ممبئی،بنگلور: نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) ہفتہ (9 دسمبر) کی صبح سے کرناٹک اور مہاراشٹر میں تقریباً 44 مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، یہ چھاپہ عالمی دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (آئی ایس آئی ایس) کے ذریعے ملک بھر میں دہشت گردانہ حملوں کو انجام دینے کی سازش کے معاملے میں مارا جا رہا ہے۔ داعش کا شمار دنیا کی سب سے خوفناک دہشت گرد تنظیموں میں ہوتا ہے۔اے این آئی کے مطابق، 44 مقامات ایسے ہیں جہاں ہفتہ کی صبح سے این آئی اے کے چھاپے جاری ہیں۔ اس میں سے کرناٹک میں ایک جگہ پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی این آئی اے حکام نے پونے میں 2، تھانے دیہی میں 31، تھانے سٹی میں 9 اور بھئیندر میں ایک جگہ پر چھاپے مارے ہیں۔ این آئی اے دہشت گرد تنظیم کے ہندوستان میں دہشت اور تشدد پھیلانے کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک جامع تحقیقات کر رہی ہے۔اس سے قبل بھی ایسے چھاپے مارے جا چکے ہیں جن میں متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی این آئی اے حکام کی چھاپہ مار کاروائی ابھی بھی جاری ہے۔ ایسے میں یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ اگر حکام کو کوئی ثبوت ملے تو دیگر مقامات پر بھی چھاپے مارے جا سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو چھاپے مارے جانے والے مقامات کی تعداد بڑھ جائے گی۔این آئی اے جس معاملے میں کاروائی کر رہی ہے وہ اسلامک اسٹیٹ سے متعلق ہے۔ اسلامک اسٹیٹ کے کچھ دہشت گرد اب بھی سرگرم ہیں، جن کے ہندوستان میں بھی ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش کے خود ساختہ ماڈیول پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر مہاراشٹر میں آئی ایس کے اس طرح کے ماڈیول کے چھپے ہونے کی اطلاع ہے۔اس سے قبل بھی مہاراشٹر میں اس طرح کے ماڈیول کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔ این آئی اے یہ معلومات بھی اکٹھا کر رہی ہے کہ آیا ان ماڈیولز میں نوجوانوں کو بہکانے اور انہیں بنیاد پرست بنانے کے لیے کوئی کام کیا گیا ہے۔ ریڈیکل مواد انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرکے ان تک نہیں پہنچا ہے۔تفتیشی افسران یہ بھی معلوم کر رہے ہیں کہ آیا نوجوانوں کو داعش کے ماڈیول کے ذریعے دہشت گرد تنظیم میں بھرتی کیا گیا ہے۔ دہشت گرد، نوجوانوں کو بھرتی کرکے بھارت مخالف سرگرمیاں کرنا چاہتے ہیں۔
