سرقہ اور تخلیقیت:الزام سے ارتقاء تک

مضامین

از:۔ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے ایچ،لکچرر، جامعہکوئمپو مطالعہ و تحقیق، سہیادری کالج کیمپس، شیموگہ۔ 9945304797

ادب کے مباحث میں’’سرقہ‘‘ہمیشہ سے ایک نہایت نازک اور متنازع موضوع رہا ہے۔ ایک جانب اسے اخلاقی و تخلیقی انحطاط کی علامت سمجھا گیا ہے، تو دوسری جانب اس کے بغیر تخلیق کے عمل کو ادھورا قرار دیا گیا ہے۔ اس بحث کو اکثر ایسے زاویے سے پیش کیا گیا ہے جہاں چور، کفن چور اور ادبی چوری جیسے پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے زیادہ تر الزاماتی اور منفی تناظر اختیار کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی تحقیقات میں سرقہ کرنے والوں کی خامی، کم ظرفی اور کم علمی کو ہی نمایاں کیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سرقہ صرف نقائص اور اخلاقی کمزوریوں کا استعارہ نہیں بلکہ تخلیقی عمل کا ایک ناگزیر اور بعض اوقات جائز حصہ بھی ہے۔ ہر نئی فکر اپنے ماقبل سے فیض یاب ہوتی ہے اور یہی تسلسل انسانی ذہانت، ادب اور فنون کی ارتقائی تاریخ کی بنیاد ہے۔ چنانچہ ایک متوازن نقطۂ نظر یہ تقاضا کرتا ہے کہ سرقے کے محض منفی پہلوؤں ہی کو نہیں بلکہ اس کے سماجی و ادبی محرکات اور ارتقائی جہات کو بھی مدنظر رکھا جائے، تاکہ واضح ہو سکے کہ سرقے کے سارے پہلو مذموم نہیں بلکہ بعض ناگزیر اور تخلیقی حوالے سے مثبت بھی ہوتے ہیں۔
سرقہ اور جدت آفرینی
ایک دوسرا زاویہ
سرقے پر ہونے والی بیشتر بحثوں میں زیادہ تر توجہ الزاماتی اور تنقیدی پہلوؤں پر ہی مرکوز رہی ہے۔ تاہم ادب اور تہذیب کے گہرے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کسی بھی فن میں’’ماقبل‘‘سے اخذ و استفادہ کیے بغیر کوئی تخلیق مکمل نہیں ہو سکتی۔ یوں سرقہ محض منفی عمل نہیں بلکہ تخلیقی تسلسل اور فکری ارتقا کا بنیادی حصہ بھی قرار پاتا ہے۔
انسانی ذہن محض تنہائی میں یا کسی خلا میں تخلیق نہیں کرتا، بلکہ اس کی جملہ فکری و ادبی واردات ایک اجتماعی ورثے سے وابستہ ہوتی ہیں۔ استاد کا اثر، زمانے کی روح اور سابقہ روایات سے اخذ و استفادہ ہی اس کی تخلیقی قوت کو سمت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات ایک ہی جیسے خیالات مختلف ادباء و شعراء کے ہاں جلوہ گر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ مماثلت اپنی اصل میں علم و ادب کی فطری تسلسل کا نتیجہ ہے، نہ کہ محض سرقہ کیصریح صورت۔
مولانا شبلیؔ نعمانی نے’’شعرالعجم‘‘میں اس حقیقت کو واضح کیا تھا کہ شاعری اپنی اصل میں روایت کے ساتھ مکالمہ ہے اور ہر نیا شاعر اپنے پیش روؤں سے اثر قبول کرتا ہے۔ اگر یہ اثر قبول کرنا سرقہ شمار ہو تو پھر کوئی بھی تخلیق بالکل نئی نہ کہی جا سکے۔ حالیؔ نے اپنی شہرۂ آفاق مقدمہ میں تخلیق کی تعریف کرتے ہوئے اسی نکتے پر زور دیا کہ شاعری کا کمال یہ نہیں کہ وہ ماضی سے بالکل منقطع ہو بلکہ یہ ہے کہ وہ اخذ شدہ مواد کو اپنے دور کی ضروریات اور اپنے ذاتی شعور کے رنگ میں ڈھال کر پیش کرے۔
