"گائیڈ”

مضامین

از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا ،ہبلی۔9902672038

جب میرے ماموں عبدالصمد کو سپرد خاک کیا جا رہا تھا، میری سوچیں ایک بے کراں سمندر کی طرح وسعت اختیار کر رہی تھیں۔ یہ اللہ کا مخلص بندہ، جن کا وجود خود ایک ادب پارہ تھا، جن کے اندر بے شمار خوبیاں پوشیدہ تھیں۔ وہ اسلامی تحریک کے خاموش سپاہی تھے، جنہوں نے کبھی شہرت یا نام و نمود کا پیچھا نہیں کیا۔ ان کی زندگی گمنامی میں گزری، جیسے اللہ کو اپنے خاموش اور گمنام بندے پسند ہیں، ویسے ہی وہ خود کو اس زمرے میں رکھنا پسند کرتے تھے۔
اگرچہ وہ میرے حقیقی ماموں نہ تھے،ان کے والد صاحب میری والدہ کے حقیقی ماموں تھے،جس کے بائث وہ ہمارے خاندان میں ماموں کہلاتے تھے۔ مگر ان کے ساتھ میرا تعلق خونی رشتے سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔ میرے حقیقی ماموں یوسف علی بہت کم عمری میں، محض بیس بائیس سال کی عمر میں، تپ دق جیسے جان لیوا مرض کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ اس زمانے میں یہ بیماری لاعلاج سمجھی جاتی تھی، اور میرے پیدائش سے پہلے ان کے انتقال کے باعث ان سے میرا کوئی جذباتی تعلق نہ بن سکا۔ لیکن عبدالصمد ماموں نے ہمیشہ مجھے اپنے بے حد قریب رکھا، جیسے وہ میرے حقیقی نگہبان ہوں۔ ماموں میرے تعلیمی سفر میں ہمیشہ میرے ساتھ رہے۔ انہوں نے میری آٹھویں جماعت کے داخلے کے وقت ہائی اسکول آئے اور ایڈمشن فارم پر کیا ،چونکہ میرا اسکول سینما گھروں سے گھرا ہوا تھا، مجھے اکثر فلموں سے دور رہنے کی تلقین کرتے۔ اس وقت سماج میں دو طبقات تھے: ایک وہ جو فلموں کو معیوب سمجھتا تھا اور دوسرا وہ جو خاموشی سے فلمیں دیکھتا تھا۔ میں بھی اس دوسرے طبقے میں شامل تھا، اور فلموں کا جنون میرے سر پر سوار تھا۔ میرے والدہ اور ماموں کو میری تعلیم سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ میں کس راستے پر جا رہا ہوں۔
سن 1970 کے عشرے میں فلم ہی تفریح کا بنیادی ذریعہ تھی، اور میں کم عمری میں ہی اس شوق میں مبتلا ہو گیا۔ چھٹی جماعت میں ایک معروف اداکار کی سالگرہ کے موقع پر انہیں خط لکھ کر مبارکباد دی۔ گھر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوا جب اس اداکار نے جواباً تصویر کے ساتھ شکریہ کا خط بھیجا۔ جب یہ لفافہ والدہ کے ہاتھ لگا تو وہ پریشان ہو گئیں کہ چھٹی جماعت کا طالب علم فلمی اداکاروں سے خط و کتابت کرنے لگا ہے۔ وہ اس بات کو لے کر بہت سنجیدہ ہو گئیں اور فکر کرنے لگیں کہ میری زندگی کی سمت کیا ہوگی۔ انہوں نے اس بارے میں میرے ماموں سے بھی بات کی۔ گھر میں مجھے سمجھانے کی کافی کوششیں ہوئیں، لیکن معاملہ یہ تھا کہ جتنا سمجھایا جاتا، میرا شوق اتنا ہی بڑھتا گیا۔ "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” کے مصداق، میں بے لگام گھوڑے کی طرح دوڑتا جا رہا تھا۔
یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے شرمندگی محسوس ہو رہی ہے، جب میں آٹھویں جماعت میں تھا، ان دنوں ہبلی کے فلمی اداکار ‘وکرم’ کا بڑا چرچا تھا۔ فلمیں "جولی” اور "آدمی سڑک کا” باکس آفس پر کامیاب ہو رہی تھیں۔ انہی دنوں اداکار وکرم، جن کا اصل نام معین الدین مکاندار ہے، اپنے چچا کے انتقال کے بعد تدفین کے لیے بمبئی سے ہبلی آئے تھے۔ اسکول ختم ہونے کے بعد جب میں پیدل گھر کی جانب جا رہا تھا تو پتہ چلا کہ اداکار وکرم تھوڑی دیر پہلے قبرستان پہنچے ہیں۔ میں نے فوراً اپنا رخ گھر کی بجائے قبرستان کی طرف کر لیا۔ قبرستان کے باہر اداکار سے ملاقات ہوئی۔ قبرستان عبرت کا مقام ہوتا ہے، مگر چودہ سال کا لڑکا جو فلموں کے شوق میں ڈوبا ہو، اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل تھا۔ میں نے اس ملاقات کا ذکر والدہ سے کیا، سوچا کہ وہ خوش ہوں گی، مگر ان کے چہرے پر ناگواری صاف ظاہر ہو رہی تھی۔
ہمارے ہائی اسکول کے قریب واقع تھیٹر کے احاطے میں ایک معروف پینٹر، بی پی لنگم، کا پینٹنگ شیڈ تھا، جہاں وہ بڑے کینوس پر فلمی پوسٹرز کی پینٹنگ کیا کرتے تھے۔ میں دوپہر کے کھانے کے وقفے میں وہاں جا کر ان کی پینٹنگز کو غور سے دیکھتا، یہ جاننے کی کوشش کرتا کہ وہ اداکاروں کی تصاویر کس طرح بناتے ہیں۔ اس شوق نے مجھے ڈرائنگ کلاس جوائن کرنے پر مجبور کیا۔ ڈرائنگ کے کچھ بنیادی اصول ہوتے ہیں، مگر میں براہِ راست اداکاروں کی تصاویر بنانے لگا۔ جب میرے ڈرائنگ کے استاد نے میری بنائی ہوئی تصویریں دیکھیں، تو انہوں نے ان کی تعریف کی اور کہا کہ پہلے تم بنیادی اصولوں کو سیکھو، تم جو کر رہے ہو، وہ بہت اعلیٰ درجے کا کام ہے۔ لیکن مجھے ابتدا سے زیادہ انتہا کی تکمیل کا شوق تھا۔
پھر ہائی اسکول سے کالج تک آتے آتے میرا فلمی شوق اپنے بام عروج پر پہنچ چکا تھا۔ گھر والے مجھے اس لیے بھی برداشت کرتے رہے کہ میری تعلیمی کارکردگی پر اس شوق کا کوئی منفی اثر نہیں پڑا تھا۔ میں نے دونوں میدانوں میں توازن برقرار رکھا اور اپنے تعلیمی کیریئر میں کبھی کسی مضمون میں ناکام نہیں ہوا۔ کالج کے دنوں میں ایک دن میں نے لگاتار تین فلمیں دیکھیں۔ جب میں نے اس کا ذکر میرے ایک عزیز دوست جو کاروار روڈ پے واقع اپنے وقت کی معروف ‘مہادیو ٹیکسٹائل مل'( جسے اب منہدم کیا جا چکا ہے) میں جنرل منیجر تھے،سے کیا جو عمر میں مجھ سے بڑے بھی ہیں۔ میں نے کہا، "یہ بڑی شرم کی بات ہو گئی کہ میں نے ایک دن میں تین فلمیں لگاتار دیکھ ڈالیں!” انہوں نے ہنس کر جواب دیا، "یہ کوئی شرم کی بات نہیں، میں نے تو ایک ہی دن میں فلم ‘رام اور شام’ لگاتار چار بار دیکھی ہے!” ان کی بات سن کر مجھے محسوس ہوا کہ مجھ سے ابھی خیر کی توقع کی جا سکتی ہے۔
