کھوئی ساخت اور اس کا حل

مضامین

از:۔محمد صفی اللہ شریف ۔9008331858

ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب بر صغیر میں مسلمانوں کی پہچان ایک معزز معتبر اور باوقار قوم کی حیثیت کی جاتی تھی- یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں کی بدولت سارا خطہ علم ،ادب ، تہذیب و تمدن کا مرکز مانا جاتا تھا – آج بھی اس دور کی عمارتیں ، نقش و نگاری ، مصوری ، موسیقی کے آلات ، شاعری اور دیگر فنون لطیفہ کی لاثانی حیثیت ہے ۔ اس کے علاوہ دور جدید میں بھی خور و نوش اور پوشاک سازی میں شاہانہ انداز کا احساس بخوبی ہوتا ہے ۔ جب مسلمان اقتدار سنبھال رہے تھے تب ایک ایسے معاشرہ کی تشکیل ہوئی جس میں ہر قوم و مذہب کو عزت و احترام حاصل تھا- اس بات سے بھی انکار نہیں کہ کچھ ایک چیزیں ٹھیک نہیں تھی لیکن ہر جگہ استثنئ موجود ہوتا- عمومی طور پر وہ برصغیر کا بہترین دور تھا اور یہ حقیقت ہے کہ بر صغیر کی تاریخ میں مسلمان ہمیشہ سے ایک قابل قدر اور معزز قوم کے طور پر رہے ہیں۔اور یہ خطہ سونے کی چڑیا کے نام سے مشہور تھا۔
تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی، معاشی، اور سماجی حالات میں تبدیلیاں آئیں، جنہوں نے مسلمانوں کی حیثیت اور شناخت کو متاثر کیا۔ اب صورت حال یہ ہے کے اس قوم کی پسماندگی کی سطح کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی تشکیل کی گئی اور معلوم ہوا کے یہ قوم باقی اقوام کے مقابلہ میں سب سے زیادہ پسماندہ ہے۔ باوجود اس کمیٹی کی تجویز کردہ کسی بھی نکتے پر دس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے پر بھی عمل نہ ہو سکا- اس کے برعکس کئی ایسے نئے نئے قوانین بنائے گئے اور یہ عمل جاری ہےجس کے زریعہ اس قوم کو مزید پسماندہ بنایا جا سکے۔
بات یہیں تک ختم نہیں ہوئی کبھی لباس کو لیکر ہنگامہ تو کبھی مخصوص کھانے پینے پر پابندیاں عاید کی گئی تو کبھی مکان خریدنے اور کرائے پر لینے میں رکاوٹیں۔ کہیں کچھ دشواریاں تو کہیں کچھ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کے یہ تصور بدلہ کیسے کیسے یہ حاکم قوم محکوم ہو گئی کیسے اس نے اپنی پہچان کھوئی- یہ ایک طویل گفتگو کا موضوع ہے۔ اس موضوع پر مسلسل کسی نہ کسی پلاٹ فارم پر دانشورں کا تبادل خیال کرنا ضروری ہے-
اس کے لئے ضروری ہے کے مسلکی عقائد سے اوپر اٹھ کر اور لسانی حدود سے آگے ایک پلاٹ پر جمع ہوکر کسی خاص مکتب فکر کی یا کسی سیاسی بنا پر نہیں بلکہ ایک سادہ کمیونٹی کی حیثیت سے مجموعی طور پر کام کرنا ہوگا۔ مگر اس طرح کے کئی ادارے موجود ہیں اہم بات یہ ہے کے ان سب اداروں کی کارکردگی کس حد تک موثر ہے کس حد تک اداروں میں ترقی پسند خیالات اور تجاویز پرسنجیدگی سے غور اور عمل کیا جا رہا ہے- ان اداروں میں لئے گئے فیصلے اور پروگرام کس حد تک نتیجہ خیز ہیں؟ اگر ہیں تو بڑی عمدہ بات ہے اگر نہیں تو زمینی سطح پہ کام ہونا لازمی ہے۔
