وزیر اعلیٰ سدرامیانے پیش کیا 371383کروڑ روپیوں کا بجٹ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بجٹ میں اقلیتی طبقے کوایک ہزارکروڑ روپیوں کےمنصوبوں کی منظوری؛بجٹ میں تمام طبقات کی ترقی کو اہمیت دینے کی کوشش کی گئی ہے:وزیر اعلیٰ
بنگلورو:۔کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدرامیانے آج سال 25-2024 کاعبوری بجٹ پیش کیا،جس میں اقلیتوں کیلئے قریب1 ہزارکروڑ روپیوں کے منصوبوں کو منظوری دی ہے۔وزیراعلیٰ سدرامیا نے آج صبح اپنا15واں بجٹ پیش کرتے ہوئے تمام طبقات کو معقول بجٹ دینے کا دعویٰ کیا ہے ۔جہاں سال رواں3لاکھ مکانات کی تعمیرکا ہدف طئے کیاگیاہے ،وہیں آنگن واڑی کارکنوں کو اسمارٹ فون دینے کا اعلان کیاگیاہے،جس کیلئے 90 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ اقلیتوں کیلئے پیش کئے گئے بجٹ میں منگلورو میں حج بھون کی تعمیرکیلئے10 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ہیں،جبکہ علمائے کرام کو حالتِ حاضرہ اور جدید معلومات سے بآورکرنے کیلئےکورسس شروع کرنے کا فیصلہ لیاگیاہے،یہ کورسس تربیتی کارگاہوں کی شکل میں پورے کئے جائینگے ۔وقف املاک کے تحفظ کیلئے100کروڑ روپئے دئیے جائینگے،اس کے علاوہ محکمہ آثارِ قدیمہ کے تعائون سے وقف املاک کاتحفظ کیا جا ئیگا ۔ ر یاست کے اہم مذہبی مقامات کی ترقی کیلئے20 کروڑ روپئے منظورکئے گئے ہیں،جبکہ اقلیتی طبقے کو چھوٹے یا درمیانی سطح کی دستکاریوں کو عمل میں لانے کیلئے کے ایس ایف سی کے ذریعے سے10 کروڑ روپئے تک کے قرضے6فیصدکی شرح سود پر دئیے جائینگے ۔ اقلیتی طبقے کی سیلف ہیلپ گروپس کو روزگار مہیا کرنے کیلئے 10 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ،سرکاری یا نجی کالجوں میں بی ایس سی نرسنگ،جے این ایم نرسنگ کورسس کی تعلیم حاصل کررہے طلباء کی فیس مکمل طورپر اداکی جائیگی،یہ اسکیم پہلے بھی شروع کی گئی تھی لیکن درمیان میں روکی گئی تھی ۔ 100/ مولاناآزاد اسکول کا آغازکیاجائیگا،جن اسکولوں کی عمارت ہوگی وہاں پر25 پی یو کالج شروع کئے جائینگے ۔ریاست بھرمیں 100 پوسٹ میٹرک بوائز اینڈ گرلس ہاسٹل شروع کئے جائینگے جس میں 100 طلباء قیام کر پائینگے ۔ 50 نئے مرارجی دیسائی اسکول شروع کئے جائینگے ،جس میں کم ازکم پچاس طلباء کے داخلے ممکن ہوپائینگے ، مسلمانوں کےعلاوہ سکھوں کیلئے بجٹ میں بیدر کے ناناک زیرہ صاحب گرودوارا کیلئے1 کروڑ روپئے منظورکئے گئے ہیں ۔ ریاست میں مقیم سکھوں کی ترقی کیلئے 2 کروڑ روپیوں کی لاگت کا منصوبہ شروع کیاگیاہے۔بُدھ سماج کے مذہبی کتاب کا کنڑا ترجمہ کرنے کیلئے بجٹ منظور کیا گیا ہے، کرسچن سماج کی ترقی کیلئے200 کروڑ روپئے منظورکئے گئے ہیں،اس کے علاوہ کے ایم ڈی سی کیلئے سال 25-2024 کیلئے393 کروڑ روپئے کے مختلف منصوبے منظورکئے گئے ہیں ۔ واضح ہوکہ حال ہی میں مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں کا وفد وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرتے ہوئے5 ہزارکروڑ روپیوں کا مطالبہ کیاتھا ، لیکن مسلم نمائندوں کا یہ مطالبہ شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا ۔ اوسطاً ایک ہزارکروڑ روپئے کا بجٹ اقلیتوں کو منظور کیا گیا ہے ، جس میں کرناٹکااردو اکادمی کا تذکرہ نہیں ہے۔کرناٹک میں غریب ، خواتین ، نوجوان،پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی ترقی کیلئے اہمیت دینے کی کوشش کی گئی ہے،یہ بجٹ تمام طبقات کو ترقی کی جانب لے جانے والابجٹ ہے۔اس  بات کااظہار وزیر اعلیٰ سدرامیانے کیاہے۔آج شام سال 25-2024 بجٹ کو پیش کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ نےپریس کانفرنس میں بات کرتےہوئے کہاکہ ملک میں بے روزگار، مہنگائی جیسے مسائل بڑھتے جارہے ہیں ، عام لوگوں کاجینا مشکل ہوا ہے۔غرباء میں خریدکر زندگی بسرکرنے کیلئے گیارنٹی منصوبے کار آمد ہورہے ہیں،رواں سال اقتدارمیں آنے کے 9 مہینوں میں ہی ہم نے جو عوام سے وعدے کئے تھے اُنہیں پوراکیاہے،اس کے علاوہ زراعت ، آبپاشی ، تعمیرات عامہ، ایندھن اور خشک سالی جیسے مسائل کو ختم کرنے کیلئے بھی ہمارابجٹ ایک مثال ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سا ل 25-2024 کیلئے 371383کروڑ روپیوں والےحجم کا بجٹ پیش کیاگیاہے،گذشتہ سال 327747 کروڑ روپیوں کا بجٹ د یا گیا تھا ۔ گذشتہ سال کے مقابلے میں امسال 46636 کروڑ روپیوں کا بجٹ زیادہ ہوا ہے ۔ اس سال 36000 کروڑ روپئے گیارنٹیوں کیلئے مختص کئے جانے کے باوجوددوسرے ترقیاتی کاموں کیلئے بڑے پیمانے پر رقم مختص کی گئی ہے ۔ ریاست کے 240 میں سے223 تعلقہ جات خشک سالی کا شکارہیں،قریب35 ہزار کروڑ روپئے غذائی اجناس کی پیداوارمیں نقصان ہوا ہے ۔ 18171 کروڑ روپئے این ڈی آر ایف کے ضوابط کے مطابق مرکزی حکومت سے امداد کے طورپر طلب کی گئی ہے،این ڈی آر ایف فنڈس کا تعین فائنانس کمیشن کی طرف سے ہوتا ہے،وہ جمع شدہ رقم مرکزی حکومت کی امدادنہیں ہے ۔ پانچ ماہ گذرنے کے باوجود بھی مرکزی حکومت نے ایک روپیہ کی بھی امداد نہیں دی ہے،نہ ہی کوئی نشست طلب کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ سدرامیانے مزیدبتایاکہ بی جے پی لیڈران من مانی بات کرتے ہیں،ودھان سبھامیں بجٹ پیش کرتے وقت واک آئوٹ کرنے کی کوئی مثال نہیں ہے ۔جیسے ہی بجٹ پڑھنا شروع کیاتو اُس وقت سونیل کمارنےغیرضروری نعرے پکارنا شروع کیا،بی جے پی کو ایوان،جمہوریت اور پارلیمانی طریقوں پر بھروسہ نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ مزید سوال کیاکہ مرکزی حکومت کرناٹک کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے تو کیا خاموش بیٹھنا پڑیگا؟،ہم اپنے حق کیلئے بات کررہے ہیں،جبکہ بی جے پی کے اراکین پارلیمان پانچ سالوں میں ایک باربھی کرناٹک کے حق کیلئے بات کرنا گوارانہیں سمجھے ۔