زندگی میں بعض اوقات ایک واقعہ یا ایک لمحہ ایسا ہوتا ہے جو انسان کے فکری، عملی اور روحانی سفر کا نقطہء انقلاب بن جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آیا جب میں نے فلموں کی رنگینیوں اور تفریح کے دھوکے کو ہمیشہ کے لیے ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن، میرا دوست شام کو فلم دیکھنے کی دعوت لے کر آیا۔ بظاہر کوئی وجہ نہ تھی کہ میں انکار کرتا، حالانکہ ایک دن قبل ہی میں نے فلم "میرے حضور” دیکھی تھی۔ پروگرام طے ہوا اور وہ اپنے گھر واپس چلا گیا۔اتفاق سے اسی دن دوپہر میرے ماموں جان گھر تشریف لائے اور ساتھ میں ایک کتاب لائے تھے جو مجھے پڑھنے کو دی ، اس کتاب کے مطالعے نے میری سوچ میں ایک زلزلہ برپا کر دیا۔ پہلے ہی حصے کے اختتام پر، مجھے یہ احساس ہوا کہ میری زندگی کس قدر بے مقصد اور لاحاصل طریقے سے گزر رہی ہے۔ فلموں میں ضائع ہونے والے وہ لمحات، ان پر بے فائدہ گفتگو، اور فلمی رسائل کا مطالعہ ایک گہرے پچھتاوے میں تبدیل ہو گیا۔کرہ ارض پر زندگی گزارنے کا موقع صرف ایک بار ملتا ہے، اور میں اس نایاب موقع کو کس قدر فضولیات میں گنوا رہا تھا۔ اس لمحے میں، میں نے اپنے اندر ایک مضبوط عزم پیدا کیا کہ اب کبھی تھیٹر کی گلیوں کا رخ نہ کروں گا، چاہے اس کے رنگ و نور کتنے ہی دلکش کیوں نہ ہوں۔
یہ سن1983 کی بات ہے جب میں انجینئرنگ کے آخری سال میں تھا۔ حسب وعدہ، شام کو میرا دوست سائیکل لے کر میرے گھر آ گیا ، لیکن میں نے معذرت کر لی کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اس دن کے بعد سے آج تک میں نے تھیٹر کا رخ نہیں کیا۔ "میرے حضور” میری زندگی کی آخری فلم ثابت ہوئی ، اس واقعہ کو گزرے چالیس سال سے زائد کا عرصہ ہوا ، مگر اپنے اس عہد پر آج بھی قائم ہوں جو میں نے اپنے آپ سے کیا تھا،جس وقت میں صرف اکیس سال کا نوجوان تھا۔ شہر ہبلی میں ٹیلیویزن سن 1984 میں آیا اور میرے گھر میں پورے بیس سال بعد ۔ اب چونکہ کیبل اور دیگر ذریعے سے گھر بیٹھے فلم دیکھنا آسان ہو گیا لیکن میں اْن دنوں کی بات کر رہا ہوں جب یہ سبھی سہولتیں حاصل نہیں تھیں . آج سے بیس سال پہلے فلم ‘مغل اعظم” کلر کے ساتھ دوبارا ریلیز کی گئی تو میرے قریبی دوستوں نے مجھ سے اسرار کیا کام از اس فلم کو دیکھ لو جسے کبھی تم اسے ا دب پار ہ فلم کہتے تھے۔لیکن میرا عزم چٹان کی طرح مضبوط تھا۔میں انکار کر گیا۔میرے ماموں جان نے میری زندگی میں جو روحانی تبدیلی پیدا کی، میں ان کا ایک طرح سے ہمیشہ کے لیے مقروض ہوگیا۔
کالج کے آخری سال میں، میری زندگی ایک نیا موڑ لے رہی تھی۔ نسیم حجازی کے ناول میری روح کی غذا بن چکے تھے۔ "اور تلوار ٹوٹ گئی”، "معظم علی”، "اندھیری رات کے مسافر”، "سفید جزیرہ” اور "کلیسا اور آگ” جیسی کتابیں بارہا پڑھ ڈالی تھیں۔ ان کے ساتھ ساتھ، منشی پریم چند، کرشن چندر، راجندرا سنگھ بیدی اور کنور مہندر سنگھ بیدی کی تحریروں کو پڑھنے لگا۔ تحریک اسلامی کی کتابوں نے میری سوچ میں ایک خاص بالیدگی پیدا کی تھی، جس نے میری زندگی کے زاویے بدل دیے۔
