ایس ڈی پی آئی، پی ایف آئی ‘بنیاد پرست تنظیمیں ہیں، لیکن ان پر پابندی نہیں: کیرالہ ہائی کورٹ

سلائیڈر نیشنل نیوز
ترواننت پورم: پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ‘بنیاد پرست تنظیمیں ہیں، لیکن ان پر پابندی نہیں ہے۔”یہ الفاظ کیرالہ ہائی کورٹ کے ہیں ۔کیرالہ ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی بنیاد پرست تنظیمیں ہیں جو سنگین تشدد میں ملوث ہیں،” گزشتہ سال پالکاڈ میں آرایس ایس کارکن کے قتل معاملے کی سی بی آئی کی طرف سے تحقیقات کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے جسٹس کے ہری پال نے اپنی رائے رکھی ہے ۔عدالت کی طرف سے ان کی تنظیم کے بارے میں متضاد نقطہ نظر پر تبصرہ کرنے کے عمل پر ایس ڈی پی آئی نے کہا ہے کہ وہ جج کی رائےکو فائلوں سے ہٹانے کی اپیل کرے گی۔”یہ ایک سنجیدہ بیان ہے۔ اب تک کسی بھی تفتیشی ایجنسی نے ایس ڈی پی آئی پر ایسا بیان نہیں دیا ہے۔ ایسا بیان کس بنیاد پر دیا گیا ہے؟”یہ سوال ایس ڈی پی آئی کے ریاستی صدر اشرف مولوی نےاٹھایا ہے۔وہیں پی ایف آئی لیڈر سی اے رؤف نے اشارہ دیا ہے کہ وہ بھی ایس ڈی پی آئی کی طرح اس بات کی اپیل کریںگے۔تنظیم کیلئےعدالت کا بیان نامناسب ہے۔لیکن سنگھ پریوار کی تنظیموں نےعدالت کے بیان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پی ایف آئی اورایس ڈی پی آئی ” بنیادپرست اورملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے” عدالت کے اس بیان سےثابت ہوتا ہےاوروہ اس بات کا ثبوت ہے۔ گزشتہ سال 15 نومبر کو آر ایس ایس کارکن اے سنجیت (27) کے معاملے کی انکوائری تھی۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ملزمین کی شناخت ہو چکی ہے اور بہت سے لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، عدالت کا خیال ہے کہ اگر کیس سی بی آئی کو سونپا جاتا ہے تو معاملے کا نتیجہ سامنے آنے میںاورزیادہ تاخیر ہو جائیگی۔