شندے کی شیوسینا کے لیڈر سنجے نروپم کی مسلمانوں کو بھیانک دھمکی، بہار کے نائب وزیر اعلیٰ ، بی جے پی لیڈر وجے کمار سنہا نے بھی دھمکایا، کہا’ ایسے مسلمانوں کو غدار قرار دیکر جیل بھیج دیں گے‘
ممبئی؍ پٹنہ:- وقف ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں جاری عوامی احتجاج کے درمیان بی جے پی اور شیو سینا (ایکناتھ شندے گروپ) کے سینئر لیڈروں نے متنازعہ اور دھمکی آمیز بیانات دے کر ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ مسلمانوں کے پُرامن احتجاج کو کچلنے کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ نہ صرف جمہوری اقدار پر سوال اٹھا رہے ہیں بلکہ ایک اقلیتی طبقے کو خوف زدہ کرنے کی کوشش بھی سمجھے جا رہے ہیں۔شیو سینا کے سینئر رہنما سنجے نروپم نے وقف بل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا”جو لوگ اس قانون کا مخالفت کریں گے، شاہین باغ بنانے کی کوشش کریں گے، وہ نہ بھولیں کہ کبھی ان کا جلیانوالہ باغ بھی ہو جائے گا۔”انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانون کا احترام کیا جائے اور حکومت یقین دہانی کراتی ہے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، لیکن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔دوسری جانب بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر وجے کمار سنہا نے نہایت سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا”یہ پاکستان نہیں، ہندوستان ہے۔ جو لوگ بل کی مخالفت کرتے ہیں وہ غدار ہیں۔ ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالا جائے گا۔”انہوں نے واضح کیا کہ وقف بل دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکا ہے، اور اب اس پر عمل لازمی ہے۔ احتجاج کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔بتادیں کہ اس سے قبل سنجے نروپم نے دعویٰ کیا تھا ادھو ٹھاکرے نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کو فون کرکے اس بل کے خلاف ووٹ ڈالنے کا حکم دیاتھا۔ مسلم ووٹ اور اقتصادی دباؤکے سبب اراکین پارلیمنٹ کو اپنی مرضی سے باہر جاکر ووٹنگ کرنی پڑی۔سنجے نروپم نے ادھوٹھاکرے پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے ہمیشہ ہندوؤں کے لئے کام کرتے رہے، لیکن ادھوٹھاکرے نے وقف پرووٹنگ کرکے مسلم تنظیموں کوخوش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ آج اردواخباروں میں مسلم لیڈران کے ذریعہ ادھو ٹھاکرے کی تعریف کی جارہی ہے اور انہیں ‘مسلمانوں کا ہیرو’ قراردیا جا رہا ہے۔ سنجے نروپم نےالزام لگایا کہ یعقوب میمن کی قبرکوخوبصورت بنانے کا دباؤ بھی ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں قبول کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بالا صاحب کی روح ادھو ٹھاکرے کوکبھی معاف نہیں کرے گی۔ملک بھر میں وقف بل کے خلاف مسلمانوں کی جانب سے ہونے والے احتجاج کو ایک جمہوری حق کے بجائے ’بغاوت‘ یا ’غداری‘ سے تعبیر کرنا، انسانی حقوق اور آئینی آزادیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی زبان کا استعمال اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے اور انہیں خاموش کرانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔وقف بل کے مسئلے پر نہ صرف اپوزیشن جماعتیں فعال ہیں بلکہ حکمراں جماعتوں میں بھی اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ جے ڈی (یو) کے کم از کم پانچ لیڈران نے بل کی حمایت پر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ آر ایل ڈی کے ایک عہدیدار نے بھی احتجاجاً عہدہ چھوڑ دیا ہے۔
