جس قوم میں پانی پلانا افضل اور عبادت ہے وہ قوم پیاسوں کو پانی پلانے سے دور؛ مسلمانوں کو غور کرنے کی ضرورت

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ : اسلام میں پانی کی فضیلت بہت بڑی ہے ۔ عنقریب موسمِ گرما کی  آمد ہے ، ایسے میں انسانوں کو پیاس شدت سے لگتی ہے ، اس پیاس کو بجھانے کے لئے جہاں غیر مسلموں کی تنظیمیں اور ادارے باضابطہ طورپر پینے کے پانی کی سہولت کے لئے عارضی اور مستقل انتظامات کرتے ہیں وہیں مسلمان اس عمل سے دورہوتے جارہے ہیں ۔ ملک کے بیشتر بس اسٹانڈ س اور ریلوے اسٹیشن پر سکھ اور جین سماج کے لوگ پینے کے پانی کی سہولت کیلئے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے ہوتے ہیں لیکن ایک بھی اسٹیشن یا بس اسٹانڈ آپ کو ایسا نہیں ملے گا جہاں پر مسلمانوں کی جانب سے پینے کے پانی کی سہولت پر کام کیا گیا ہو ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ مسلمان اس عظیم کا م کو انجام دینے کیلئے مستقل منصوبہ بنائیں کیوں کہ پیاسوں کو پانی پلانے کیلئے اللہ کے رسول ﷺ نے خود عمل کیا اور مسلمانوں کو عمل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔  ہم نے کئی شہروں  میں دیکھا ہے کہ بعض غیر مسلم تنظیموں کی طرف سے بھی بڑے پیمانے پر موسم گرما میں پانی پلانے کا نظم بڑے ہتمام سے ہوتا ہے۔ہم تو اس نبی کے امتی ہیں جن کی تعلیم یہ ہے کہ اللہ کے راہ میں خرچ کرنا در اصل یہ اللہ کے خزانے میں اپنے لیے جمع کرنا ہے۔بعض علاقوں میں گرما کے موسم میں پانی کے لیے لوگ ترس جاتے ہیں ، ایسے میں جب کہ بورویل وغیرہ بھی سوکھ جاتے ہیں ، اس طرح کی بستیوں میں پانی کے ٹینکروں کے ذریعے آب رسانی کی خدمت میں شامل ہونا اور اپنے اور اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کیلئےپانی کا نظم کرنا ثواب کا ذریعہ ہوگا ۔یہ تو انسان ہیں ،نبی کریمﷺ کے ارشادات میں جانوروں تک کیلئےپانی کے نظم کرنے پر اجر وثواب اور جنت کی بشارتیں سنائی گئی ہیں باوجود اسکے ہم نے صرف ان سنتوں پر عمل کرنے کا بڑھا وا دیا ہے جس سے ہمارا ذاتی فائدہ ہو نہ کہ عام انسانو ں کے لئے فائدہ پہنچایا جائے ۔ اکثر لوگ ثواب جاریہ کی بات کرتے ہیں تو صرف کھانا کھلانے یا کسی ادارے کو چندہ دینے کی بات کرتے ہیں جبکہ اللہ کے رسول ﷺ نے سب سے بہترین صدقہ پانی کا صدقہ بتایا ہے لیکن اس پر عمل بہت کم ہورہاہے ۔ شیموگہ کے کسی بھی حلقے میں جائیں وہاں پر عوام کیلئے پینے کے پانی کی سہولت نہیں ہے ۔ امیر احمد سرکل ، اردو بازار، گاندھی بازار ، لشکرمحلہ کابازار جیسے اہم علاقوں میں لوگوں کی کثر ت ہوتی ہے جہا ں پر لوگ گرمی کے موسم میں پینے کے پانی کے لئے ترستے ہیں ایسے مقامات پر اگر مسلمان مستقل طورپر پینے کے پانی کا انتظام کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف مسلمان استفادہ کرینگے بلکہ ہزاروں لوگوں کی پیاس بجھے گی ۔