کالج میں مخلوط تعلیم کے باوجود، میں نے اپنے اصولوں پر قائم تھا۔ اگرچہ کبھی کبھار پریکٹیکل کے دوران لڑکیوں سے بات کرنا ضروری ہوتا، لیکن ایک دن ایک لڑکی نے ساتھ میں فلم دیکھنے کی عجیب پیشکش کی۔ میں فلموں کو طلاق بعینہ دیے چکا تھا اور میرا یہ فیصلہ ہمالیہ پہاڑ کی طرح مضبوط تھا۔ اب دوبارہ رجوع کرنے کا سوال ہی نہ تھا ،میں نے اس لڑکی سے معذرت چائی ، جسے وہ اپنی ہتک سمجھ کر اپنی راہ الگ کر لی۔ لیکن مجھے اس کا کوئی افسوس و ملال نہ تھا۔ چلو اچھا ہوا کہ نا پختگی عمر کا ایک متوقع افسانہ اپنے انجام کو پہونچنے سے پہلے ختم ہو گیا۔
میرے اندر رونما ہونے والی اس غیر معمولی تبدیلی کو میرے والدین بھی محسوس کر رہے تھے۔ ایک سال میں میری سوچ میں گہرائی آ چکی تھی، اور میں زندگی کے معاملات کو زیادہ سنجیدگی سے لینے لگا تھا۔ والدہ خوش تھیں کہ میں "راہ راست” پر آ چکا ہوں، لیکن والد صاحب کی تشویش الگ تھی۔ چونکہ وہ پیدائشی گونگے بہرے تھے، ان کی فکریں مختلف تھیں۔ وہ ڈرتے تھے کہ ایک اکیس سال کا نوجوان کہیں دنیا ترک کرکے راہب نہ بن جائے۔ انہوں نے والدہ سے کہا، میں نے کب کہا تھا کہ فلمیں یکسر چھوڑ دو؟ کبھی کبھار ایک اچھی فلم دیکھنا کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟” لیکن والدہ کے لیے میری یہ تبدیلی ان کی خواہش کے عین مطابق تھی۔ماموں جان نے میری ذہنی و فکری بنیاد کافی مضبوط بنانے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔
آج سے بیس سال پہلے ایک واقعہ پیش آیا۔ جب والد صاحب کا انتقال ہوا، تو ٹھیک چالیس دن بعد والدہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ہم تمام بھائی اس واقعے سے شدید جذباتی ہو گئے تھے۔ اگر والدین بیمار ہوتے تو یہ بات سمجھ میں آتی، مگر ان کا یوں اچانک جانا ہمارے لیے بہت صدمے کا باعث تھا۔ مجھے کالج کے ایک ضروری کام سے بنگلور جانا تھا۔ روانگی سے پہلے رات میں والد صاحب سے ملاقات کی اور پھر بنگلور کے لیے نکل گیا۔ والد صاحب رات میں ہی اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ چھوٹے بھائی نے فون پر اطلاع دی، میں نے فوراً بس روکوا کر دوسری بس سے ہبلی کا سفر شروع کیا۔ والدہ کے انتقال کے دن بھی میں نے صبح انہیں سلام کیا اور کالج کے لیے روانہ ہو گیا۔ شام میں فون آیا کہ والدہ کو دل کا دورہ پڑا ہے اور انہیں اسپتال لے جایا گیا ہے۔ میں فوراً اسپتال پہنچا، لیکن اللہ کی مرضی کے آگے ہم بے بس تھے۔ یہ دو المناک واقعات ہمارے لیے بہت بڑا دھچکا تھے۔ قربان جاؤں ماموں جان پر، جو ان حالات میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے اور ہمیں صبر کی تلقین کرتے رہے۔
