شیموگہ:۔بھگود گیتا اور ہندوستان کاآئین ایک ہی طرح کی کتابیں ہیں،اس طرح کا بیان شیموگہ ضلع کےتیرتھ ہلی میں منعقدہ نیشنل ووٹرس ڈے کے موقع پرمقامی عدالت کے جج ایس ایس بھرت نے دیاہے۔25جنوری کو تیرتھ ہلی کی سرکاری فرسٹ گریڈ اورپی جی سینٹرمیں منعقدہ نیشنل ووٹرس ڈے کے موقع پر اُنہوں نے یہ بیان دیاتھا،اس کے علاوہ تقریرمیں شرکت کرنے والے مہمانوں کو تحصیلدار نے بھگود گیتا کی کتابیں تحفے میں دی ہیں،جس کی وجہ سے اس تقریب کو لیکرمقامی لوگوں نے شدید برہمی کااظہارکیاہے۔الیکشن لٹریسی کلب ،تعلقہ انتظامیہ اورکالج کے ای ایل سی شعبہ کی جانب سے مشترکہ طورپر منعقدہ اس جلسے میں جج ایس ایس بھرت،اڈوکیٹ یشونت کمار،سرکاری وکیل کویتا ایچ ڈی،جکن گوڈر نے شرکت کی تھی۔اس جلسے کی صدارت کالج کے سینئرلکچرروجیندرانے کی تھی اور اس جلسے کا مقصد طلباء میں الیکشن کے تعلق سے بیداری لاناتھا۔ملک میں جمہوری نظام کے رائج ہونے جشن سے ایک دن قبل منعقدہ اس تقریب میں جج ایس ایس بھرت نے کہاکہ ہماری مذہبی کتاب بھگود گیتا دستورِہندکے برابرہےاوراپنی تقریرکے اختتام پر انہوں نے جئے شری رام کہا۔اس سلسلے میں کالج کے لکچررکاکہناہے کہ تقریرمیں کس نے کیاکہایہ تمام باتیں غور سے نہیں سنی ہیں،البتہ تقریرکے اختتام پر جج نے جئے شری رام کہا۔غورطلب بات یہ ہے کہ اس تقریب کے اختتام میں مہمانوں کو جو تحفے دئیے گئےہیں وہ بھگودگیتاکی کتابیں ہیں۔یہ کتابیں تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی تھیں۔سوال یہ ہے کہ کسی عدالت کے جج کے عہدے پر فائز ایک شخص جب مذہب کی بنیادپرآئین کو برابر قرار دے رہاہے تو عدلیہ اور انتظامیہ کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی یہ سوچنے والی بات ہے۔اس سے قبل آئی پی ایس افسر ڈی روپانے بھی رام مندرکی تعمیرکو تاریخی قدم بتایاہے اور اُنہوں نے اس موقع پر رام مندرکیلئے قربانیاں دینےوالوں کو یادکرنے کی بھی بات کہی ہے۔بھارت میں اس وقت غیر اعلانیہ ہندوتوا نظام چل رہاہے،جبکہ کرناٹک میں سیکولر بنیادوں پر قائم رہنےوالی حکومت کا دعویٰ کیاجارہاہے۔
