احمد آباد : مشہور عالم مفتی سلمان ازہری پر پریشانیوں کا سلسلہ تھمتا دکھائی نہیں دے رہاہے ۔مفتی سلمان ازہر ی کے خلاف گجرات کے ضلع اروالی میں درج کئے گئے نفرت انگیز تقریر کیس میں ضمانت منظور کئے جانے کے بعد گجرات پولیس نے انہیں احتیاطی طور پر حراست میں لے لیا۔قبل ازیں دن میں ایڈیشنل سیشن جج ایچ این وکیل کی عدالت نے مفتی سلمان ازہری کو مشروط ضمانت منظور کی جن پر گزشتہ سال 24 دسمبر کو ماڈوسہ میں ایک کھلے میدان میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیاگیا تھا۔گجرات میں نفرت انگیز تقریر کا یہ تیسرا کیس تھاجس میں عالم دین کو ضمانت دیئے جانے سے پہلے گرفتار کیاگیاتھا۔بہر حال ضمانت پر رہاکئے جانے کے فوری بعد انہیں جوناگڑھ مقامی کرائم برانچ نے انسداد غیر سماجی سرگرمیاں ایکٹ(پی اے ایس اے) کے تحت ماڈوسہ میں حراست لے لیا۔ انہیں ودوڈرہ سنٹرل جیل بھیج دیاجائے گا۔جوناگڑھ کرائم برانچ کے انسپکٹر جتن پٹیل نے بتایا کہ جوناگڑھ کے کلکٹر کی جانب سے مفتی سلمان کے خلاف وارنٹ جاری کئے جانے کے فوری بعد ہم نے انہیں پی اے ایس اے قانون کے تحت حراست میں لے لیا۔پاسا ایکٹ( انسداد سماجی سرگرمی کی روک تھام )۔اس قانون کے تحت امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے خطرناک مجرموں، ناجائز شراب فروشوں، منشیات فروشوں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں اور جائیداد چھیننے والوں کی سماج دشمن اور خطرناک سرگرمیوں کو روکنے کے لیے احتیاطی حراست کی جاتی ہے۔مذکورہ بالا عناصر کو گجرات پریوینشن آف اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز ایکٹ (PASA)، 1985 کے سیکشن 3(2) کے تحت حراست میں لیا جاتا ہے۔پاسا میں صرف مشاورتی بورڈ کی طرف سے برخاست کیا جائے گا: اس معاملے میں، ملزم پہلے ریاستی حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ مشاورتی بورڈ کے پاس اپیل کر سکتا ہے۔ اگر بورڈ کو لگتا ہے کہ ایکٹ کا غلط استعمال ہوا ہے تو وہ پاسا ایکٹ کو مسترد کر سکتا ہے۔ اگر یہاں سے بھی ملزم کو ریلیف نہیں ملتا تو وہ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ جا سکتے ہیں۔تین مقدمات ہونے کے بعد پاسا ایکٹ کو کلکٹر کی رضامندی سے لگایا جاتا ہے اور پاسا میں کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے سے پہلے اس کے خلاف آئی پی سی اور دیگر ایکٹ کے تحت تین مقدمات درج ہونا ضروری ہے اس کے بعد تھانہ انچارج فائل کو منظوری کے لیے کلکٹر کے پاس بھیجتا ہے۔ وہاں سے اطمینان حاصل کرنے کے بعد ملزم کو پاسا کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے۔گجرات اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز ایکٹ 1985 ریاست میں 1985 سے نافذ ہے۔ اب تک، انڈین پینل کوڈ اور آرمس ایکٹ کے تحت جرائم، سرکاری اور نجی املاک پر قبضہ کرنے والوں، منشیات کے مجرموں، شراب کے اسمگلروں، جواریوں، جسم فروشی میں ملوث افراد، مویشیوں کو ذبح کرنے وغیرہ کے معاملات میں بھی یہی لاگو تھا۔ سوال یہ کہ ایک مسلمان عالم دین نے آخر ایسا کونسا گناہ کردیا ہے جس پر گجرات حکومت نے پاسا ایکٹ نافذ کیاہے جبکہ کئی پجاری ، ہندو تنظیموں کے سربراہان عصمت دری ، شراب نوشی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوکر بھی آزاد سانڈھوں کی طرح گھوم رہے ہیں ۔
