شیموگہ:۔ایک طرف کانگریس پارٹی کے مسلمان اتحادقائم کرتے ہوئے کسی بھی مسلمان کوبورڈ وکارپوریشن میں عہدہ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں،تو دوسری جانب اتحاد کارٹ لگانےوالے مسلم کانگریسیوں میں اختلافات پھوٹ پڑے ہیں۔ریاست کانگریس پارٹی اقتدارمیں آنے کے بعد کانگریس پارٹی میں موجود مسلم لیڈروں کو اُمیدہے کہ پارٹی انہیں اپنے وعدے کے مطابق عہدوں سےنوازے گی اور پارٹی میں مناسب نمائندگی کا موقع دیگی۔اسی اُمیدکے سہارےکانگریس میں موجود مسلم لیڈران اپنے لئے بورڈوکارپوریشن کے عہدوں میں نمائندگی کامطالبہ کررہے ہیں،شیموگہ میں خصوصاً شیموگہ بھدراوتی اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے عہدے کی مانگ بہت زیادہ ہے،یہ عہدہ مسلمانوں کو ہی دینے کا وعدہ ضلع کانگریس کےصدر ایچ ایس سندریش،شکست یافتہ امیدوار ایچ سی یوگیش،پارٹی کے ضلعی تشہیری کمیٹی کے صدر این رمیش سمیت مختلف لیڈروں نے مسلمانوں کے حق میں بات کی تھی ۔ اس درمیان کانگریس پارٹی کے شیموگہ بلاک صدر کلیم پاشاہ عرف کلیمہ کو سبوڈاکی صدارت دینے کے مقصد سے ضلع نگران وزیرنے ریاستی حکومت میں پیشکش کی تھی ، جس کے مطابق 10/نومبر2023 کو اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے سکریٹری نے شیموگہ ضلع ڈپٹی کمشنر کو ایک مکتوب روانہ کیاتھا،جس میں کہاگیاتھاکہ کلیم پاشاہ،شیموگہ سائوتھ بلاک کانگریس صدر کامکمل نام ،پتہ اور ان کے تعلق سے تفصیلات مہیاکئےجائیں،اس مکتوب کے بعد ڈپٹی کمشنرنے سبوڈاکمشنرکو تفصیلات اکٹھاکرنے کیلئے ہدایت دی تھی،جیسے ہی کلیم پاشاہ کو سبوڈاصدربنانے کی بات سامنے آئی تو کانگریس کے ہی درجنوں مسلمانوں نے کلیم پاشاہ کے خلاف اپنے اعتراضات درج کروائےاور انہیں اس عہدے سے دور رکھنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زورلگایاتھا ،اس وجہ سے ریاستی حکومت پس وپیش کا شکارہے کہ کلیم پاشاہ کو صدر بنانا ہے یانہیں۔اگر کلیم پاشاہ کا نام الجھن میں نہ آتاتو شائد سبوڈاکی صدارت کیلئے راستہ صاف ہوجاتا۔اسی طرح سے مداری پالیہ اکرم کا نام بھی رکن کیلئے سفارش ہواتھا۔اس طرح سے دومسلمانوں کو یہ عہدہ ملنے سے فی الحال رہ گیاہے۔سوال یہ ہے کہ کورباہویا لنگایت اپنے سماج کے لوگوں کو اقتدارپر لانے کیلئے ایک ہوجاتے ہیں،چاہے وہ زانی ہویا چور ہو،ڈاکوہویاپھر رشوت خور ہو، دوسرے سماج کے لوگ اقتداردلوانے کیلئے کمربستہ رہتے ہیں،مگر مسلمانوں میں اپنےہی اپنوں کوجیب کاٹتے پھرتے ہیں،ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنااور ایک دوسرے کو عہدوں سےمحروم رکھنے کیلئے ایڑی چوٹی کازور لگادیتے ہیں،بھلے اس کیلئے وہ اپنا وقت اور پیسہ ہی کیوں نہ ضائع کرلیں۔اگر واقعی میں مسلمان اپنے سیاسی حقوق کو حاصل کرناچاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنوں کی عزت،اپنوں کو بڑھاوادینے کیلئے تیار رہیں۔