ضرورت ہے اس پسماندگی سے قوم کو باہر نکالنے اور جو منفی تصور دوسری اقوام میں ہے اسے بدلنے کی سعی کرنی چاہیے – اس سلسلے میں نئے نئے پروگرام کرکے بیں المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش ہونی چاہیے۔ ہر وہ کام جو قوم کی ترقی کا باعث بنے اسے زمینی سطح پر نتیجہ خیز اورمنصوبہ بندی کے ساتھ کام ہونا چاہیے- ایسے مواقع تلاش کرنا ہے جس سے دوسرےاقوام کے ساتھ ہمارا رابطہ و اعتماد قائم رہے – نوجوان نسل میں بیداری لانی ہوگی جس سے وہ ثمر آور شہری بن سکے۔ خاص کر لڑکوں میں تعلیم چھوڑنے کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ تلاش کرکے اس کو کم کرنے اور دھیرے دھیرے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لڑکیوں کو صرف تعلیم سے آراستہ کرنا ہی نہیں بلکہ با صلاحیت اور با اختیار بھی بنانا ہے۔ کسی بھی قوم کی پہچان کو باقی رکھنے کے لئے ثقافت کی بقا ایک کلیدی چیز ہے،اس کے لئے چھوٹی سطح پر تقافتی پروگرام اور مقابلوں کا انعقاد ضروری ہے جیسا کے موضوع پر مبنی مصوری ، فنی اور دیسی کھیلوں کے مقابلے، خور و نوش کی تقریبات ، اور دیگر کام جس سے ایک دوسرے سے رابطہ سازی بنی رہے اور ایک خوش گوار ماحول بنے۔
معاشرہ میں اخلاقی بہتری پیدا کرنے کے لئے دانشور حضرات اپتا تعاون روایتی ، جدید اور بعض تکنیکی آلات و زرائع کا استعمال کرسکتے ہیں مثال کے طور پر فسانہ گوئی ، اصلاح پر مبنی تفریحی پروگرام کا انعقاد وغیرہ۔
یہ وہ چند نکات ہیں جس سے معاشرہ میں ایک ترقی پسندانہ مثبت سوچ کو فروغ دینے میں کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اور اس سے کھوئی ہوئی ساخت کو بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اور کئی تجاویز ہونگی جو کارآمد ثابت ہو سکتی ہوں۔ ان موضوعات پر سنجیدگی سے تبادل خیال ہونا چاہیے اور باقاعدہ ڈیبیٹ ہونی چاہیے۔
ایک ایسا پلاٹ فارم جہاں مسلکی وسیاسی چیزوں کو دور رکھ کر ایک سادہ اور اجتماعی پہچان کے ساتھ جو اپنے کو مسلمان کہتا ہے وہ ہرشخص جمع ہو اور اس بات فکر کرے کے اپنی ثقافت اور علاقائی پہچان کوکیسے برقررکھا جائے۔ اور معاشرہ میں ہمارا وقار اور مرتبہ کیسے بلند ہو- جو نوجوان بے راہ روی کا شکار ہیں انہیں کیسے معاشرہ کےساتھ جوڑا جائےاور انہیں کیسے ثمر یاب بنایا جائے- جو لوگ بے گھر ہیں انکے لئے حکومت کی اسکیموں کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ ہر طالب علم کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی جائے صرف عصری تعلیم ہی نہیں بلکہ مدرسے فارغ ہوئے طالب علم کو بھی بیداری لائی جائے کے وہ اپنے میدان میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ دوسرے علوم میں بھی مہارت حاصل کریں۔
چھوٹے چھوٹے پروگرام جس سے دوسری قوموں کے قریب جانے کا موقعہ ہو اس کا انعقاد کیا جائے جیسے مسجد درشن ، شجر کاری، عید ملن ، خون کے عطیہ کا کیمپ ، صفائی مہم، آرٹ ایکسپو، ہیلتھ کیمپ وغیرہ۔
ہر محلے کا ڈاتا بیس ہو جس سے معلوم ہو کتنے بچے تعلیم ترک کر رہے ہیں- اور انہیں کیسے اس سے بچایا جاسکے- اجازت کے ساتھ ایسی فہرست بھی تیارہو جو عمر ہونے کے باوجود رشتہ نہ ہو سکا اس سے ان کے عقد کا کچھ حل نکال سکیں۔
یہ سب تبھی ممکن ہو سکتاہے جب ہم سیاست مسلک سے الگ خالص سماجی خدمت خلوص کے ساتھ کرنے کا عہد کریں اور زمینی سطح پر مسلسل کام کرتے رہیں۔
امید ہے کے مستقبل میں مسلکی اور سیاسی امتیازات سے اوپر اٹھ کر ایک عام معاشرہ کی تشکیل عمل میں آئیگی جس میں ایک ترقی پسندانہ مثبت سوچ کے ساتھ خوش گوار ماحول کی امید کی جا سکتی ہے۔