والدین کے انتقال کے بعد ماموں جان ہمارے گھر آئے اور ہم پانچوں بھائیوں کو جمع کیا۔ انہوں نے والدین کی وراثت کو آپس میں تقسیم کرنے کی بات کی، جو اس وقت ہمیں ناگوار گزری، کیونکہ والدین کی وفات کا غم ابھی تازہ تھا اور ہمیں وراثت کی تقسیم کی بات مناسب نہیں لگی۔ لیکن ماموں جان نے ہمیں شریعت کے احکامات سمجھائے اور مجھے اس کام کی ذمہ داری دی کیونکہ میں بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ میں نے وراثت کی تقسیم کا کام مکمل کیا۔ ماموں جان نے جذباتی ماحول کے باوجود ایک اہم شرعی فریضہ انجام دیا۔
ماموں جان نے اپنے کیریئر کا آغاز ہوکیری میں واقع ٹیپو سلطان اردو ہائی اسکول سے کیا۔ اس وقت یہ ایک پرائیویٹ ادارہ تھا، اور تنخواہوں کے مسائل تھے۔ اسی دوران انہوں نے امتحان دے کر سرکاری ملازمت حاصل کی اور ٹریسری میں کلرک کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ ابتدا میں ان کی پوسٹنگ شنگاؤں میں ہوئی، بعد میں ان کا تبادلہ ہبلی میں ہوا۔ تب سے وہ ہمارے گھر باقاعدگی سے آنے لگے۔ میری والدہ عمر میں اْن سے بڑی تھیں، اور دونوں کے درمیان بھائی بہن کی محبت اور شفقت دیکھنے کے لائق ہوتی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں لاشعوری طور پر ماموں جان سے گہری انسیت محسوس کرتا تھا۔
مجھے وہ میرے بچپن کے دن اچھی طرح یاد ہیں جب رمضان کے مہینے میں سحری کے وقت ماموں جان ہمارے گھر آتے، ساتھ میں ٹوسٹ اور بریڈ لاتے، اور ہم ان کا انتظار کرتے رہتے۔ جب وہ آتے تو ہم سب ٹوسٹ و بریڈ کے ساتھ چائے پیتے۔ ان کا گھر ہمارے گھر سے پندرہ سے بیس منٹ کے فاصلے پر تھا، اور پورے رمضان کے مہینے میں وہ سحری کے وقت ہمارے گھر آتے تھے۔ چائے کے بعد، جب سحری کا وقت ختم ہوتا، ہم سب روزے کی نیت کرلیتے۔ اذان کے بعد وہ مجھے ساتھ لے کر مسجد جاتے، پھر صبح اپنے گھر لوٹ جاتے۔ ماموں جان کی یہ محبت ہمیشہ میری یادوں کا حصہ بن کر رہ گئی۔ ہبلی میں تقریباً تین سال تک ان کی سروس رہی، اور ہر رمضان میں وہ بلا ناغہ سحری کے وقت ہمارے گھر ہاتھ میں ٹوسٹ اور بریڈ لیے آتے۔ ان کے آنے کے بعد ہی ہم چائے پینے کی تیاری کرتے تھے۔ پھر ان کا تبادلہ دھارواڑ، بیلگام، دنڈیلی، اور سنکیشور جیسے مقامات پر ہوتا رہا۔ سنکیشور میرے بچوں کا ننھیال بھی ہے، اس لیے میرے بچوں کا بھی ماموں جان سے بہت لگاؤ ہوگیا تھا۔ وہ انہیں ڈانڈیلی والے نانا کہتے ، اس لیے کہ وہ لمبے عرصے تک ڈاندیلی میں سروس میں رہے۔اور جہاں جہاں ان کا تبادلہ ہوتا، میں ان سے ملاقات کے لیے جاتا رہتا۔