رشید احمد صدیقی نے بھی اپنے تنقیدی مضامین میں اس خیال کو دہرایا کہ ادب میں’’ماحول‘‘اور’’استاد‘‘دونوں کا انعکاس ناگزیر ہے۔ ان کے نزدیک اگر ہر مماثل خیال سرقہ کہلائے تو معلوم تاریخِ ادب میں ناقدین کو تخلیق کی کوئی اصل نہ ملے گی ۔ تخلیق وہیں سمجھی جائے گی جہاں پرانا مواد نئی جان، نئے اسلوب اور نئے زاویے کے ساتھ سامنے آئے۔
اس اعتبار سے یہ کہنا زیادہ قرینِ انصاف ہے کہ اصل’’سرقہ‘‘وہ ہے جہاں مصنف یا شاعر کسی اور کے منفرد اور مخصوص اسلوب کو بغیر حوالہ دیے من و عن اپنا لے۔ عام تر افکار و خیالات، فضا میں رائج محاورات یا تہذیبی روایتیں جب کسی نئے قالب میں ڈھلتی ہیں تو یہ سرقہ نہیں بلکہ تخلیق کی جدت کہلاتی ہے۔
یوں ادب کی تاریخ اپنے اندر ایک ایسا جال بُنتی ہے جس میں ماضی و حال کے دھاگے باہم گندھے ہوتے ہیں۔ انسانی ذہن اس جال میں پرکھا اور ناپا جاتا ہے کہ وہ اخذ و وراثت کو کس طرح اپنی انفرادیت اور بصیرت سے آراستہ کرتا ہے۔ یہی اصل میں تخلیق کا معیار اور انصاف کا تقاضا بھی ہے۔
سرقہ اور اثرپذیری کا فرق
ادب کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی بھی شاعر یا ادیب کی تخلیقی کاوش یکسر نو دریافت نہیں ہوتی۔ وہ اپنے ماحول، اپنے عہد، استادوں اور گذشتہ روایت سے فکری و فنی عناصر اخذ کرتا ہے۔ یہ اخذ و استفادہ تخلیق کا بنیادی عمل ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان ماخوذ عناصر کو کس نئے رنگ، اسلوب اور جہت کے ساتھ پیش کیا گیا۔ یہی وہ امتیاز ہے جو’’اثر پذیری‘‘یا’’تقلید‘‘کو’’ایجاد‘‘میں ڈھالتا ہے اور جسے سمجھے بغیر ہم ادب کی اصل روح تک نہیں پہنچ سکتے۔
شبلی نعمانی اور حالیؔ جیسے کلاسیکی ناقدین نے اس پہلو کو بڑے زور کے ساتھ موضوع بنایا۔ حالیؔ نے’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ میں واضح کیا کہ اگر شاعری محض خیالات و الفاظ کا دوبارہ دہرانا ہے تو یہ تقلیدہے، لیکن اگر شاعر ان پر اپنے ذاتی رنگ، نئے تخیلات یا اپنے دور کی ضروریات کی چھاپ ڈالتا ہے تو یہی’’ ایجاد‘‘ہے۔ حالی ؔکے نزدیک شاعری کا کمال اسی تخلیقی وسعت میں ہے، نہ کہ محض روایت کے اتباع میں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فنکار کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ روایت کا کتنا بوجھ اپنے کاندھوں پر رکھتے ہوئے بھی نئے راستے تراش سکتا ہے۔
شبلیؔ نعمانی نے’’شعرالعجم‘‘اور دیگر تنقیدی تحریروں میں کہا کہ فارسی اور عربی شاعری کی اصل بھی روایت کے تسلسل سے جڑی رہی ہے۔ کسی شاعر کو یکسر منفرد قرار دینا ممکن نہیں، کیونکہ ہر بڑا شاعر اپنے ماقبل کا وارث ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے بعد آنے والوں کا رہنما بھی ہوتا ہے۔ شبلیؔ کے نزدیک فن کا جوہر یہ نہیں کہ شاعر خود کو روایت سے کاٹ کر الگ کھڑا کرے بلکہ یہ ہے کہ وہ روایت کی معروف شکلوں کو اپنی انفرادیت اور نئے اسلوب کے ساتھ زندہ رکھے۔
