از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔9902672038

پروفیسر دانش شہر کی ایک نہایت معروف، موقر اور معتبر علمی شخصیت کا نام ہے۔ چالیس برس قبل جب انہوں نے درس و تدریس کے میدانِ مقدس میں قدم رکھا تو ان کے پیشِ نظر صرف علم کی شمع کو روشن رکھنا اور آنے والی نسلوں کے ذہن و کردار کو سنوارنا تھا۔ وہ اپنی پوری سروس کے دوران ایمانداری، دیانت اور فرض شناسی کا جیتا جاگتا نمونہ رہے۔
سروس کے ابتدائی دنوں میں جب تنخواہیں قلیل اور سہولیات محدود تھیں، تب بھی انہوں نے آمدنی کی پرواہ کیے بغیر اپنی ذمہ داریوں کو پوری تندہی اور خلوص کے ساتھ نبھایا۔ وہ جانتے تھے کہ تعلیم محض روزگار نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ ہے۔ افسوس کہ زمانہ بدل گیا، رشوت خوری اور بدعنوانی نے معاشرے کے بیشتر طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ ادارے جو علم و اخلاق کے گہوارے ہوا کرتے تھے، وہاں بھی اس لعنت کے سائے در آنے لگے۔ مگر پروفیسر دانش نے اس پُرفتن دور میں بھی اپنا دامن پاک رکھا اور اپنی دیانت و وقار پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔ اپنی طویل تدریسی خدمات کے دوران ہی ان کے چاروں بچوں کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ انہوں نے اپنی اولاد کو نہ صرف اعلیٰ تعلیم دلوائی بلکہ ان کی تربیت میں بھی وہی اصول اپنائے جو خود اپنی زندگی میں برتے تھے۔ دونوں بیٹیاں شہر کے معزز، باوقار اور خوشحال خاندانوں میں بیاہی گئیں، جبکہ دونوں خوددار بیٹے اپنی اپنی زندگی کی دوڑ دھوپ میں مصروفِ عمل ہیں۔
پروفیسر دانش نے وظیفہ یابی کے بعد گوشہ عافیت اختیار کرنے کے بجائے اپنی علمی و فکری سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع کر لیا۔ وہ مختلف ادبی و سماجی تنظیموں سے وابستہ ہو گئے اور اپنے قلم کو اصلاحِ معاشرہ کا مؤثر ہتھیار بنا لیا۔ ان کا یقین تھا کہ آج کا نوجوان وعظ و نصیحت یا طویل تقریر سے جلد اکتا جاتا ہے، اس لیے انہوں نے ایک انوکھا انداز اپنایا۔ وہ نصیحت کو کہانیوں اور افسانوں کے حسین قالب میں ڈھال دیتے، اور یوں وہی تلخ حقیقتیں شوگر کوٹڈ ٹیبلیٹ کی مانند نرم و دلنشیں انداز میں قاری کے ذہن و دل تک پہنچ جاتیں۔ ان کی تحریریں نہ صرف فکر انگیز ہوتیں بلکہ نوجوانوں کے اخلاق و کردار کی تعمیر میں خاموش مگر مؤثر کردار ادا کرتیں۔
شام ہو چکی تھی، سورج کی سنہری کرنیں افق کے پار ڈوب گئیں۔ آسمان پر سرخی مائل لالی بکھر گئی، ہوا میں ٹھنڈک گھلنے لگی، پرندے اپنے آشیانوں کو لوٹ رہے تھے، فضا میں ایک عجیب سکون اور سرشاری کا عالم تھا، جیسے کائنات کسی حسین خواب میں محو ہو۔ شام کے تقریباً سات بج چکے تھے۔ اسٹڈی روم میں کتابوں سے بھری الماری کے سامنے پروفیسر دانش خاموش بیٹھے تھے۔ ان کی آنکھوں میں خوشی کی ایک چمک تھی، اور ہاتھ میں وہ خط جس پر وزرات ثقافت کی مہر لگی ہوئی تھی۔ خط میں یہ اطلاع تھی کہ انہیں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈسے نوازا جا رہا ہے۔ ان کے چہرے پر برسوں کی محنت، قربانی اور علم و ادب سے عشق کا عکس صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ آہستہ سے مسکرائے اور کمرے کے دروازے کی طرف مڑے۔ پروفیسر دانش نے خوش لہجے میں اپنی شریک حیات کو آواز دی ”رخسار! ذرا سنو تو! ایک بڑی خوشخبری ہے!” رخسار بیگم نے کچن سے آواز دیتے ہوئے پوچھا ”کیا ہوا؟ کوئی نئی کتاب چھپ گئی کیا؟ یا پھر کوئی اور اسکالر تمہارے مضمون پر داد دے گیا؟” پروفیسر دانش ہنستے ہوئے کہا ”نہیں نہیں، اس سے بھی بڑی بات ہے۔ آج وزرات ثقافت کی جانب سیخط آیا ہے۔ مجھے اس سال میری ادبی خدمات کے لئے ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔ رخسار بیگم کچن سے نکلیں، ہاتھ میں دو چائے کے کپ، چہرے پر ہلکی تھکن اور آنکھوں میں برسوں کی جدوجہد کے نشان، رخسار بیگم بے نیازی سے کہااچھا؟ مبارک ہو۔ اب چائے پی لیجیے، ٹھنڈی ہو جائے گی۔ پروفیسر دانش حیرت سے سوال کیا بس؟ اتنا سا ردعمل؟ میں نے سوچا تھا تم خوش ہو جاؤ گی ۔ آخر تمہیں بھی تو فخر ہونا چاہیے کہ تمہارے شوہر کو یہ اعزاز مل رہا ہے۔
رخسار بیگم چائے رکھتے ہوئے کہا ”فخر تو ضرور ہے دانش، مگر بتاؤ، اس ایوارڈ کے ساتھ کیا ملے گا؟ کچھ رقم ایک تمغہ اور تعریف کے چند الفاظ؟ پروفیسر دانش چونک گئے۔ ان کے چہرے پر ہلکی سی اداسی اتر آئی۔ پروفیسر دانش نے نرمی سے سمجھایارخسار، ہر چیز کا مول پیسہ نہیں ہوتا۔ یہ عزت، یہ پہچان۔ یہ بھی تو کم نہیں۔رخسار بیگم نے طنزیہ انداز میں کہا،دانش، میں نے تمہارے ساتھ چالیس سال گزارے ہیں۔ تم نے اپنی عمر کالج، کتابوں، مقالوں اور کانفرنسوں میں لگا دی۔ کبھی کسی تقریب میں، کبھی کسی مضمون کی تیاری میں۔ مگر تم نے کبھی سوچا کہ تمہاری سروس کے شروعاتی دور میں جب تنخوا کم تھی ہمارے بچوں کی فیسیں کیسے بھرتی رہیں؟ بجلی کا بل کیسے ادا ہوا؟ تم نے علم کا چراغ ضرور جلایا، مگر چولہا بجھنے بھی میں نے نہیں دیا۔
پروفیسر دانش چپ رہ کر ایک لمحے بعد کہا،رخسار، میں نے کبھی تمہاری قربانیوں کو بھلایا نہیں۔ مگر تم یہ کیوں بھول جاتی ہو کہ میں نے بھی تو زندگی میں کافی جدوجھد کی، درس و تدریس میں عمر لگا دی،خدا بہتر جانتا ہے میں نے ایک طرح سے اپنی زندگی کالج اور طلباء کے روشن مستقبل کے لیے وقف کر دی تھی۔ رخسار بیگم نے تلخ لہجے میں اپنی بات رکھی ”قربانیاں ضرور دیں، مگر نتیجہ؟ آخر میں کیا ملا؟ ایک ایوارڈ؟ چند تعریفی الفاظ؟ کیا یہی عمر بھر کی محنت کا صلہ ہے؟ پروفیسر دانش جذباتی ہوتے ہوئے بولے رخسار ، تم کہتی ہو صلہ کیا ملا؟ دیکھو ذرا ہماریاس عالیشان گھرکو ، گاڑی ہے، زندگی کی تمام سہولتیں دستیاب ہیں۔ دونوں بیٹے اعلیٰ تعلیم یا فتہ، اپنے اپنے گھر گرستی میں مصروف ہیں۔ بیٹیاں اعلیٰ ڈگریاں رکھتی ہیں،خوشحال گھروں میں آباد۔ کیا یہ میری محنت کا صلہ نہیں؟ کیا اللہ تعالی نے ہمیں اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟میں نے دولت نہیں اکھٹا کی، مگر تربیت چھوڑی ہے، علم چھوڑا ہے، کردار چھوڑا ہے۔ر خسار بیگم خاموش ہو گئیں۔ ان کے چہرے پر لمحہ بھر کیلئے ندامت کی لہر دوڑ گئی۔ رخسار بیگم نے ہلکی آواز میں کہا،میں جانتی ہوں، تم نے بہت کیا۔ مگر، میں کبھی کبھی سوچتی ہوں دانش،جب دوسرے لوگوں کے بیٹوں کو دیکھتی ہوں کہ کس طرح لائف میں سیٹل ہیں انکے اپنے اپنے بنگلے ہیں گاڑیاں ہیں اور میرے بیٹوں کی جدوجہد دیکھتی ہوں تب دل کچوکے کھاتا ہے۔ پروفیسر دانش مسکرا دیے۔ ان کے چہرے پر ایک درد بھری روشنی جھلکنے لگی۔ رخسار نے پہلی بار دانش کی آنکھوں میں سیدھا دیکھا۔ ان آنکھوں میں تھکن نہیں تھی۔بس ایک گہرا درد، جو برسوں سے دبا ہوا تھا۔
رخسار بیگم نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا، ”اور دانش، تمہیں احساس بھی ہے کہ تین چار سال بیت گئے، ہم نے اپنی بیٹیوں کو کوئی زیور تک تحفے میں نہیں دیا۔ بیٹیاں، چاہے اپنے گھروں کی ہو جائیں، ماں باپ کی محبت اور توجہ چاہتی ہیں۔ وقتاً فوقتاً انہیں کچھ نہ کچھ دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے سسرال میں فخر محسوس کریں۔ دیکھو، ان سب کے لیے ہمارے پاس فاضل رقم ہونا بھی ضروری ہے۔ تمہارا قلم تو خوب چلتا ہے، اور دماغ بھی کمال کا ہے، مگر اب زمانہ بدل گیا ہے۔ لوگ اب کتابوں سے نہیں، تجارت سے متاثر ہوتے ہیں۔ تم قلم کو کچھ دنوں کے لیے آرام دو، اور اپنی ذہانت کو کسی کاروبار میں لگاؤ۔ اور ہاں، کبھی کبھار ایک آدھ مضمون لکھ لیا کرو، تاکہ تمہارے اندر کا ادیب زندہ بھی رہے اور مطمئن بھی۔ یہ کہہ کر وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئیں۔ پھر آہستہ سے بولیں،دانش، میں تمہاری طرح اتنی کتابیں نہیں پڑھی، لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ عقل بادام کھانے سے نہیں، ٹھوکریں کھانے سے آتی ہے۔ رخسار بیگم کے لہجے میں کہیں درد کی نرمی تھی اور کہیں زندگی کے تجربات کی تلخی۔ پروفیسر دانش نے مسکراتے ہوئے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور نرم لہجے میں کہا، ”رخسار، آج تم کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو۔ مادہ پرستی ایک ایسا چکر ہے جو انسان کو اندر سے خالی کر دیتا ہے۔ اس کے جال سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ تمہیں یاد ہے، جب ہماری شادی ہوئی تھی، زندگی کتنی کٹھن تھی ہمارے چھوٹے بچوں کے اپنے تعلیمی اخراجات مگر ہم نے صبر سے کام لیا، محنت کی، قناعت کی۔ آج اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ آخر قناعت پسندی بھی تو ایک دولت ہے، جو انسان کو سکون عطا کرتی ہے۔ یہ کہتے ہوئے پروفیسر دانش کے چہرے پر ایک پُرسکون روشنی پھیل گئی، جیسے وہ اپنی بات سے خود کو بھی مطمئن کر رہے ہوں، جبکہ رخسار بیگم خاموشی سے ان کی باتیں سنتی رہیں ۔ ان کے دل کے کسی گوشے میں قناعت اور خواہش کے درمیان ایک خاموش جنگ جاری تھی ۔
