از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
پچھلے دنوں گیان واپی مسجد جو کاشی میں موجود ہے،اُس مسجد کی ایک ہزار مربع فٹ زمین کو مندرکیلئے وقف کردیا اور ا س بات کا اعلان کیاکہ ہم نے حکمت کے تحت اخوت وبھائی چارگی کیلئےمسجدکی اراضی کومندرکے نام کیاہے اوراس سے بھارت میں گنگا جمنا تہذیب فروغ پائیگی۔اچھی بات ہے کہ آج بھی بھارت کےکچھ مسلمان گنگا جمنا تہذیب کے نام پر مسجدوں کی اراضیوں کو مندروں کیلئے وقف کرنے لگے ہیں۔یہ معاملہ بالکل بابری مسجدکے فیصلے کی مانندہے،جس میں بھارت کی یکتاکوبرقراررکھنے کیلئے رام مندرٹرسٹ کیلئے بابری مسجدکی جگہ کو دینے کیلئے بھارتی عدالت نے فیصلہ نے سنایاتھا۔اب یہاں صرف ایک دعویداری کے بعد مسجدکے ذمہ داروں نے ایک ہزار اسکوئر فٹ زمین کو وقف کردی ہے جوکہ مسلمانوں کیلئے شرم کی بات ہے۔اگرواقعی میں مسجدمندرکے احاطے میں تھی یاپھر مندرکی جگہ پر مسجدتعمیر ہوئی تھی تو مسلمانوں نے پہلے ہی اس تعلق سے وضاحت دیتے ہوئے اراضی کو چھوڑ کیوں نہیںدیا؟۔حکمت کے نام پر جس طرح سے بزدلی کامظاہرہ کیاجارہاہے وہ آنےو الے دنوں میں مسلمانوںکیلئے بہت بڑے خطر ے کی علامت ہے،اس بات کو سمجھنے کے بجائے مسلم دانشوران،مسلم سیاستدان، مسلم مذہبی رہنماء اور قانون دان کیوں لاپرواہی برت رہے ہیں اس کا اندازہ نہیں ہورہاہے۔آج گیان واپی مسجدکی اراضی کو مصلیحت وحکمت کے نام پر مندرکیلئے وقف کردیاگیاہے،کل ممکن ہے کہ دہلی کی جامع مسجد کو بھی سنگھیوں کو خوش کرنے کیلئے وقف کرد جائیگی۔وقف کرنے کیلئے ایک گروہ تیارہوجائیگا اور کہے گا کہ ہم اس ملک کے شہری ہیںاور ہمیں گنگا جمنا تہذیب کو اپنانے کی ضرورت ہے۔اگر واقعی میں گنگا جمنا تہذیب کواپناناہے تو اپنے گھروں سے اس کی شروعات کی جائے،اپنی ملکیت میں آنےو الی اراضیوں کو مندروںکیلئے کردئیے جائیں،اپنی بیٹیوں کی شادیاں غیروں کے یہاں کریں تو شائد گنگا جمنا تہذیب کی انوکھی مثال قائم ہونگی۔مگر جو زمینیں جو املاک اور جو اوقاف مسلمانوں کیلئے ہیں،مسلمانوں کی ہیں اور مسلمانوں کیلئے رہیں گی انہیں دوسروں کے حوالے کی ضرورت کیاہے؟۔ہم اپنے گھرکے سامنے کسی اور کی ایک موٹربائک پارکنگ کیلئے موقع نہیں دیتے تو ان مسجدوں کی زمینوں کو کس بنیادپر دوسروں کے حوالے کرنے کی چال شروع ہوئی ہے۔ایک طرف ایسے حالات ہیں تو ملک کے کئی مقامات پر ایسےہزاروں مسجدیں بھی ہیں جن کے پاس مضبوط دستاویزات نہیں ہیں،جن لوگوں نے مسجدوں کیلئے زمینیں وقف کی تھیں،وہ زمینیں آج بھی وقف کرنے والوں کے نام پرہی ہیں کہ مسجدوں کے نام پر۔تو کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو وقف کردہ اراضیوں کو اداروں کے نام پر رجسٹر کروانے کے بجائے اپنے نام پر رجسٹررکرواکر اپنی ملکیت میں شمارکرنے لگے ہیں،مانوکہ وہ مسجد یا مدرسہ کے مالک بن گئے ہیں۔کبھی کبھی اس بات کو بھی سوچنا پڑرہاہے کہ مسجدوں ومدرسے جب چند لوگوں کی ملکیت میں ہیں تو عام مسلمان انہیں چندہ کیوں دیں؟کیونکہ ٹرسٹ کے ماتحت رجسٹررکرواکر محدود لوگ ہی ان مسجدوں ومدرسوں کے مالک بنے بیٹھتے ہیں اور ان کے یہاں کوئی دوسرا شخص ان کی انتظامیہ امورمیں مداخلت نہیں کرسکتا۔بعض مقامات پر یہ بھی دیکھاگیاہے کہ یہ مسجدوں ومدرسوں کی بنیادرکھنے والے اشخاص ہی دینی اداروں کے مالک بنے بیٹھے ہیں اور ان کی معیاد ان کے مرنے تک باقی رہتی ہے۔اگرچہ یہ لوگ مرجاتے ہیں توان کی جگہ پر ان کی اولاد عہدے سنبھال لیتی ہیں،مانوکہ یہ ادارے اللہ کیلئے نہیں بلکہ ان کی ملکیت ہے۔جب تک مسجدوں مدرسوں کو آزاد نہیں رکھاجاتا،وہاں پر جمہوری نظام نہیں چلایاجاتا،اُس وقت تک اُن مسجدوں ومدرسوں سے حق کی آواز نہیں نکل سکتی۔ہم بات کررہے تھے گیان واپی مسجد کی جس کی ایک ہزار مربع فٹ کی جگہ کو مسجدکمیٹی نے مندرکو وقف کردیاہے،کیا مسجد کمیٹی کو اس بات کااختیارتھاکہ وہ مسجدکی اراضی کو غیروں کے حوالے کردے؟نہ تووقف قانون میں اس کی گنجائش ہے اور نہ ہی شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے۔پوری طرح سے مسجدیں ومدرسے اپنی من مانیوں کے ساتھ چلائے جارہے ہیں،جس کاخمیازہ آنےو الے وقتوں میں اٹھانا پڑسکتاہے۔
