شیموگہ:۔جماعت اسلامی ہند شیموگہ کے امیر مقامی اور ایچ آر ایس کے ریاستی سرگرم رکن محمد خالد کاآج شام کوروناکی طویل علالت کی وجہ سے انتقال ہواہے۔(اناللہ وانالیہ راجعون) ۔ محمد خالد نہایت سادہ زندگی بسرکرنے والے شخصیت،خدمت خلق میں ہمیشہ پیش پیش رہنےو الے اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والے لوگوں میں شمار ہواکرتے تھے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی خدمت خلق میں صرف کردی تھی ۔ ایک ماہ قبل جب شیموگہ میں کوویڈکیلئے ہیلپ ڈیسک بنایا گیا تھا اُس وقت انہوں نے اپنے آپ کو پوری طرح سے اس سرگرمی میں صرف کردیاتھا۔اس کے بعد اچانک انہیں اور ان کے اہل خانہ کوروناکااثر ہوااور انہیں علاج کیلئے منگلوروکے ینا پویا اسپتال میں داخل کروایاگیاتھا۔ان کے اہل خانہ اس مہلک بیماری سے پار ہوئے لیکن محمدخالد اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔ان کی رحلت سے شیموگہ ضلع میں خدمت خلق کے شعبے میں گہرا خلاء پیداہواہے۔اسپتالوں میں بیماروں کی عیادت کرنا ،انہیں طبی امدادفراہم کروانا،ضرورتمندوں کی ضرورت کو پوراکرنا،قدرتی آفات کے موقع پر دن رات ایک کرتے ہوئے راحتی کاموں کو انجام دینا ان کی زندگی کاعزم بن گیاتھااور یہی کام کرتے کرتے وہ اس دنیا سے بھی چلے گئے ہیں۔محمد خالد کا تعلق شیموگہ ضلع کے شرالکوپہ سے تھا اور وہ معاش کے سلسلے میں دو عشرہ قبل شیموگہ منتقل ہوئے تھے،ان کی ملّی وسماجی خدمات کو دیکھتے ہوئے9/اپریل اسی سال انہیں روزنامہ آج کاانقلاب نے اعزازسے نوازاتھا۔ان کی رحلت پر جماعت اسلامی ہند شیموگہ،شرالکوپہ کے اراکین ،کارکنان اور متفقین نے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے ۔اسی سلسلے میں جماعت اسلامی ہند کے ریاستی جنرل سکریٹری مولانا حامدعمری نے اپنے تعزیتی بیان میں کہاکہ محمد خالد کاانتقال نہ صرف جماعت اسلامی ہند کیلئے ایک صدمہ ہےبلکہ سارے شیموگہ ضلع کیلئے ان کاانتقال بہت بڑا نقصان ہے۔محمد خالد نے60سالہ زندگی میں جو خدمات انسانیت کیلئے انجام دی ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات کوبلند کرے اور جزائے عظیم عطا کرتے ہوئے انہیں قبرمیں آسانیاں عطا فرمائےاور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔
