت اور تہذیب اور اخلاق ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہار اور جیت کو کس طرح قبول کرنا چاہیے اور کھیل کود بچوں کے اندر جوش جذبہ اور امنگ پیدا کرتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بغیر جوش اور امنگ کے دنیا میں کوئی کام سرانجام نہیں پاتا ہے۔ اس لیے تعلیم کے ساتھ کھیل کود کااہتمام بھی بہت ضروری ہے۔‘‘ انجینئر محمد شعیب نے کہا کہ’’یہ کہاوت بہت پرانی اور بہت مشہور ہے کہ ایک صحت مند جسم میں ایک صحت مند دماغ رہتا ہے۔ لہٰذا دماغ کو صحت مند اور چست درست رکھنے کیلئے بے حد ضروری ہے کہ بچوں میں کھیل کود اور تفریح و تقریر وغیرہ کے جذبے کی پرورش کی جائے۔ انہیں مقابلے اور مسابقے کی حقیقت سے عملی اور علمی طور پر آگاہ کیا جائے تا کہ وہ زندگی میں ہر طرح کی مشکلوں کا سامنا خود اعتمادی سے کرسکیں۔‘‘مولانا اظہر الدّین اظہر ندوی نے کہا کہ’’اسلام میں بھی بہت سارے کھیلوں کو پسندیدگی کی نظروں سے دیکھا گیا ہے۔ استاد گرامی ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی ایک روشن خیال انسان ہیں۔ اس لیے انہوں نے بچوں کی ذہنی و فکری اور جسمانی نشوونما اور ترقی کیلئے ہر طرح کے بہترین کھیل کود اور تفریح اور مسابقے اور مقابلے کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ اور آگے بڑھ کر بچوں اور بچیوں کے لیے انعامات و اعزازات کا بھی اہتمام کیا۔ یہ انہیں کے خلوص کا نتیجہ ہے کہ آج گلشن زبیدہ کے ہر شعبے میں ہر طرح کے مسابقے، مقابلے اور ثقافتی پروگراموں کا پابندی سے اہتمام کیاجاتا ہے۔‘‘عبدالعزیز نے کہا کہ’’ہمارا اسکول اس اعتبار سے ایک مثالی اسکول ہے کہ اس کے بانی و سرپرست ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی ہیں۔ جو ہر قدم پر رہنمائی فرماتے ہیں۔ اور وقتاً فوقتاً بتاتے رہتے ہیں کہ بچوں کی صلاحیتوں کو ابھارنے کے لیے کون کونسے پروگرام مفید ہوں گے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے اساتذہ اور طلبا بھی ان کے بتائے کاموں کو انجام دینے میں نہایت خوش طبعی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘‘اس جلسے کی انفرادیت یہ تھی کہ اس کی نظامت کے فرائض زبیدہ پرائمری اسکول کی طالبہ نورین تاج نے ادا کی۔ اور استقبال کی ذمہ داری اسی اسکول کی طالبہ مصباح خانم نے ادا کی، اس کے علاوہ اس جلسے میں خصوصی مقررین کی حیثیت سے اسی اسکول کی طالبات عفیفہ بانو، مصباح خانم نے حصّہ لیا اور اپنی تقریر کا رنگ جمایا۔قرأت کلام پاک سے محفل کو نورانی بنانے کا فریضہ محمد ساحل نے ادا کیا۔ اور نعت شریف کا نذرانہ مدیحہ بانو نے پیش کیا۔ اس خوب صورت اور دلچسپ مجلس کا اختتام حافظ محمد ناصر کے شکریہ کے ساتھ ہوا۔