یہی وجہ ہے کہ جب ہم میرؔ و غالبؔ، یا اقبالؔ و فیضؔ کے یہاں مماثل خیالات یا ادبی سرمائے کی گونج دیکھتے ہیں تو اسے سرقہ کہنا تنقید کی انصاف پر مبنی روش نہیں۔ ميرؔ نے ولیؔ سے لب و لہجہ پایا، لیکن اپنے داخلی کرب اور واردات سے اسے ایک نئی معنویت دی۔ غالبؔ نے فارسی کے دبستان سے استفادہ کیا، مگر اسے علم و حکمت کے سوالات اور وجودی کشاکش کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ فیضؔ نے اقبالؔ سے اثر قبول کیا، لیکن ان کی آواز نے سماجی انصاف، انقلابی امنگ اور حیاتِ انسانی کی جمالیات کو نئے قالب میں ڈھال دیا۔
اگر تخلیق کار کو محض ماخوذ عناصر کی بنا پر’’سارق‘‘کہا جائے تو پھر جیسا کہ خود شبلیؔ اور حالیؔ نے عندیہ دیا، پوری انسانی تہذیب کو بھی چور کہنا پڑے گا، کیونکہ ہر نئی تہذیبی پیش رفت ایک سابقہ بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ اصل کمال یہ ہے کہ فنکار اس بنیاد پر کیسے تعمیر کرتا ہے۔ یہی تعمیر’’تقلید‘‘کو’’ایجاد‘‘میں
بدل دیتی ہے اور اسی میں کسی شاعر یا ادیب کی انفرادیت اور عظمت کا راز پوشیدہ ہے۔
مشاعرے اور واہ واہی کا معاملہ
مشاعرہ اردو ادب کی تہذیبی روایت کا ایک نہایت اہم اظہار ہے جہاں شاعر براہِ راست سامعین سے رابطہ کرتا ہے۔ اس ماحول میں شاعر کے لئے سب سے بڑی آزمائش سامعین کی "واہ واہی” کا حصول ہے، کیونکہ محفل میں داد کی گونج ہی اس کی تخلیق کی کامیابی یا ناکامی کا فوری پیمانہ بن جاتی ہے۔ مگر یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ محض عارضی داد یا وقتی شہرت کسی شاعر کو پائیدار مقام نہیں دلاتی۔
بعض شعراء کی مقبولیت کی خواہش انہیں اس راہ پر لے جاتی ہے جہاں وہ دوسروں کے کلام کی چوری پر مائل ہو جاتے ہیں ۔یہ رجحان سطحی شہرت پسند ی کا عکاس ہے اور بلا شبہ ادبی دیانت کے خلاف ہے۔ مگر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ محض سرقہ یا چند مستعار شدہ اشعار سے کوئی شاعر دیرپا شناخت حاصل نہیں کر سکتا۔ اردو کے کلاسیکی اور جدید ادب کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ ان شعرا ءکو دوام نصیب ہوا جنہوں نے اپنی الگ انفرادیت اور اسلوب تخلیق کیا، نہ کہ انہیں جن کی بنیاد دوسروں کے سرمائے پر رکھی گئی۔
مزید یہ کہ واہ واہی کے مزاج پر خود سامعین کی پسند و ناپسند کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔ اہلِ ذوق سامعین نہ صرف اشعار کی معنوی تہہ تک رسائی رکھتے ہیں بلکہ اکثر کسی مماثل خیال یا مستعار شدہ مصرعے کو فوراً محسوس کر لیتے ہیں۔ استاد شعرا کی گرفت، تنقیدی حلقوں کی جانب سے تحقیق اور جدید ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں آج کا ادبی ماحول وہی نہیں رہا جو چند دہائیاں پہلے تھا۔ اب محض چند نشستوں میں داد پا لینا کسی بڑے شاعرانہ مقام کا ضامن نہیں۔ ذرا سی مماثلت بھی ناقدین اور محققین کی نظر سے بچ نہیں سکتی اور ادبی سرقے کو بہت جلد آشکار کر دیا جاتا ہے۔
لہٰذا مسلسل "واہ واہی” کو صرف "چوری” سے منسوب کرنا سطحی تجزیہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ داد اور پذیرائی لازماً فن کی معنویت، جذبات کی سچائی، زبان کے کمال اور اسلوب کے تازہ پن سے وابستہ ہے۔ وقتی طور پر کوئی شاعر دوسروں کے خیالات یا اشعار سے سہارا لے تو شاید چند نشستیں اپنی طرف متوجہ کر لے، مگر مستقل طور پر ادبی تاریخ میں جگہ صرف اسی شاعر کو ملتی ہے جو اپنی انفرادیت اور تخلیقی نبوغ کے ذریعے سامعین کے دل و دماغ میں جگہ بنائے۔
اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ مشاعروں کی واہ واہی کو محض "چوری”کے ساتھ نتھی کر دینا انصاف نہیں۔ اصل سوال یہ رہتا ہے کہ شاعر نے اپنی تخلیق میں کس حد تک دیانت، انفرادیت اور اثر انگیزی کو برقرار رکھا۔ یہی اوصاف اسے وقتی اور عارضی شہرت سے نکال کر دائمی ادبی قدروں سے ہمکنار کرتے ہیں۔
کفن چوری کا قصہ اور ادبی سرقہ
ادب میں مثالیں دیتے وقت یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان کی معنویت اور تناظر مناسب ہو۔ بعض ناقدین نے ادبی سرقے کی وضاحت کیلئے”کفن چوروں” کا قصہ پیش کیا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں امور کی نوعیت اور اخلاقی حیثیت یکسر مختلف ہے۔ قبرستان میں کفن چرا لینا ایک جرم، معصیت اور فریب کا فعل ہے، جسے ہر اعتبار سے مذموم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ادبی روایت میں کسی استاد شاعر کی بحر، اسلوب یا خیال سے اثر قبول کرنا کوئی بددیانتی نہیں بلکہ فن کی پرانی پرکھا ہوا روایت ہے۔
ادبی ارتقاء صدیوں سے اسی جذب و اثر کے اصول پر قائم ہے۔ بڑے سے بڑا شاعر بھی اپنے سے پہلے گزرے عظیم فنکاروں کی شعری فضا اور لسانی سانچے سے اثر لیتا رہا ہے۔ میر تقی میرؔ پر فارسی کلاسیکی شاعری کی چھاپ، غالبؔ پر صوفیانہ فکر و طرز کا عکس، یا جدید شعرا پر اقبال کی فکری توانائی ۔یہ سب اثرات سرقے میں شمار نہیں کیے جا سکتے۔ اثر کا مطلب زندہ روایت کو آگے بڑھانا ہے، جبکہ سرقہ دراصل بلا حوالہ یا بلا امتیاز کسی اور کی تخلیق کو اپنی بنا کر پیش کرنے کا عمل ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اثر اور سرقہ میں بنیادی فرق ہے۔ اثر تخلیقی صلاحیت کو نکھارتا ہے اور روایت کو دوام دیتا ہے، جبکہ سرقہ علمی و اخلاقی بددیانتی ہے۔ اس لیے کفن چوری اور ادبی سرقے کو ایک ہی ترازو میں تولنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ادبی روایت کی توہین بھی ہے۔ کفن چور کی مثال گمراہ کن ہے، کیونکہ وہ سراسر دغا اور حرام کاری کا مرتکب ہوتا ہے، جب کہ ایک شاعر کا کسی روایت سے فیض حاصل کرنا، اصل میں فن کی تسلسل کو قائم رکھنے کا ذریعہ ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ کفن چوری اور ادبی سرقہ دونوں اپنی اپنی تعریف اور دائرہ رکھتے ہیں۔ ایک خالص مادی و اخلاقی جرم ہے جبکہ دوسرا یا تو فن کے تسلسل میں جائز اثر کا عمل ہے یا پھر کبھی بگاڑ کی صورت میں سرقے کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ دونوں کو غلط ملط کرنا نہ علم کے منصفانہ تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی ادب کے احترام کے شایانِ شان۔
نثر میں سرقہ یا استفادہ
