بچوں میں منشیات کی وباء۔۔۔۔ قوم کا مستقبل خطرے میں

مضامین

از:۔ادریس اصغر تریکرے 9448211349


یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ہمارے معاشرے میں منشیات کی وباء خاموشی کے ساتھ نئی نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے کل تک جو مسئلہ صرف بڑے شہروں یا مخصوص طبقات تک محدود سمجھا جاتا تھا آج وہ گلی محلوں اسکولوں مدراس اور دیہی علاقوں تک پھیل چکا ہے سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس وباء کا شکار بچے اور کم عمر کے نوجوان ہورہے ہیں جو کل کے معمار وطن ہیں ۔ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے، مگر جب یہی بچے منشیات جیسی لعنت کی گرفت میں آجائیں تو صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورا معاشرہ زوال کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ آج بچوں میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان ایک ایسی خاموش وباء بن چکا ہے جو ہماری نسلوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ قصبوں اور دیہی علاقوں میں بھی تیزی سے پھیل چکا ہے۔
بچوں میں منشیات کے استعمال کی شروعات اکثر وقتی لطف یا دوستوں کے دباؤ سے ہوتی ہے، جو رفتہ رفتہ شوق، پھر عادت اور بالآخر مجبوری میں بدل جاتی ہے۔ سگریٹ، گٹکا، نشہ آور گولیاں، سونگھنے والے کیمیکل اور دیگر مہلک اشیاء جو آسانی سے ہر جگہ دستیاب ہیں جو بچوں کو بہت کم عمری میں نشے کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
اس سنگین مسئلے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ، گھریلو تناؤ، غربت اور معاشی دباؤ ایک طرف، تو دوسری جانب جدید طرزِ زندگی، دولت کی اندھی دوڑ، والدین کی لاپروائی، حد سے زیادہ آزادی، غلط صحبت، موبائل فون کا بے جا استعمال اور فلموں، سوشل میڈیا ریلس اور انٹرنیٹ پر منشیات کی غیر محسوس تشہیر اس وباء کو مزید ہوا دے رہی ہے۔
نشے کی لت میں مبتلا بچہ تعلیم سے دور ہو جاتا ہے۔ اس کی توجہ، حافظہ اور سیکھنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے، نتیجتاً اسکول چھوڑنے کا رجحان بڑھتا ہے جو آگے چل کر جرائم، تشدد اور سماجی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک بچے کا نشہ صرف اسی کی نہیں بلکہ پورے خاندان کی زندگی کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ منشیات بچوں کی جسمانی نشوونما کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ کمزور اعصاب، ذہنی بے چینی، ڈپریشن، خود اعتمادی کی کمی اور مختلف جسمانی و نفسیاتی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ کئی بچے کم عمری میں ہی زندگی کی دوڑ ہار جاتے ہیں، جو ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہماری اجتماعی ذمہ داری بچوں میں منشیات کی وباء کا مقابلہ صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی جدوجہد ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے دوست بنیں، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان سے مکالمہ قائم کریں۔ اساتذہ بچوں کی ذہنی کیفیت کو سمجھیں اور بروقت رہنمائی کریں۔سماجی اور مذہبی ادارے کردار سازی میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں، جبکہ حکومت منشیات فروشوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کرے۔
اس وباء کے خاتمے کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار آگاہی ہے۔ اسکولوں میں باضابطہ تربیتی پروگرام، والدین کے لیے رہنمائی نشستیں اور میڈیا کے ذریعے مثبت پیغام رسانی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بچوں میں منشیات کی وباء دراصل ہمارے اجتماعی شعور کا امتحان ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے بچوں کی صحیح رہنمائی نہ کی تو کل ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ بچوں کو نشے سے بچانا دراصل اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔
بچوں میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ دینی، اخلاقی اور انسانی المیہ بھی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ وباء صریحاً حرام، نقصان دہ اور تباہ کن ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو(سورۃ البقرہ195)
منشیات کا استعمال انسان کو جسمانی اور روحانی ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے، اس لیے یہ قرآنی حکم کے سراسر خلاف ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا:
بیشک شراب، جوا، بت اور فال کے تیر ناپاک شیطانی کام ہیں، پس ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ(سورۃ المائدہ90)
علمائے کرام کے نزدیک ہر وہ چیز جو عقل کو زائل کرے یا نشہ پیدا کرے، اسی حکم میں شامل ہے، چاہے وہ شراب ہو یا جدید منشیات۔ رسول اللہ ﷺ کا واضح ارشاد ہے۔
ہر نشہ آور چیز حرام ہےاور فرمایا،نشہ آور چیز کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔
والدین اور معاشرے کی دینی ذمہ داری نبی کریم ﷺ نے فرمایا،تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
یہ حدیث والدین، اساتذہ اور ذمہ دار افراد کو متنبہ کرتی ہے کہ بچوں کی تربیت، نگرانی اور اصلاح ان کی دینی ذمہ داری ہے۔ بچوں کو نظر انداز کرنا اور ان کی صحبت و عادات پر توجہ نہ دینا ایک سنگین کوتاہی ہے۔
اسلام ہمیں توبہ، اصلاح اور بچاؤ کا راستہ دکھاتا ہے۔ گھروں میں دینی ماحول، نماز کی پابندی، اچھے اخلاق، مساجد و مدارس کا کردار اور مثبت سرگرمیاں بچوں کو منشیات سے دور رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
بچوں میں منشیات کی وباء دراصل ایمان، تربیت اور توجہ کی کمی کا نتیجہ ہے۔ قرآن و سنت ہمیں واضح طور پر ہدایت دیتے ہیں کہ ہر وہ راستہ بند کیا جائے جو انسان کو ہلاکت کی طرف لے جائے۔ اگر ہم نے آج اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو آنے والی نسلیں ہم سے جواب طلب کریں گی۔
آئیے! اپنے بچوں کو دین، شعور اور روشن مستقبل دیں، اور انہیں منشیات کی تباہ کن وباء سے محفوظ رکھیں۔۔۔