” آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر ”۔۔ یومِ اساتذہ 

مضامین
از:.۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔بلگام کرناٹک۔8105493349
حضرت علی المرتضیؓ کا قول ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی پڑھا دیا میں اس کا غلام ہوں خواہ وہ مجھے آزاد کر دے یا بیچ دے۔(تعلیم المتعلم۔21)۔ دنیا میں دیکھا جائے تو انسان ہزاروں پیشوں میں منقسم ہے اور ہر انسان اپنے اپنے اعتبار سے اپنے پیشے میں ماہر ہے بعض پیشے ایسے ہیں جنہیں وقتی طور پر عزت اور شہرت ملتی ہے جیسے ہی ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں لوگوں کے ذہنوں سے ان کی عزتیں بھی نکل جاتی ہیں۔ ان سارے پیشوں میں درس و تدریس ہی وہ واحد پیشہ ہے جسے دوران نوکری بھی عزتیں ملتی ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عزتیں ملتی ہیں حتی کہ مرنے تلک بھی استاد کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ استاد ہمارے سماج کا وہ واحد فرض ہے جسے چھوٹے سے لے کر بڑے ہر کوئی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے خواہ اس سے اس نے سبق پڑھا ہو یا نہ پڑا ہو۔ استاد کی اہمیت اور ضرورت کو شاگرد تادم حیات ضروری سمجھتا ہے کہا جاتا ہے کسی زمانے میں ایک بہت بڑا بادشاہ ہوا کرتا تھا اپنی حکومت کی توسیع کے لیے وہ ملکوں ملکوں جنگیں کرتا پھرتا تھا ایک مرتبہ جنگ لڑتے لڑتے ایک ایسے ملک میں پہنچا جہاں کی حکومت بہت مضبوط تھی بادشاہ کے سپہ سالار اور جرنیل آگے بڑھنے سے انکار کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم لوگ برسوں سے مسلسل جنگ کر رہے ہیں ہمیں اپنی بیوی بچوں کی یاد آتی ہے بادشاہ کے لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی آگے نہ بڑھے۔بادشاہ کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا اس نے خط میں سارے حالات لکھے اور خط قاصد کے حوالے کر کے اپنے وطن روانہ کیا اور کہا کہ میرے وطن میں میرے فلاں استاد رہتے ہیں یہ خط انہیں جا کر پہنچاؤ اور جواب لے کر آؤ۔ قاصد مہینوں کا سفر طے کر کے بادشاہ کے خط کو اس کے استاد کے پاس پہنچا دیا۔ استاد نے اول تا اخر پورا خط پڑھ لیا اور قاصد کو اپنے باغ میں لے گیا اور چند مزدوروں سے کہا کہ باغ کے پرانے درخت کو کاٹیں اور نئے نئے پودے لگائیں یہ کام مکمل ہوا تو استاد نے قاصد سے کہا کہ چلے جاؤ قاسم کی سمجھ میں کچھ نہیں ایا قاسد نے بادشاہ کو جا کر سارا واقعہ بیان کیا بادشاہ نے کہا ارے بیوقوف اسی عمل میں میرے استاد کا جواب پوشیدہ ہے بادشاہ نے پرانے جرنل اور افسران کو معزول کر دیا اور نئے سرے سے جرنیل اور سپہ سالار بھرتی کیے اس طرح اور آگے حملہ کرنے میں بادشاہ کامیاب ہوا۔ اس کہانی سے سبق ملتا ہے کہ استاد کی ضرورت زندگی کے ہر موڑ پر شاگرد کو ضروری ہوتی ہے۔
ہر آں کارے کے بے استاد باشد
یقین دانی کے بے بنیاد باشد
ترجمہ:- ہر وہ بندہ جو بے استاد ہوتا ہے یقین مانو کہ وہ بے بنیاد ہوتا ہے۔
ویسے تو تعلیمی سفر میں ہر استاد کا  چہرہ ذہن میں ہوتا ہے۔ مگر اکثر و بیشتر وہی چہرے یاد ہوتے ہیں جنہوں نے پرائمری سیکشن میں یا ہائی سکول میں بچوں کو پڑھایا تھا۔ ایسے ہی ایک سکول اور ان میں پڑھانے والے اساتذہ کا ذکر کرتے ہوئے خوشی ہو رہی بے
