از:۔مفتی محمد ارشدفاروقی ،رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

تقویٰ اور اس کے اثرات
قرآن کریم نے رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کا مقصد تقویٰ کا حصول قرار دیا ہے ،،اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر روزے فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ (بقرہ 183) ہر مسلمان کی زندگی میں اس کی روح کا تقویٰ کی قندیل سے روشن ہونا ضروری ہے تقویٰ کی اعلی صفت کا حصول اور تقویٰ کے گھنے سائے کی تلاش ضروری ہے تاکہ تقویٰ کا چمکتا دمکتا لباس زیب روح ہو سکے ،لباس تقویٰ بہتر ہے، (اعراف 26) تقویٰ بہترین توشہ ہے جسے انسان اخرت کے لیے ذخیرہ کر سکتا ہے ،اور توشہ تیار کرو کیونکہ بہترین توشہ تقویٰ ہے۔(بقرہ 197 )
متقی کی موت زندگی ہے ،اس کے لیے فنا نہیں ہے ،بہت سے لوگ مر گئے درحقیقت وہ زندہ ہیں، ترجمہ عربی شعر۔ جس نے لباس تقویٰ اپنا لیا اس کا شمار اللہ کے معزز باوقار بندوں میں ہوگا ۔
،،بے شک تم میں سے سب سے معزز اللہ کے ہاں تم میں کا سب سے بڑا متقی ہے ،،(حجرات 13) تقویٰ روزی مہیاہونے اور اسانی سے ملنے کا ذریعہ ہے، ،جو اللہ کا تقویٰ اپنائے اللہ اس کے لیے ہر مشکل سے نکلنا اسان فرما دیتا ہے اور ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جس کا وہم و گمان بھی نہ ہو،، (طلاق ٣) اللہ تعالی نے حکم دیا ہے، نیکی اور تقویٰ کے بارے میں ایک دوسرے کی مدد کرو،( مائدہ ٢) معاذ ابن جبل کہتے ہیں کہ معمولی ریا بھی شرک ہے اور اللہ کو محبوب بندے متقی و پرہیزگار بندے ہیں یہی لوگ ہدایت کے امام، علم کے چراغ ہیں۔
عقل کا اولیں تقاضہ صفت تقویٰ اپنانا ،باطن کی اصلاح کرنا ہے جس کا باطن درست ہو جائے اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی ٹھیک کر دیتے ہیں اور عقل مند تو وہی ہے جو اپنے حالات کا جائزہ باریک بینی سے لیتا رہتا ہے اور اپنی زبان کو ہمیشہ تقویٰ کی لگام دیے رہتا ہے جب انسان لباس تقویٰ زیب تن نہیں کرتا ہے تو اچھی صفات سے عاری ہوتا ہے چاہے کتنے ہی قیمتی پوشاک میں کیوں نہ ہو ،انسان کا بہترین لباس پروردگار کی فرمانبرداری ہے اور جو اللہ کا نافرمان ہو اس میں بھلائی کا وجود نہیں ایک مرددانا سے تقویٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ جب خاردار گھاٹی دشوار گزار راستے سے کوئی گزرتا ہے تو وہ بچاؤ کی کون سی تدابیر اپناتا ہے پوچھنے والے نے کہا کہ ہم اپنے دامن سمیٹ لیتے ہیں اور سبک سار ڈرے سہمے بچتے بچاتے نکل جاتے ہیں مرد دانا نے جواب دیا دنیا میں رہنے کے لیے یہی طریقہ اپنا لو، یہی تقویٰ ہے۔
