دہلی:۔بتایا جاتا ہے کہ کانگریس نے اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لیے مہاراشٹر میں شیوسینا (یو بی ٹی) کو 23 سیٹیں دینے سے انکار کر دیا ہے۔ مہاراشٹر وکاس اگھاڑی کی حلیف شیوسینا (یو بی ٹی)، کانگریس اور این سی پی کے درمیان لوک سبھا انتخابات کے لیے سیٹوں کی تقسیم پر بات کرنے کے لیے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد یہ پیشرفت ہوئی۔ کانگریس کی ایک کمیٹی فی الحال سیٹوں کی تقسیم پر مختلف ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں کے ساتھ میٹنگ کر رہی ہے۔ دو دھڑوں میں بٹی ہوئی شیو سینا (یو بی ٹی) نے 23 لوک سبھا سیٹوں کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے باوجود کہ اس کے زیادہ تر ایم پی ایکناتھ شندے کے ساتھ ہیں۔ بات چیت سے واقف ذرائع نے بتایا کہ ادھو ٹھاکرے کے شیو سینا کے دھڑے کو ایک اہم چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ پارٹی کی تقسیم کی وجہ سے اس کے پاس امیدواروں کی کافی کمی ہے۔ اس کے باوجود وہ 23 سیٹوں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق، میٹنگ میں کانگریس کے نمائندوں نے واضح کیا کہ شیو سینا اور شرد پوار کی این سی پی کے درمیان تقسیم کے بعد،کانگریس ریاست میں مستحکم ووٹ شیئر والی واحد پارٹی دکھائی دیتی ہے۔ یعنی ادھو اور پوار کی پارٹیاں تقسیم ہو گئی ہیں۔ ان کے مقابلے میں کانگریس کا جو بھی ووٹر ہے وہ اپنی جگہ برقرار ہے۔ وہ یہاں اور وہاں منتقل نہیں ہوا ہے۔انڈیا ٹوڈے کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ اور مہاراشٹر کے سینئر کانگریس لیڈر اشوک چوان نے کہا کہ پارٹیوں کے درمیان ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، "اگرچہ ہر پارٹی سیٹوں کا بڑا حصہ چاہتی ہے، لیکن شیو سینا کا 23 سیٹوں کا مطالبہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ضرورت سے زیادہ ہے۔”کانگریس لیڈر سنجے نروپم نے کہا کہ لیڈروں کو جیتی گئی سیٹوں پر تنازعات سے بچنا چاہئے۔ انہوں نے کہا- "شیو سینا 23 سیٹوں کا مطالبہ کر سکتی ہے، لیکن وہ ان کا کیا کرے گی؟ شیو سینا کے لیڈر چلے گئے ہیں، جس سے بحران پیدا ہو گیا ہے۔ امیدواروں کی کمی شیو سینا کے لیے مسئلہ ہے۔صرف مہاراشٹر میں ہی نہیں، یوپی، مغربی بنگال اور بہار میں بھی علاقائی پارٹیاں کانگریس کو زیادہ سیٹیں دینا چاہتی ہیں۔ بہار میں آر جے ڈی، یوپی میں ایس پی اور بنگال میں ٹی ایم سی سیٹوں کو لے کر اپنی اپنی شرائط دے رہی ہیں۔ اس سے ایسا لگتا ہے کہ انڈیا الائنس کو پٹری پر واپس آنا مشکل ہو رہا ہے۔ اگر انڈیا الائنس یوپی اور بہار میں متحد نہ رہ سکا تو ظاہر ہے اپوزیشن کے اتحاد کے خواب چکنا چور ہو جائینگے۔
