بنگلورو:۔وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا پر پھر ایک مرتبہ غیر قانونی ڈی نوٹیفکیشن کا معاملہ ان کی کُرسی پرتلوارکی طرح لٹکنے لگاہے،بیلندور اور دیورا بیسانہلی میں آئی ٹی کاریڈار کیلئے کے آئی اے ڈی بی کی طرف سے زمین کو تحویل میں لیاگیاتھا،پھر اس کے بعد غیر قانونی طریقے سے ڈی نوٹیفائی بھی کیاگیاتھا،اس پر جب شکایت درج کی گئی تو لوک آیکتہ پولیس نے وزیر اعلیٰ کو ان الزامات سے بری کرتے ہوئے بی رپورٹ درج کی تھی،جس پر کرناٹکاکی عوامی نمائندوں کی خصوصی عدالت نے لوک آیکتہ کی بی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ جانچ کرنے کے احکامات دئیے ہیں۔شہرکے دیوربیسا نہلی اور بیلندرومیں انڈسٹریل ایریاقائم کرنے کے مقصد سے زمین ضبط کی گئی تھی،لیکن اس زمین غیر قانونی طریقے سے ڈی نوٹیفائی کیاگیاتھا،اس تعلق سے یڈی یورپا اور ان کے اہل خانہ پر شکایت درج کی گئی تھی۔اس معاملے کی تحقیقات لوک آیکتہ پولیس نے کرتے ہوئے10 ہزارصفحات پر مشتمل بی رپورٹ عدالت کو سونپی۔اس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے پولیس کی بی رپورٹ کو درست نہ ہونے کی بات کہتے ہوئے مسترد کیا اور کرناٹکا ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق دوبارہ تحقیقات کرنے کیلئے احکامات دئیے۔شکایت گذار وسوادیواریڈی کی وکالت کررہے وکیل کے بی دھننجئے نے لوک آیکتہ پولیس پر الزام عائدکیاکہ انہوںنے صحیح طریقے سے جانچ نہیں کی،بلکہ یڈی یورپا کو بچانے کیلئے دس ہزار صفحات کی بی رپورٹ پیش کی ہے۔ڈی نوٹیفکیشن کرنے کے تعلق سے اُس وقت کے آئی اے ڈی بی کے سی ای او نے اعتراض درج کیاتھا،علاوہ اس کے اڈوکیٹ جنرل نے بھی اپنی مرضی نہ ہونے کی بات کہی تھی۔ایسے میں لوک آیکتہ پولیس نے جو بی رپورٹ پیش کی ہے وہ مضحکہ خیزہے۔وکیل کی بات سننے کے بعد عدالت نے لوک آیکتہ پولیس کو حکم دیاکہ وہ اس معاملےکی تحقیقات دوبارہ کرے نہ کہ بی رپورٹ پیش کریں۔سال2001 میںبنگلورو شہرکے وائٹ فلیڈ کے قریب الیکٹرانک سٹی کے اطراف واکناف کی زمین کو آئی ٹی کاریڈار بنانے کیلئے کرناٹکا حکومت نے فیصلہ کیاتھا۔مارتھا ہلی، بیلندور، سرجاپور،دیورابیسانہلی ،کریمانا اگراہارا دیہات میں434 ایکر زمین کوکے آئی ڈی بی نے اپنی تحویل میں لیاتھا،جب یڈی یورپا ڈی سی ایم کے عہدے پر فائز ہوئے تو انہوں نے دیورا بیسانہلی میں 30.4 ایکر ، بیلندور میں 17.1 ایکر، 10.1ایکر،33گنٹے زمین کو ڈی نوٹیفائی کروایاتھااور اس زمین کو اپنوں کے نام پر خریداتھا۔سال2013 میں اس معاملے کے تعلق سے لوک آیکتہ کی خصوصی عدالت میں شکایت درج کی گئی تھی اورس عدالت نے سال2015 میں اس معاملے کی تحقیقات کرنے کیلئے لوک آیکتہ پولیس کو احکامات جاری کئے تھے۔سال 2015 کی21 فروری کو ایف آئی آردرج کیاتھا اور وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا کو ملزم کے طور پر پیش کیاگیا تھا۔سال2019 میں یڈی یورپا نے عدالت کو بتایا تھاکہ ان پر مقدمہ عائدکرنے سے پہلے متعلقہ محکموں سے منظوری نہیں لی گئی ہے،اس لئے ان پر لگائے گئے الزامات کومستردکیاجائے۔مگر کرناٹکا ہائی کورٹ نے یڈی یورپا کی اس گذارش کو مسترد کرتے ہوئے ان پر عائدشدہ مقدمات کے تعلق سے جانچ کرنے کے احکامات دئیے تھے۔اس بنیاد پر یڈی یورپاپر پھر سے ڈی نوٹیفکیشن کی تلوار لٹکنے لگی ہے۔