تقویٰ کا لغوی معنی بچنا ہے یعنی شریعت میں تقویٰ کی حقیقت یہ ہے کہ ان تمام حرام چیزوں سے گریز کیا جائے جو اخرت کی مضرتوں سے بچائے اور شرک سے بچنا تو انتہائی ادنی درجہ ہے ،تقوی کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جن چیزوں کا حکم دیا ہے ان میں اپ کو ہمیشہ مصروف دیکھے اور جن چیزوں سے روکا ہے ان سے ہمیشہ دور دیکھے، تقویٰ ہی دراصل ہر عافیت کی جڑ ہے، تقویٰ ایسا پہرے دار ہے جو کبھی نہیں سوتا غلطی کے وقت ہاتھ پکڑ لیتا ہے ،حد توڑنے سے بچا لیتا ہے ،تقوی اللہ سے دور کرنے والی ہر چیز سے بچاتا ہے تقویٰ بچنے کا ایسا آلہ ہے جو دلوں کی بیماریوں کو ختم کر دیتا ہے تقویٰ کی تاکید اللہ نے ہر امت کو فرمائی ، ، اور ہم نے تم سے پہلے اہل کتاب کو تاکید کی اور تم کو بھی کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو (نساء 131 )
حضرت لقمان حکیم سے پوچھا گیا کہ انسان کی سب سے اچھی صفت کیا ہے،انہوں نے جواب دیا دین دار ہونا پوچھا گیا ،دوسری صفت کیا ہو سکتی ہے، جواب دیا مالدار ہونا پوچھا گیا تیسری صفت کیا ہو سکتی ہے ؟جواب دیا حیا دار ہونا ، پوچھا گیا چوتھی کیا ہو سکتی ہے ؟فرمایا اخلاق مند ہونا , پوچھا گیا پانچویں کیا ہو سکتی ہے ؟فرمایا دیندار ،مالدار، حیا دار ،اخلاق مند اور سخی ہونا۔ یہ پانچ صفات جس کے اندر جمع ہو جائیں وہ متقی ہے، اللہ کا ولی ہے ، تقویٰ کے ذریعہ ہر بری شے سے نجات مل جاتی ہے ،،اور اللہ تعالی بچا لیتا ہے ان لوگوں کو جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ان کی کامیابی کے ذریعہ اور انہیں کوئی برائی نہیں پہنچتی اور نہ وہ غمگین ہوتےہیں ( زمرم 61) تقویٰ کے ذریعے تمام نیک اعمال جن کی قبولیت کی توقع ہوتی ہے قبول ہو جاتے ہیں، بے شک اللہ تعالی متقیوں کی طرف سے قبول فرماتا ہے( مائدہ 27)
اور جب خواہشات سر اٹھائیں تو تقویٰ کے ذریعہ کچل دیں اور گناہ کی ٹہنے کو کاٹ دیں اور کاٹنے والی چیز کو تیز کر لیں کہ چمک اٹھے ،جس کا سرمایہ تقویٰ ہو تو اس کے نفع کو لوگ خوب بیان کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ عقل کے بستہ کو تقویٰ کی رسی سے مضبوط باندھیں
تقویٰ ایسا بندھن ہے جو نفس کو باندھے رہتا ہے تاکہ خواہشات کی چراگاہ میں چلنے لگے، تقویٰ مضبوط اہنی ہتھکڑی ہے، مومن بچ کر نہیں نکل سکتا تقویٰ ایک اڑ ہے ،ایک بچاؤ ہے، ضرر سے بچنے کا وسیلہ ہے ،مسلمان کو ہر مضرت و خسارے اور اذیت سے بچاتا ہے تقویٰ انسانی اخلاقیات کی اہم بنیاد ہے ،تقوی ایسا لفظ ہے جس کے بے شمار گوشے ہیں جن سے ہر طرح کی رہنمائی کے طریقے راستے پھوٹتے ہیں اور شاخیں نکلتی ہیں کامیابی کے چشمے رواں ہوتے ہیں، تقویٰ اللہ کی یاد ذکر و فکر اور مراقبہ کے ساتھ پسندیدہ اعمال کو اپنانے کی فکر اور اللہ کے عذاب سے ڈرانا سکھاتا ہے، تقویٰ اللہ کی اطاعت اللہ کا ذکر دوامی مسلسل ہے، اللہ کی نعمتوں نوازشوں اور بخششوں کا ہمہ وقت شکر ہے ،تقویٰ آخرت کا دروازہ ہے اور حسب و نسب سے عالی ہے۔انسان کی قدر صرف دین و تقویٰ کی وجہ سے ہے نصیب پر بھروسہ کر کے صفت تقویٰ سے دوری نہ بناؤ ۔سلمان فارسی کو اسلام نے عزت بخشی اور ابو لہب کو کفر کے کفر نے قعر مذلت میں ڈال دیا جس کا نسب بہت عالی مرتبہ تھا۔( ترجمہ شعر )
