تعلیمی اداروں میں حجاب اوراردو زبان پر پابندی ; ہندوتوا نظام کی بجنے لگی گھنٹی،مسلمانوں میں اب بھی باقی لاپرواہی

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:(خصوصی رپورٹ مدثراحمد):۔ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح کرناٹک میں بھی ہندوتوانظام کو جاری رکھنے کرنے کیلئے شرپسند عناصرکی جانب سے کارروائیاں شروع ہوچکی ہیں ، اب تک مسلمانوں کو حراساں کرنے کیلئے بیرونی غنڈے مداخلت کررہے تھے،لیکن اب تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں ہیں،جس کاخمیازہ پورے طلباء برادری کو اٹھاناپڑرہاہے ۔ کرناٹک کے اُڈپی کی سرکاری پی یو کالج میں طالبات کو نہ صرف حجاج پہننےسے روکاگیابلکہ انہیں اردو اور بیری زبان میں بات کرنے پر اسکول سےبے دخل کردیاگیا۔اس واقعہ کے بعد یہ چرچہ پھر ایک مرتبہ تیز ہوگئی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے،لیکن یہ بحث اٗس وقت بے معنی ہوجاتی ہے جب مسلمانوں کے موجودہ تعلیمی اداروں پر نظریں دوڑائی جاتی ہیں۔اس وقت کرناٹک کے مختلف اضلاع میں مسلمانوں کے اچھے تعلیمی ادارے موجودہیں جہاں پر تعلیم کا سلسلہ دوسرے تعلیمی اداروں سے بہتر ہے،مگر مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اب بھی غیروں پریقین کرتےہوئے اپنے بچوں کو غیر مسلم تعلیمی اداروں میں داخلہ دلوارہے ہیں اور جب بھی حجاب،پردہ،طہارت کاانتظام،نمازوں کا اہتمام کو لیکر بات آتی ہے تو یہ کہاجاتاہے کہ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کا قیام کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ غیر مسلم تعلیمی اداروں میں طلباء کا استحصال کیاجارہاہے۔ درحقیقت دیکھا جائے تو اس وقت مسلمانوں کے تعلیمی ادارے جن میں پرائمری سے لیکر ڈگری تک کہ تعلیمی ادارے ہیں،وہاں پر مسلمان یہ عزم کرتے ہوئے اپنے بچوں کا داخلہ کرواتے ہیں کہ وہ مسلم معاشرے میں ہی تعلیم حاصل کریں تو جو خواب مسلم تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے ہے وہ پورا ہوسکتاہے،لیکن مسلمانوں میں اپنے اداروں کے تئیں نااُمیدی اور بدگمانیوں کی وجہ سے مسلم تعلیمی ادارے ترقی نہیں کرپار ہے ہیں ،جس کا فائدہ غیر مسلم تعلیمی ادارے اٹھارہے ہیں۔اس وقت اگر مسلمان اپنی نسلوں کو شر وفتنوں سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ غیروں کے تعلیمی اداروں کوترجیح نہ دیتےہوئے اپنے تعلیمی ادارے قائم کریں ۔ایک طرف مسلمانوں کاغیرمسلم تعلیمی اداروں میں استحصال ہورہاہے تو دوسری جانب مسلمان مسلم تعلیمی اداروں کو بڑھاوادینے،تعائون کرنے ،اپنے بچوں کو داخلہ دلوانے کے بجائے غیر مسلم تعلیمی اداروں کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔آج غیر مسلم تعلیمی ادارے پھل پھول رہے ہیں تو وہ مسلمانوں کی وجہ سے ہے،جہاں پر مسلمانوں کی کثرت پائی جاتی ہے۔مسلمانوں کو بے وقوف بنا کر سیٹ نہ ہونے کی بات کہی جاتی ہے،پھر بعدمیں زیادہ فیس کی ادائیگی پر مسلمانوں کے بچوں کو داخلے دئیے جاتے ہیں اور انہیں پیسوں سے یہ ادارے اپنے تعلیمی اداروں کو فروغ دے رہے ہیں ۔ کرناٹک میں الامین،شاہین، ٹیپو شہید،مونٹ فاراں، گرین ویالی،وزڈم،امپیریل ،یناپویا جیسے ایک درجن سے زائد ایسے تعلیمی ادارے ہیں جو مسلمانوں کو بہترین تعلیم دینے کا مقصد لیکر قائم کئے گئے ہیں۔مگر ان تعلیمی اداروں پر مسلمانوں کو کم بھروسہ اور غیروں پر زیادہ بھروسہ پایاجاتاہے،جس کی وجہ سے آج وہ برقعہ نکالنے کیلئے کہیں تو بھی راضی ،ہاف اسکرٹ پہن کر اسکول آنے کہیں تو بھی راضی،ٹائٹ فٹ کپڑے پہننے کیلئے کہیں تو بھی راضی،لڑکوں کوہاف پینٹ پہننے کیلئے کہیں تو بھی راضی،کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کیلئے کہا جائے تو بھی راضی ہورہے ہیں۔بہت سارے تعلیمی اداروں میں تو شرک کو عام کیاجارہاہے جس میں کبھی بچوں کو رام بنایا جارہاہے تو کبھی لڑکیوں کو سیتا بنایا جارہا ہے تو کبھی سرسوتی کا روپ دیاجارہاہے تو لڑکوں کے ہاتھوں میں کرشنا کی بانسری تھمائی جارہی ہے۔ایسے میں اگر مسلمانوں کو تحفظ ملے تو کیسے ملے،جو بچہ رام و کرشن بنے گاتو وہ رام راج بنانے کیلئے ہی کام کریگااور جو بچہ انبیاء، صحابہ وخلفاء کی تعلیم حاصل کریگا وہ اس زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرنے کیلئے پابندرہے گا۔