از:۔ عبدالحلیم منصور۔بنگلورو

ہندوستان کی جمہوریت اپنی متنوع ثقافت اور سیکولر شناخت پر فخر کرتی ہے، مگر حالیہ برسوں میں ریاستی اداروں میں نظریاتی دباؤ اور مخصوص تنظیموں کی سرگرمیاں اس شناخت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملیکارجن کھرگے کے فرزند ،کرناٹک کے وزیر برائے دیہی ترقیات و پنچایت راج، پریانک کھرگے، نے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح مطالبہ کیا کہ سرکاری اسکول، کالج، پارک اور دفاتر کسی بھی تنظیم کے نظریاتی یا مذہبی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوں، بالخصوص آر ایس ایس اور اس جیسی تنظیموں کے لیے۔پریانک کھرگے کا موقف محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ریاستی غیرجانبداری، جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کا فکری دفاع ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری ادارے عوام کے لیے ہیں، کسی مخصوص عقیدے یا نظریے کے لیے نہیں۔ جب ریاستی احاطے نظریاتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوں، تو نہ صرف تعلیم و انتظامیہ متاثر ہوتے ہیں بلکہ شہری اعتماد اور جمہوری عمل بھی مجروح ہوتا ہے۔
کھرگے نے واضح کیا کہ اسکول، کالج اور دیگر سرکاری ادارے علم و شعور کے مراکز ہیں، نہ کہ کسی تنظیم یا عقیدے کے اڈے۔ اگر کمسن ذہنوں کو فرقہ وارانہ یا نظریاتی سانچوں میں ڈھالا جائے، تو وہ سوال نہیں کرتے بلکہ تسلیم کرتے ہیں۔ یہی ذہنیت آگے چل کر عدلیہ، پولیس اور انتظامیہ میں تعصب، بے حسی اور امتیاز کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ جب کوئی جج انصاف سے زیادہ نظریاتی وابستگی کے مطابق فیصلہ کرے، یا کوئی سرکاری افسر اپنے دفتری فیصلوں میں نظریاتی ترجیح کو مقدم رکھے، تو پورے ریاستی نظام کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ کھرگے کے موقف کے بعد کرناٹک کابینہ نے ایک قانون منظور کیا جس کے مطابق کسی بھی تنظیم کو سرکاری مقامات پر سرگرمی کے لیے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔ اگرچہ اس قانون کا مقصد نظم و ضبط اور رواداری کو یقینی بنانا تھا، عوام نے سوال اُٹھایا کہ کیا یہ واقعی ریاستی غیرجانبداری کی ضمانت ہے؟ پچھلی حکومت نے واضح طور پر کہا تھا کہ اسکولوں کے احاطے کسی غیر تعلیمی یا مذہبی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے، مگر موجودہ قانون نے اس اصول کو کمزور کر کے کہا کہ اگر اجازت ہو تو ممکن ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں ریاستی غیرجانبداری پر سوال اٹھتے ہیں۔
عوامی سطح پر ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اگر حکومت واقعی غیرجانبداری پر یقین رکھتی ہے تو سرکاری دفاتر میں مذہبی تصاویر، پوجا آرتیاں اور مذہبی افتتاحی تقاریب کیوں برقرارد ہیں؟ جب اسمبلی، سکریٹریٹ اور دیگر اداروں میں دیوی دیوتاؤں کی تصاویر سجی رہیں یا فائلوں پر پھول چڑھائے جائیں، تو ریاست کا سیکولر ڈھانچہ علامتی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ عوام کا مطالبہ بجا ہے کہ اگر نجی تنظیموں کی سرگرمی محدود کی جائے تو سرکاری اداروں میں بھی غیر مذہبی اور نظریاتی آزاد ماحول فراہم کیا جائے۔
یہ مسئلہ صرف کرناٹک تک محدود نہیں۔ شمال سے لے کر جنوب اور مشرق سے مغرب تک ریاستی اداروں میں نظریاتی اثر بڑھ رہا ہے۔ اسکولوں میں نصاب کی تیاری اکثر نظریاتی بنیادوں پر ہوتی ہے اور سرکاری ملازمین کھل کر کسی مخصوص تنظیم سے وابستگی ظاہر کرتے ہیں ۔ یہ صورتحال آئین کے بنیادی ستونوں، سیکولرزم، جمہوریت اور برابریکیلئے حقیقی چیلنج ہے۔ ریاست کی غیرجانبداری وہ دیوار ہے جو اکثریتی دباؤ، مذہبی راج اور فکری غلامی سے شہریوں کو بچاتی ہے ۔ اگر یہ دیوار ٹوٹ گئی تو آئین محض کاغذی الفاظ بن کر رہ جائے گا ۔
کرناٹک اور دیگر ریاستوں کے اقلیتی وزراء و اراکینِ اسمبلی نے اس حساس معاملے پر زبان بند رکھی۔ اگرچہ انہیں براہِ راست تائید سے گریز تھا، کم از کم اخلاقی سطح پر پریانک کھرگے کے قدم کی تعریف کرنی چاہئے تھی۔ یہ خاموشی سماجی ہم آہنگی کے خلاف ہے۔ اگر کل کوئی غیر مسلم رہنما فرقہ واریت کے خلاف آواز بلند کرے اور اقلیتی نمائندے اسے تنہا چھوڑ دیں، تو یہ سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ جن وزراء اور رہنماؤں نے مساوات اور سیکولرزم کی قسم کھائی ہے، ان میں سے بیشتر اس نازک موقع پر خاموش ہیں۔ فیض احمد فیض کے الفاظ یہاں صادق آتے ہیں۔
ظلم کی تائید میں خاموش رہنا بھی ظلم کے مترادف ہے۔
پریانک کھرگے کے موقف کو بنیاد بنا کر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ سرکاری اداروں میں کسی بھی نظریاتی یا مذہبی سرگرمی پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ نصاب کی تیاری آزاد نصابی کمیشن کے تحت کی جائے تاکہ سیاسی یا نظریاتی دباؤ نصاب پر اثر انداز نہ ہو۔ سرکاری ملازمین کے لیے واضح ضابطہ بنایا جائے کہ وہ اپنی مذہبی یا نظریاتی شناخت دفتری ماحول میں نہ لائیں۔ عوامی مقامات سے مذہبی علامتیں یا نظریاتی مواد ہٹانے کے لیے مہم چلائی جائے اور تعلیمی اداروں میں مختلف مذاہب کی تعلیم کے بجائے مشترکہ اخلاقی اور انسانی اقدار کو فروغ دیا جائے۔ یہ طرزِ عمل ریاستی اداروں کو محفوظ، مساوی اور فکری طور پر آزاد رکھنے میں مددگار ہوگا۔
پریانک کھرگے کا قدم ایک آئینہ ہے جو ہماری اجتماعی خامیوں کو عیاں کرتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خود سے پوچھیں کیا ہم سرکاری اداروں کو جمہوری اقدار کا مظہر بنانا چاہتے ہیں یا نظریاتی تبلیغ کے مرکز؟ یہ سوال صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر شہری کے لیے ہے۔ اگر آج ہم نے ریاستی اداروں کی نظریاتی آزادی کے حق میں آواز نہ اٹھائی، تو آنے والی نسلیں غلام ذہنوں میں پروان چڑھیں گی۔ ریاست کے مؤقر ادارے عوامی بھروسے کے قلعے ہونے چاہئیں، نظریاتی تبلیغ کے مندر نہیں۔اختتام پر فیض احمد فیض کے الفاظ آج بھی ہم پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
