500-500 روپئے دیکر ووٹ خریدنے والے لیڈران مشکل وقت میں500 روپئےکی مددنہیں کرپائے

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز

شیموگہ:۔عام طو رپر انتخابات کے موقع پر میونسپل ہو یا کارپوریشن یا پھر ایم ایل اے الیکشن امیدوار بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہوتاہے کہ وہ الیکشن میں جیتیں یا ہاریں وہ جنتا کی سیوا کرتے ہی رہیں گےاور یہی اُمیدوار جنتا کو لبھانے کیلئے کوئی کوککر تحفہ میں دیتاہے تو کوئی فیان کا تحفہ گھروں تک پہنچاتاہے،کوئی گلی محلوں میں دعوت عام کا اہتما م کرتاہے تو کوئی قوم کے درد میں آنسو بہانے لگتاہے۔پھر جب الیکشن کا دن قریب آتاہے توہرووٹ کے عوض میں500 تاایک ہزار کی رشوت گھروں تک پہنچاتاہے۔اس کے 500 اور ایک ہزار دیکھ کر اور ایک امیدوار1500 کی بولی لگاتاہے،تاکہ لوگ اُسے ووٹ دے سکیں،اس طرح سے جوش میں آکر لاکھوں روپیوں خرچ کردیتے ہیں۔اندازے کے مطابق ایک ایک امیدوار معمولی کائونسلر الیکشن کیلئے،کارپوریشن الیکشن کیلئے25 لاکھ اور ایم ایل اے الیکشن کیلئے1 کروڑ روپئے تک بھی خرچ کرتے ہیں اور یہ وہ کیٹگری ہے جو ظلم سے جیتنے کے امکانات رکھتے ہیں ،اتنی بڑی رقم خرچ کرکے بھی ان کا جیتنا کم وبیش مشکل ہی ہوتاہے۔اب بات کرتے ہیں سال21-2020 کے کورونالاک ڈائون کی،جس میں ہزاروں لوگ کئی کئی دن تک بے روزگار رہے،کچھ لوگوں کے گھروں کے چولہے نہیں جل پائے،کچھ لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات کیلئے ہزاروں روپیوں کاقرض سود پر لئے اوراپنے بال بچوں کو بھوکا نہ رکھنے کیلئے نہ کرنے کے کام بھی حلال طریقے سے کرتے ہوئے پیسے کمانے کی کوشش کی۔لیکن جو دعویدار،اُمیدوار اور لیڈران الیکشن کے موقع پر دکھائی دیتےتھے وہ ان ایام میں دور دور تک دکھائی نہیں دئیے۔ہزاروں روپئے خرچ کرنے کی بات تو دور چند سو روپئے بھی بدحال لوگوں کے ہاتھوں میں تھمادیتے تو یقیناً دعائوں کے مستحق کہلاتے۔مگر افسوس کی بات ہے کہ یہ لوگ اس کیلئے تیارہی نہیں ہوئےہیں۔اب بھی کئی لوگ جن کی نوکریاں چھوٹ گئی ہیں وہ نوکری ملنے تک اپنی زندگی صرف خداکے بھروسے گذارنے کیلئے مجبور ہوچکے ہیں۔