نثری ادب میں سرقے کی روایت پر اکثر تنقید کی جاتی رہی ہے اور بعض آراء میں بجا طور پر اس جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ آج کے دور میں نثر میں سرقہ زیادہ نمایاں ہوگیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک قابلِ توجہ پہلو ہے، لیکن اس بحث کو یک رُخی انداز میں دیکھنا ادبی و فکری انصاف کے منافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نثر بالخصوص تحقیق اور تنقید کی دنیا محض انقطاع اور بالکل نئی تعمیر کا نام نہیں، بلکہ یہ روایت کے ساتھ مکالمے اور ماضی کے علمی سرمایہ پر عمارت اٹھانے کا عمل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جدید تنقیدی مباحث میں "بین المتونیت” (Inter-textuality) کا نظریہ وجود میں آیا۔ اس نظریے کے مطابق ہر نیا متن کسی نہ کسی طور سابقہ متون کے ساتھ رشتہ رکھتا ہے اور اپنی معنویت انہی سے کشید کر کے نئے فکری سیاق میں پیش کرتا ہے۔ یوں ایک محقق جب سابقہ مواد سے اخذ کرتا ہے اور اپنی زبان، اپنے فکری پیرائے اور اپنے مخصوص تناظر میں اسے دوبارہ ترتیب دیتا ہے تو یہ محض سرقہ نہیں بلکہ تخلیق کی ایک نئی شکل ہے۔ یہ علمی ارتقا کی طبعی شکل ہے جہاں ماضی کا سرمایہ حال کے فکری سوالات کے مطابق نئی تعبیر پاتا ہے۔
البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ نااہل یا غیر دیانت دار افراد جب محض کسی اور کے مقالے یا متن کو معمولی تبدیلی یا صرف نام کی تبدیلی کے ساتھ بطور اپنی تحریر پیش کرتے ہیں تو یہ واضح سرقہ اور بددیانتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص دوسرے کے گھر کی بنیاد کو جوں کا توں استعمال کرے اور اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کر دے۔ یہ علمی روایت کے ساتھ ظلم ہے اور تحقیقی دیانت کے محاذ پر ناقابلِ معافی جرم۔
لیکن اگر اسی بنیاد پر ہر اخذ و اقتباس کو سرقہ قرار دے دیا جائے تو پھر تحقیق و تنقید کا بیشتر سرمایہ ہی مشکوک ٹھہرے گا۔ حالیؔ کے "مقدمہ شعر و شاعری” تک میں عربی و فارسی تنقیدی روایت کی بازگشت ہے، شبلیؔ کی "شعرالعجم” بلا شبہ فارسی ناقدین کے افکار سے فیض یاب ہوئی ہے اور رشید احمد صدیقی کے مضامین میں بھی ماضی کی علمی میراث کے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں ۔ کیا انہیں ہم "سارق” قرار دیں گے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ ان کی اصل عظمت اسی میں ہے کہ انہوں نے ماضی کے ماخوذ عناصر کو اپنے عہد کی فکری روشنی میں نئے اسلوب اور معنویت کے ساتھ پیش کیا۔
اس پس منظر میں کہا جا سکتا ہے کہ نثر میں سرقہ اور استفادہ کے درمیان فرق کو نظر انداز کرنا نہ صرف علمی بددیانتی کی تعریف کو مبہم بنا دیتا ہے بلکہ تخلیقی و تحقیقی روایت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اصل معیار”اخذ کی دیانت” اور”جدت کی شمولیت” ہے ۔ ہر وہ اقتباس یا ماخوذ فکر جو نئے سیاق اور تفہیم کے ساتھ سامنے آئے، تخلیق میں اضافہ ہے۔ لیکن ہر وہ نقل جو محض تحریری جبر یا وقتی فائدہکیلئےکی جائے، بددیانتی اور سرقہ ہے۔یوں نثر کے میدان میں سرقہ ایک سنگین علمی جرم ہے، مگر استفادہ اور بین المتونیت تخلیق کے راستے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان فرق کو سمجھنا اور واضح کرنا ہی دراصل تحقیقی و تنقیدی انصاف کا تقاضا ہے۔
سرقہ اور تجدیدی عمل