رخسار بیگم نے شکایت کے لہجے میں پروفیسر دانش سے کہا،آپ نے اپنی پوری زندگی کالج کے طلباء کی تقدیر سنوارنے میں گزار دی۔ دن درس و تدریس میں بیت گئے، اور جو لمحے بچے، وہ تحریر و تصنیف کے نذرانے چڑھ گئے۔ آپ کے ہزاروں شاگرد آج بڑے بڑے منصبوں پر فائز ہیں، نام و شہرت کما رہے ہیں۔ کاش آپ نے اپنے اثر و رسوخ کا تھوڑا سا سایہ اپنے بیٹوں پر بھی ڈال دیا ہوتا، تو آج وہ بھی مالی طور پر مستحکم اور خوشحال زندگی گزار رہے ہوتے۔ مجھے ان کی معاش کی جدوجہد اور دوڑ دھوپ دیکھی نہیں جاتی۔ آخر وہ بھی اپنے بیوی بچوں کے ذمہ دار ہیں۔ رخسار بیگم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، ان کے لبوں پر شکوہ اور دل میں ماں کی بیقراری تھی۔ پروفیسر دانش نے نرمی اور تحمل سے کہا،رخسار، اپنے بچوں کے لیے اثر و رسوخ کا سہارا لینا غلط بات ہے۔ میں نے ہمیشہ چاہا کہ وہ اپنی محنت سے اپنی پہچان بنائیں۔ رخسار بیگم نے بات کاٹتے ہوئے کچھ تیزی سے کہا، ”لیکن دانش صاحب، والدین اگر اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے تھوڑا سا دروازہ بھی کھول دیں تو اسے برا نہیں کہا جا سکتا۔ آپ کے اثر و رسوخ کا استعمال کوئی گناہ تو نہیں تھا۔ آخر کون سا آسمان گر پڑتا اگر آپ ان کے لیے سفارش کر دیتے اور کسی سرکاری پوسٹ پر فائز کروا دینے کا انتظام کر دیتے؟ جب وہ پوری طرح اپنی اپنی زندگیوں میں سیٹل ہو جاتے، تب چاہے جتنا پارسائی کا علم اٹھا لیتے اٹھا لینا تھا،آخر عمر بھی بہُت پڑی ہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ آج رخسار بیگم کے دل کا بوجھ برسوں بعد لبوں تک آ گیا ہے، اور شاید وہ اس بار خاموش ہونے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔
پروفیسر دانش نے نہایت سنجیدگی اور شفقت بھرے لہجے میں اپنی بیوی کو سمجھاتے ہوئے کہا رخسارہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ یہ بات درست ہے کہ دونوں بیٹے فی الحال سرکاری ملازمت پر فائز نہیں ہیں لیکن بیکار بھی تو نہیں ہیں اپنے گزربسر میں خوش ہیں، مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ والدین کا فریضہ صرف اولاد کو پالنے، سنوارنے اور انہیں اعلیٰ تعلیم دینے تک محدود ہے۔ ان کا مقدر ہم نہیں لکھ سکتے۔ آگے کی جدوجہد انہیں خود کرنی ہوگی، اپنی زندگی انہیں خود گزارنی ہوگی، اور اپنے لیے کامیابی کا راستہ خود ہموار کرنا ہوگا، یہی اس دنیا کا اٹل دستور ہے۔ اگر ہم انہیں ہمیشہ آرام و آسائش کے حصار میں رکھیں گے، تو وہ زندگی کی جدوجہد سے نابلد رہ جائیں گے۔ آرام کی زندگی میں وقتی سکون تو ہوسکتا ہے، مگر اس میں کامیابی کا وہ ذائقہ نہیں جو محنت و مشقت سے حاصل ہوتا ہے۔بیگم رخسار نے گہری سانس لیتے ہوئے پروفیسر دانش سے کہا،دانش صاحب! اب وہ زمانہ کہاں رہا جب لوگ کتابوں کے اوراق میں زندگی تلاش کرتے تھے۔ آج کے دور میں پڑھنے کا رجحان دم توڑ چکا ہے۔ آپ ابھی تک پرانے عہد کے خوابوں میں کھوئے ہوئے ہیں، زمانے کی نبض کو نہیں پہچانتے۔ ایک وقت تھا جب مصنف کی اپنی ایک پہچان ہوا کرتی تھی، لوگ اس کے ہر لفظ کو عقیدت سے پڑھتے، اس کی تحریروں میں روشنی ڈھونڈتے تھے۔ مگر اب وہ پڑھنے والے دل کہاں باقی رہے؟ اب تو لوگ مصروفیتوں کے بوجھ تلے دب کر احساسات سے خالی ہو چکے ہیں۔ آخر آپ کس کے لیے لکھتے ہیں اور کیوں لکھتے ہیں؟ اگر یہ صرف آپ کا شوق ہے تو مان لیجیے، یہ شوق اب آپ کے قیمتی وقت کا نقصان بن گیا ہے۔ آج برسوں کی انتھک محنت، جاں فشانی اور علمی جدوجہد کے بعد بالآخر آپ کی ادبی خدمات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ گویا آپ نے اس اعتراف کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی ہو ۔ یہ اعزاز دراصل آپ کی قلمی استقامت، فکری دیانت اور خلوصِ نیت کا اعتراف ہے۔ آج کے اس مادہ پرست دور میں ایوارڈ اکثر خدمت کے بدلے نہیں بلکہ خوشامد کے صلے میں بانٹے جاتے ہیں۔ جو صاحب اقتدار کی خوشنودی حاصل کر لے، وہی اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ اور جس نے خوشامدی کی طرف ایک اور قدم بڑھایا تو وہ ایوارڈ سے بڑھ کر کسی ثقافتی و ادبی اکادمی کمیٹی کا چیئرمین بھی بنا دیا جاتا ہے۔ یہ گفتگو سن کر پروفیسر دانش نے مسکراتے ہوئے گہری سنجیدگی سے کہا، میں ایوارڈ حاصل کرنے کی دوڑ میں لگ کر اپنی قلم کی حرمت کو داغدار نہیں کر سکتا۔ اگر کبھی میرا قلم چاپلوسی کا محتاج بن گیا، تو میں چلو بھر پانی میں ڈوب مر جانا پسند کرونگا۔ بیگم رخسار نے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا، ‘‘دانش صاحب! آپ ذرا لوگوں کی نبض تو ٹٹولیے، اب کسی کو پڑھنے سے دلچسپی نہیں رہی۔ وہ زمانہ کب کا گزر چکا جب لوگ ناول کے صفحات میں اپنے جذبات تلاش کرتے تھے۔ اب تو ناول پڑھنے کا دور قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ میں آپ سے پوچھتی ہوں، آخر کمال امروہی جیسے فن کار کی‘رضیہ سلطان’جیسی فلم کیوں ناکام ہو گئی؟
پروفیسر دانش نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور اندر سے خوش بھی ہوئے کہ بات فلموں کی طرف آگئی اور ماحول کس حد تک خوشگوار ہوتا جا رہا ہے، نرمی سے پوچھا ،بات اچانک رضیہ سلطان پر کیوں آ گئی؟ خیر، اس فلم کی ناکامی کی وجہ یہی تھی کہ اس کی زبان اور اسلوب عوام کی سمجھ سے کہیں بلند تھا۔ کمال امروہی نے ایک شاہکار تخلیق کیا، مگر لوگ اس کے ذوق اور زبان کا ساتھ نہ دے سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک فن پارہ جو تاریخ میں امر ہو سکتا تھا، زمانے کی بے حسی کی نذر ہو گیا۔ بیگم رخسار نے ذرا توقف کے بعد سنجیدگی سے کہا، یہی وہ جگہ ہے جہاں کمال امروہی سے لغزش ہوئی۔ وہ اپنے بلند مقام پر ڈٹے رہے، لیکن عوام کی ذہنی سطح اور زبان رفتہ رفتہ بہت نیچے جا چکی تھی۔ اگر کمال امروہی صاحب اپنے مرتبے سے کچھ نیچے اتر کر عوام کی سطح پر آ جاتے، ان کی زبان میں گفتگو کرتے، تو شاید ان کے تخلیقی اظہار کی معنویت عام دلوں تک بھی پہنچ جاتی۔ مگر افسوس، وہ عوام کی نبض کو ٹھیک سے پہچان نہ سکے۔یہ سنتے ہی پروفیسر دانش نے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا،
رخسار بیگم، اگر ہر فنکار، شاعر یا ادیب یہ دیکھنے لگے کہ عوام کیا چاہتی ہے اور وہ اسی کے مطابق لکھنے لگے، تو پھر سماج کا کیا بنے گا؟ اگر عوام کو صرف آتی کیا کھنڈالا جیسی چیزیں ہی درکار ہوں، تو کیا اہلِ قلم کا فرض یہ ہوگا کہ وہ اسی طرح کے بیہودہ مواد سے ان کی ذہنی تسکین کا سامان کریں؟بیگم رخسار نے خاموشی سے ان کی بات سنی، مگر ان کی آنکھوں میں ایک سوال اب بھی لرز رہا تھا،کیا ادب عوام سے کٹ کر زندہ رہ سکتا ہے؟۔
پروفیسر دانش بھانپ گئے کہ انکی شریک حیات انکے مزاج کو بدلنے کی بات کہہ رہی ہیں جسکی انہیں اُمید نہیں تھی، انہوں نے بخوبی محسوس کر لیا کہ اُن کی شریکِ حیات زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اور فلم کی ناکامی کی وجوہات گنوا کر دراصل اُن کے اندر چھپے ٹیچر اور ادیب کو پسِ منظر میں دھکیل کر اُنہیں ایک مصلحت اندیش بنیا میں ڈھالنا چاہتی ہیں۔ اس بار پروفیسر دانش نے خلافِ معمول خاموشی اختیار نہ کی۔ وہ یکایک بول اٹھے،‘‘رخسار! انسان اپنے شوق کے لیے کیا کچھ نہیں کرتا۔ کوئی جوا کھیل کر اپنی بربادی کا سامان کرتا ہے، کوئی شراب کے نشے میں ڈوب کر عزت و وقار گنوا بیٹھتا ہے، کوئی دنیا کی خرافات میں ملوث ہو کر اپنی زندگی برباد کر لیتا ہے۔ اگر میں نے اپنے دل کے سکون اور روح کی آسودگی کے لیے قلم تھام لیا ہے تو اسے بھی تم ایک لت سمجھ کر نظرانداز کر دو۔ آخر یہ بھی تو ایک شوق ہی ہے، مگر ایسا شوق جو عقل و دانش کو جِلا دیتا ہے، انسان کو خود اپنے آپ سے روبرو کر دیتا ہے۔ بیگم رخسار نے تیور بدلتے ہوئے تیز لہجے میں کہاکہ جب کوئی معقول دلیل نہ ملی تو فلسفے کی آڑ لے لی! کیا یہ بھی کوئی جواز ہوا؟‘‘ پروفیسر دانش نے بیگم کے لہجے کی تیزی اور چہرے پر ابھرتی خفگی کو محسوس کیا۔ وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئے، پھر دھیرے سے اٹھے اور چائے پیے بغیر ڈرائنگ روم سے باہر نکل آئے اور صحن کے کونے میں رکھی ہوئی اپنی بڑی سی کرسی پر جا بیٹھے۔ شام ڈھلے کافی دیر ہو چکی تھی، پروفیسر دانش کا چہرہ سنجیدہ تھا، آنکھوں میں فکر کی گہرائی تیر رہی تھی۔ وہ دیر تک چپ چاپ بیٹھے رہے، جیسے الفاظ کی گونج کہیں اندر ہی اندر جا کر کسی اور کہانی کو جنم دے رہی ہو۔ وہ دیر تک آسمان کی طرف نظریں جمائے کسی گہرے سمندر میں غوطہ زن تھے۔ آسمان پر بکھرے ستارے جیسے ان کے دل کی الجھنوں کا آئینہ بن گئے ہوں۔ زندگی بھر جنہوں نے لفظوں کو ایمان کی طرح برتا، آج وہ خود اپنے یقین سے لڑ رہے تھے۔ رخسار بیگم کے الفاظ دل کے نہاں خانے میں تیر کی طرح اتر گئے تھے۔ کبھی ان کی شریکِ حیات نے یوں دل زخمی نہ کیا تھا۔ آدمی دنیا سے، زمانے کے جبر سے، حالات کی سختیوں سے لڑ سکتا ہے، مگر جب اپنوں کے سوال خنجر بن کر سینے میں اتر جائیں تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے، جیسے کوئی بلند پہاڑ اچانک ریزہ ریزہ ہو جائے۔ وہ سوچوں میں گم تھے — کیا واقعی رخسار بیگم ٹھیک کہہ رہی تھیں؟ کیا اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے قلم کو خاموش کر کے اس دنیاوی دوڑ کا حصہ بن جائیں جہاں لفظوں کی حرمت نہیں، صرف منافع کا میزان ہے؟ مگر وہ دل، وہ دل جو برسوں سے قوم کے نوجوانوں میں روشنی بانٹتا رہا، وہ ماننے کو تیار نہ تھا۔ کیا قلم کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ کی کوشش محض وقت کا زیاں ہے؟ اگر ایسا ہے تو جائے بھاڑ میں یہ ایوارڈ، یہ عزت اب تو بس دھندے کی بات ہونی چاہیے،مگر نہیں دل کسی بازار کی جنس نہیں ہوتا۔ اسی لمحے چوڑیوں کی مدھم جھنکار نے ان کے خیالات کا جادو توڑ دیا۔ رخسار بیگم چائے کی پیالی لیے سامنے کھڑی تھیں۔ ان کی نگاہوں میں نرمی تھی، جیسے کسی طوفان کے بعد پہلی کرن نمودار ہوئی ہو۔ انہوں نے شوہر کی آنکھوں میں جھانکا، جیسے یقین کرنا چاہتی ہوں کہ وہاں کوئی دراڑ تو نہیں پڑی۔ پھر لبوں پر ایک نرم سی مسکراہٹ ابھری ،میں نے دونوں بیٹیوں کو فون کر دیا ہے، وہ پرسوں گھر آرہی ہیں تا کہ اگلے ہفتہ آپ کوایوارڈ دیے جانے والی تقریب میں شریک رہیں۔ بیٹوں کو رات میں بتا دوں گی۔ آخر ہم بھی آپ کے قلمی سفر کے مسافر ہیں، دانش صاحب۔
بیوی کے لہجے کی نرمی نے جیسے پروفیسر دانش کے ٹوٹے وجود کو جوڑ دیا۔ دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگا، جیسے سمندر کا طوفان تھم گیا ہو اور لہریں ساحل سے آ کر سکون سے لپٹ گئی ہوں۔ رخسار بیگم نے چائے کی پیالی ان کے ہاتھ میں دی اور اہستہ سے کہا ”دوبارہ گرم کرلائی ہوں” اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کندھے پر ہاتھ رکھا۔پروفیسر دانش نے چائے کا پہلا گھونٹ بھرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دیکھا، وہاں محبت تھی، معافی تھی، اعتراف تھا اور ایک نیا عزم۔رخسار بیگم نے دھیرے سے کہا، ‘‘صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے، پروفیسر صاحب۔پروفیسر دانش کے ہونٹوں پر خاموش مسکراہٹ آئی۔ کہیں اندر ایک چراغ جل اٹھا، وہی چراغ جو لفظوں سے دنیا کو منور کرتا ہے۔