ماموں جان کی خاص بات یہ تھی کہ جہاں بھی ان کی سروس رہی ہو، ڈیوٹی کے اوقات کے بعد وہ نوجوانوں سے ملتے، ان کے مسائل کو سمجھتے، اور ان کی ذہنی و فکری تربیت کے لیے کوشاں رہتے۔ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ اصلاحی کتابیں رکھتے اور انہیں نوجوانوں کو پڑھنے دیتے۔اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ وہ کتابیں جو نوجوانوں کے مسائل، معاشرہ کا بگاڑ اور حل اور وہ راستہ جو سلامتی کی طرف لے جاتا ہو وغیرہ
خر ید نے پے خرچ کر دیتے اور مانوں زندگی کے آسائش انہیں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہو۔انہیں تو نوجوانوں کی ذہن سازی کی فکر ہوتی تا کہ یہ نوجوان قوم و ملت کا وہ حصہ بنیں جس سے ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آئے۔
ماموں جان کی زندگی نے ایک نئی کروٹ لی ، ان کو ایک جان لیوا بیماری لاحق ہو گئی تھی ، اور آخری دنوں میں وہ انتہائی کمزور ہو چکے تھے۔ میں مسلسل ان سے ملاقات کے لیے جاتا رہا اور ایک ملاقات ان سے میری آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ اس ملاقات میں انہوں نے مجھے بڑی تاکید کے ساتھ نصیحت کی کہ حج کے فریضے میں کسی قسم کی تاخیر نہ کروں اور اپنی بیٹیوں کے وراثتی حقوق کا مکمل خیال رکھوں۔ وہ اور بھی بہت سی باتیں کہنا چاہتے تھے، مگر شدید تکلیف کی وجہ سے وہ کچھ کہہ نہ سکے۔ میری زندگی کے گمراہ کن راستے کو روشنی دکھانے والے ماموں جان کو اس حالت میں دیکھ کر میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔دو روز بعد وہ اس عارضی دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے۔
میں اپنی سوچوں سے باہر نکل آیا۔ ماموں جان کو سپردِ خاک کیا جا چکا تھا۔ سورج دن بھر کی تھکن لیے افق کی طرف جھکنے لگا، جیسے وہ بھی دنیا سے ایک سفر کا اختتام کرنے کو تیار ہو۔ آسمان پر بکھری لالی، ماموں جان کی جدائی کا احساس گہرا کر رہی تھی۔ میں بوجھل قدموں سے قبرستان سے پلٹنے لگا، جیسے میرے دل میں ایک طوفانی سمندر موجزن ہو، ہر لہر ماموں کی یادیں دل کے ساحلوں سے ٹکرا رہی تھی۔ ان کے کہے الفاظ، ان کی محبت بھری نصیحتیں میرے ذہن میں گونج رہی تھیں، مگر دل میں اطمینان کا کوئی راستہ نظر نہ آیا۔ زندگی کی ہر پیچ راہوں پر ماموں جان میرے لیے ایک ایسے درخشاں ستارے ثابت ہوئے، جن کی روشنی ہر موڑ پر میری رہنمائی کرتی رہی۔ان کی نرمی،محبت اور شفقت بھری رہبری، گویا ایک ایسے گائیڈ کی مانند تھی جو نہ صرف منزل کا پتہ بتاتا ہے،بلکہ ہر قدم پر دل کو تسلی اور راہ کو آسانی بخشتا ہے۔
پھر اچانک ایک خیال نے میرے دل کو سکون بخشا۔ ماموں جان نے اپنی زندگی سماجی خدمت اور معاشرتی بھلائی کے لیے وقف کی تھی۔ میں اس مشن کو آگے بڑھا کر نہ صرف یہ کام جاری رکھ سکتا ہوں، بلکہ ان کی قربت ہمیشہ محسوس کر سکتا ہوں۔ وہ میرے دل کے آس پاس، ہمیشہ میرے قریب رہیں گے، گویا ان کا وجود میرے اندر زندہ رہے گا۔ یہ سوچ میرے دل کو تسلی بخشنے لگی، اور میں خود کو ان کی میراث کا امین محسوس کرنے لگا۔