اردو تنقید میں جب سرقے کی بات کی جاتی ہے تو عمومی مزاج اسے محض ایک منفی رجحان کے طور پر دیکھتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ادب کی تاریخ میں وہ مواقع بھی آئے جب بظاہر”سرقہ” یا دوسروں سے مستفاد عناصر ہی تخلیقی ارتقاء اور تجدیدی رویوں کا ذریعہ بنے۔ تخلیق کا راز صرف بالکل انوکھے اور یکسر نئے مواد تک محدود نہیں، بلکہ تخلیقی قوت یہ ہے کہ شاعر یا ادیب ماخوذ عناصر کو اپنی ذات، اپنے عہد اور اپنے فن کے مخصوص اسلوب کے ساتھ اس طرح ڈھال دے کہ وہ ایک نئی صورت اختیار کر لیں۔
اردو شاعری کی ایک نمایاں روایت”طرزِ استقبالیہ” کی ہے۔ یعنی کسی مشہور شاعر کے کسی مقبول مطلع یا مضمون پر بعد کے شعرا نے اپنی غزلیں کہیں، لیکن ان کا مقصد محض نقل یا چوری نہیں تھا بلکہ یہ اپنائیت، عقیدت اور فکری تسلسل کا ایک زندہ اظہار تھا۔ میرؔ کے مقبول مطلعے پر یا غالبؔ کے مشہور اشعار کے جواب میں کہی گئی غزلیں محفل کو تازہ ذائقہ دیتی تھیں اور مختلف شعرا کی انفرادی معنویت سامنے لاتی تھیں۔ یہ تخلیق کے ارتقائی عمل کا حصہ تھا جس نے اردو سخنوری کو ہمہ جہتی عطا کی۔
اسی طرح زبان کے سرمائے میں جو فارسی اور عربی تراکیب و محاورے شامل ہوئے، وہ محض "چوری” نہیں تھے بلکہ ان کے ذریعے اردو زبان نے اپنی وسعت، لطافت اور فکری گہرائی میں اضافہ کیا۔ فارسی کے شعری محاورے کے اردو میں آنے سے نہ صرف اظہار کا دائرہ وسیع ہوا بلکہ غزل اور قصیدہ کو وہ آہنگ بھی ملا جو اردو کی پہچان بن گیا۔ اگر ان تمام اثرات کو "سرقہ”کہا جائے تو اردو زبان کے پورے ارتقائی عمل کو کاٹ دیا جائے گا، حالانکہ یہی اثر پذیری اردو کو اس کی وسعت اور رنگا رنگی عطا کرنے کا سبب بنی۔
اردو نثر میں بھی یہی صورت ہے۔ شبلیؔ اور حالیؔ کے تنقیدی مضامین اپنے سے پہلے کے عربی و فارسی نقادوں کی فکری روشنی سے منور ہیں، لیکن ان کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اس ورثے کو اپنے مخصوص عہد کی عقلی، ادبی اور سماجی ضروریات سے ہم آہنگ کیا۔ یہی تجدید ہے، یہی تخلیق۔
لہٰذا یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ادب میں بظاہر جو کچھ "سرقہ”کہلاتا ہے، وہ کئی بار تخلیقی عمل کی تجدید اور ارتقائی عمل کی توسیع بھی ثابت ہوتا ہے۔ اصل سوال "ماخوذ ہونا” نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس اخذ کو کتنی نئی روح، نیا مفہوم اور نیا اسلوب دیا گیا۔ اگر یہ نئی توانائی شامل ہو گئی تو وہی ماخوذ مواد اردو کے تخلیقی خزانے میں اضافہ بن گیا، نہ کہ محض چوری۔
سرقہ کی تاریخ اور اس کے نقصانات پر کثیر بحث کی جاتی رہی ہے، مگر "سرقہ” کو محض جرم قرار دینا اس کی حقیقت کا صرف ایک رخ ہے۔ ادب میں استفادہ، اثرپذیری، ماخوذ خیالات اور بین المتونیت وہ عناصر ہیں جن کے بغیر کوئی بھی فن خام اور نامکمل رہ جاتا ہے۔ زیادہ قرینِ حقیقت یہ بات ہے کہ سرقہ کو سراسر منفی قرار دینے کے بجائے اسے تخلیقی عمل کے اس تسلسل کے طور پر دیکھا جائے جو نئی فکر کو جنم دیتا ہے اور ادب کی ارتقائی جہتوں کو آگے بڑھاتا ہے۔ یوں کہنا شاید زیادہ بجا ہو کہ سرقہ اگر محض چوری ہے، تو ہر آنے والی نسل اپنے ماقبل کی سب سے بڑی سارق ہے۔ لیکن یہی اخذ و استفادہ جب نئے معنی اور تازہ اسلوب میں ڈھل جائے تو یہی سرقہ تخلیق کی ماں بن جاتا ہے۔