معزز ترین شخص وہی ہے جو متقی ہو، شریف وہی ہے جو متقی ہو، شرافت ہی تقویٰ ہے، خاموشی تقویٰ پیدا کرتی ہے اور دروازہ ذکر تقویٰ ہے، ایمان جس کا عریاں ہے اس کا لباس تقویٰ ہے، شکر کی حقیقت تقویٰ ہے، متقی مومن اپنے نفس کا نگراں ہوتا ہے، دوسرے سے پہلے اپنا محاسبہ کرتا ہے، لوگوں سے بچنے کیلئے خود کو خود کے اوپر سختی کر لو اور لوگوں کے ساتھ نرمی کریں
تقویٰ کا اعتبار حروف ترکیبی کے لحاظ سے کریں تو، ت ، ، سے اللہ پر توکل، ق،، سے قول حق،،و،،ورع ،،ی،، سے یقین کی طرف اشارہ ہے۔
تقویٰ کی حقیقت قلب کو گناہ سے پاک کرنا اور بچنے والی چیزوں کی جانکاری اور اس سے بچنا ہے۔
کمال تقویٰ کا تقاضہ ہے کہ رائی کے برابر معاملات میں بھی اللہ سے ڈرے۔
تقویٰ کا اطلاق قرآن کریم میں تین چیزوں پر ہوتا ہے (ا)خشیت تو ہیبت کے معنی میں وایای فارھبون( بقرہ ٤١)ڈرو مجھ سے ،(٢)طاعت و عبادت يايها الذين أمنوااتقواالله حق تقته، (ال عمران 102) اے لوگو اللہ سے ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے یعنی اللہ کی کماحقہ عبادت کرو (عبداللہ بن عباس)( ٣) قلب کی گناہ سے صفائی۔
ومن یطع اللہ ورسولہ ویخش اللہ ویتقہ فاولئک ھم الفائزون (نور٥٢) جو اللہ کی اطاعت کرے اور اس کے رسول کی اور اللہ سے ڈرے اور پرہیزگاری اپنائے تو وہ لوگ یقینی کامیاب ہیں مفسرین کہتے ہیں کہ فرائض و سنتوں میں اللہ کا حکم ماننا اور پیش انے والی چیزوں میں ڈرنا اصل کامیابی ہے۔
متقی، بردبار ،نیک، صاحب کمال ہوتا ہے جس کا بول سچاور پر تواضع ہو اس کے دل میں اللہ کی کبریائی کے سامنے سب ہیچ ہے اس کا دل فکرمند ہو اس کے شر سے لوگ محفوظ ہوں وہ پاک دامن ہو جسم دبلا ہو ضرورت محدود ہو مباح چیز سے بھی حرام میں ملوث ہونے کے خطرے سے بچتے ہیں۔
تقویٰ انسانی زندگی کے چراغ کو روشن رکھتا ہے 11 مہینے کی بے اعتدالیوں کے باعث جب روشنی مانند پڑنے لگتی ہے تو رمضان کا مہینہ اس کی روشنی کو تیز کرنے کے لیے اتا ہے اور روحانی اور جسمانی بے اعتدالیوں کو روزے کے ذریعے دور کرتا ہے، چراغ تقویٰ کے گل کو صاف کرتا ہے، روشنی بڑھ جاتی ہے جو وجود انسان کو منور کرتی ہے۔
انسان کے ہاتھ میں قلب و دماغ میں روزہ کا دیا ہوا تقویٰ کا چراغ ملتا ہے اور اس چراغ کے ذریعہ چراغ انسانیت، چراغ ہدایت قرآن سمجھنے، پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، پورے عالم کو روشنی سے ہمکنار کرنے کا جذبہ فراواں ملتا ہے۔
