بنگلورو:۔کرناٹکا حکومت کے چیف سکریٹری برائے اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کی جانب سے پی یو بورڈ کو اس بات کی سفارش کی گئی ہے کہ ریاست کے مختلف پی یو کالجوں کیلئے لکچررس کی تقرری کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔چیف سکریٹری نے اپنے مکتوب میں کہاگیاہے کہ 10 سبجکٹ کیلئے778 لکچررس کی تقرری کی جا ئے ۔ ان میں انگلش کیلئے120،کنڑاکیلئے100،ہسٹری کیلئے 120،ایکنامکس کیلئے180،جغرافیہ کیلئے20،کامرس کیلئے80،سوشیالوجی کیلئے75،پالیٹیکل سائنس کیلئے75،سائیکولوجی کیلئے2 اور اسٹاٹس کیلئے6 لکچرروں کی تقرری کیلئےسفارش کی گئی ہے،مگر ان میں اردو زبان کے لکچررس کیلئے ایک بھی عہدہ بتایانہیں گیا ہے۔غورطلب بات یہ ہے کہ ریاست کے مختلف پی یو کالجوں میں اردو لکچررس کی سبکدوشی کے باوجود تقرری نہیں کی جارہی ہے اور کئی کالجوں میں گیسٹ لکچررس سے خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ریاست میں اس وقت اردو لکچررس بننے کی صلاحیت رکھنے والے کئی امیدوارموجودہیں اور وہ مستقل نوکری کے انتظارمیں اپنی عمر گنواتے جارہے ہیں ، ایسے میںاردوکی طرف توجہ دینے والاکوئی نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ اردوکے ساتھ ہورہی اس ناانصافی کے تعلق سے سوال کون اٹھائیگا؟اس وقت ریاست میں اردو زبان کی ترقی،ترویج اور بقاء کے نام پر قائم شدہ انجمن ترقی اردوکی جانب سے کیا اس معاملے کو اٹھایاجائیگااورکیا اردو لکچررس کی تقرری کیلئے آواز لگائی جائیگی؟۔حال ہی میں اسی انجمن نے قومی سطح پر سمینار کا اہتمام کرتے ہوئے وجود کا اعلان کیا تھا ، اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری طورپر کارروائی کریں۔