کروشی یوسف عادل شاہ کے دور میں آباد ایک تاریخی بستی ہے کروشی کی اس اسکول کی بنیاد 28 فروری 1911 کو ہوئی۔۔۔ اس 114 برس پرانے ادارے سے ہزاروں طلبا فارغ ہو کر ملک اور بیرونی ممالک میں اپنی دینی دنیوی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ترانہ اردو اسکول کروشی ضلع بلگام کرناٹک
بنیاد 28 فروری 1911
اے علمی شجر اے علمی شجر میں اپنے شجر کا پنچھی ہوں
سائے میں ترے جینوں ہو بسر میں اپنے شجر کا پنچھی ہوں
سو سال پرانے دِبستاں کی قندیل ابھی تک روشن ہے
ہر علم و ادب کے بھنورے کو بس تُو ہی مہکتا گلشن ہے
بُنیاد کے ہر اک پتھر میں اسلاف کا خون بھی شامل ہے
ہم جیسے بھٹکتے راہی کو برسوں سے تُو ہی تو محمل ہے
آتے ہیں یہاں سے طلباء کئی بس علم کی پیاس بجھانے کو
دنیا سے بُرائی مٹانے کو نئی راہ دکھانے زمانے کو
ذہنوں میں مسلسل مہکا ہُوا خوشبو سے بھرا لوبان ہے تُو
اُردو کے ہر اک رہبر کے لئے دنیا میں بڑی پہچان ہے تُو
اے مادرِ علمی تُو نے کئی ملت کو نئے سالار دِیے
نئے طرز دِیے نئے ڈھنگ دِیے دنیا کو نئے افکار دِیے
اس مکتبِ عشق کے طلبا تو استادوں کے استاد ہوئے
اک علم کا پرچم ساتھ لئے دنیا میں یہی آباد ہوئے
اس بستی کے ہر بچے کو ٹیپو سی شجاعت دے مولا
اس سب کی کوشِش کے دَم سے دنیا کو ہدایت دے مولا
اس گلشن کے ہر مالی کو دنیا میں چین کا ساماں دے
اے رب تُو ان کو راحت دے  ہر دردِ جگر کا درماں دے
عالم ؔ کی دُعا ہے رب سے یہی یہ پھول ہمیشہ کھلتا رہے
دنیا کی اندھیری راتوں میں یہ چاند ہمیشہ چمکتا رہے
نتیجہ فکر:- آفتاب عالم ؔ شاہ نوری 
آج یوم اساتذہ کے موقع پر ذہن میں پرائمری کے دور کے اساتذہ کی ایک طویل فہرست آگئی جن سے میں نے علم حاصل کر کے تعلیمی مدارج طے کیے تھے۔۔ اس فہرست میں چند نام ہیں جن میں سب سے پہلے محترم جناب حیات چاند پٹیل، محترم جناب درویش پٹیل، محترم جناب شہاب الدین پٹیل، محترم جناب عبداللطیف قاضی، محترم جناب عبدالستار پٹیل، مرحوم افضل پٹیل جناب، مرحوم شبیر پٹل جناب،جمعدار جناب، مکاندار جناب، محترم جناب اقبال پٹیل، محترم جناب ذاکر پٹیل، محترمہ کاغذی آپا جان، محترمہ انجم جمعدار آپا جان، وغیرہ وغیرہ۔۔ بعض اساتذہ ایسے ہیں جنہوں نے مجھے مستقل سال بھر پڑھایا اور بعض اساتذہ ایسے ہیں جنہوں نے چند کلاسیں لی تھی میں انہیں اساتذہ کے زمرے میں ہی شامل کرتا ہوں کیونکہ ان چند کلاسز میں انہوں نے ہمیں زندگی کے بڑے بڑے اسباق پڑھائے تھے۔
ویسے تو ہر استاد میرے لیے قابل احترام ہے مگر محترم جناب حیات چاند پٹیل سے زیادہ متاثر رہا ہوں۔حیات چاند جناب رشتہ میں میری والدہ کے ماموں ہوتے ہیں۔۔ ایک عجیب اتفاق  یہ بھی ہے کہ جناب نے میری والدہ کو بھی پڑھایا ہے اور میں خاکسار آفتاب عالم پٹیل بھی ان کا شاگرد رہا ہوں۔۔ ان کی سکھائی ہوئی چند باتیں ذہن میں ایسی تازہ ہیں جیسے کل کی بات ہو حالانکہ ان کو بیتے برسوں ہو گئے ہیں۔۔ اللہ ہمارے اساتذہ کی عمر عافیت کے ساتھ دراز فرمائے اور جو انتقال کرچکے ہیں ان کی مغفرت فرما کر ان کے درجات کو بلند فرمائے۔۔۔ آمین اور میں ہر اس استاد کا شکر گزار ہوں جنہوں نے زندگی کے کسی موڑ پر مجھے پڑھایا مجھے سکھایا ہے اور میری رہبری کی ہے۔