از:۔نقاش نائطی ۔ +966562677707

عالم کی سب سےبڑی سیکیولر مملکت بھارت اور شہنشاہیت والے مملکت سعودیہ کے عدل و انصاف کا تقابل
انصاف کی صدا دہائی دینے والے, اس اعلی معیار کا انصاف بھی کیا کرپاتے ہیں؟
عیاش, خدا بیزار اور ملکی تجارتی ترقی کے لئے اسلامی اوصول و اقدار تک کی پرواہ نہیں کرنے والا الزام, علماء مقلدین ھند و پاک بنگلہ دیش کی طرف سے, جس مملکت سعودیہ کےحکمرانوں پر لگائے, انہیں اسلامی دنیا میں بدنام و رسواء کیا جاتا ہے۔ وہاں عدل و انصاف کے لئے اپنے بااثر شہزادوں تک کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے دیکھئے اور بتائیے عالم کے کس جمہوری و شہنشاہیت والے ملک میں عدل وانصاف کے اتنے بلند و عظیم معیار و مقام کو سر آنکھوں پر رکھا جاتا ہے؟
https://www.facebook.com/share/v/1B8d9wP6m4/
یہ 18 ستمبر 2002عیسوی کی بات ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا بادشاہ اور متوفی شاہ فہد بن عبدالعزیز کے بھائی شاہ سعود بن عبدالعزیز کے پوتے شہزادہ فہد نے اپنے ایک دوست منذر بن سلیمان کو دیکھا جو اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ گتھم گتھا اسے زیر کرنے کی کوشش میں محو و مصروف ہے۔ شہزادہ فہد یہ دیکھ کر سخت طیش میں آیا۔ وہ کمرے میں گیا، کلاشنکوف اُٹھالایا اور 15 سالہ منذر پر فائرنگ کردی۔ منذر کو تین گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ شہزادہ فہد کو فوری طور پر گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ مقدمہ کم وبیش 19 ماہ تک چلتا رہا۔ سعودی "وزارت ِ عدل” کے مطابق قتل کے ہر کیس کو 13 قاضی دیکھتے ہیں ‘ چنانچہ اس مقدمے کا فیصلہ 14 جولائی 2003 عیسوئی کو صادر کردیا گیا۔ فیصلے کے مطابق "اگر مقتول کے ورثا قاتل کو معاف نہیں کرتے تو اس کی گردن تلوار سے اُڑادی جائے۔” شاہی خاندان اس فیصلے کے لئے پہلے سے ہی ذہنی طور پر تیار تھے لہٰذا شہزادہ فہد کی والدہ نے مقدمے کے دوران ہی چھ مرتبہ منذر کی ماں سے رابطہ کیا اور انہیں معافی پر قائل کرنے کی کوشش کی, مگر منذر کی والدہ قاتل کو معاف کرنے کے لئے ہرگز تیار نہ ہوئی۔ اب جب سزا میں ایک دن رہ گیا تو 30 اپریل کو شاہی خاندان کی معزز شہزادی اور شہزادہ فہد کی والدہ مقتول کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی لیکن جب دیکھاکہ مقتول کے ورثا معافی کے لئے کسی صورت تیار نہیں تو دیت کی درخواست کردی۔ شاہی خاندان نے دیت کے لئے جس رقم کی پیشکش کی، یہ سعودی تاریخ میں ریکارڈ رقم تھی لیکن مقتول کے والد نے 70 ملین ریال بقدر کم و بیش 170 کروڑ روپئیےکی خطیر رقم بھیٹھکرا دی۔ معافی کی درخواستوں اور دیت میں اضافےکا سلسلہ جاری تھا کہ یکم مئی 2004عیسوی کا سورج طلوع ہوگیا اور فیصلے کی گھڑی آپہنچی۔ صبح سویرے ریاض کے گورنر امیر سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے دفتر میں مقتول منذر کے والد سلیمان اور اس کے رشتہ داروں کو آخری ملاقات کے لئے بلالیا۔ انہیں بتایا گیا کہ آج قاتل سے قصاص لیا جارہا ہے۔ گورنر نے کہا "میں آپ لوگوں کے مقدمے میں کوئی مداخلت نہیں کرنا چاہتا , نہ ہی شاہی خاندان نے اس سلسلے میں عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ ہاں ! البتہ میں آپ کو اسلام میں معاف کرنے کی اہمیت سے ضرور آگاہ کروں گا۔ اگر آپ معاف کردیں تو یہ آپ کا اعلیٰ ظرف و کردار ہوگا اور اگر آپ قصاص لیتے ہیں تو یہ آپ کا حق ہے۔” دوسری طرف گردن زدنی کا وقت جتنا قریب آتا جا رہا تھا، شہزادہ فہد کی والدہ کی طبیعت غیر ہوتی جارہی تھی۔ صورتِ حال کا نقشہ کھینچتے ہوئے شہزادہ فہد کے والد نایف بن سعود کہتے ہیں "جس دن عدالتی حکم کا نفاذ ہونا تھا، اس روز صبح سویرے ایک عدالتی اہلکار نے فون پر بتایا کہ وہ عدالت پہنچ جائیں۔ یہ سن کر ہماری تمام اُمیدیں دم توڑگئیں۔ شہزادہ فہد کی ماں تو شدت غم سے گری اور بے ہوش ہوگئیں جنہیں فوراً ہسپتال پہنچادیا گیا۔ میں نے اپنی ہمت مجتمع کی! لیکن ایک ایسے باپ کی دِلی کیفیت کا اندازہ کون کرسکتا ہے جس کو چند گھنٹے بعد اپنے نوجوان بیٹے کا تڑپتا جسم اور کٹتی گردن دیکھنا تھی” یکم مئی 2004ء کے سورج کی گرمی جتنی بڑھتی جارہی تھی اسی رفتار سے صلح اور معافی کی تمام تر اُمیدیں دم توڑ رہی تھیں۔ صبح سے بے شمار لوگ "قصر الحکم” سپریم کورٹ کے پہلو, میدانِ قصاص میں جمع تھے۔ کچھ لمحے بعد لوگوں نے دیکھا شہزادہ فہد کو ایک گاڑی سے اُتارا گیا۔ اس کے پیروں میں بیڑیاں لگی ہوئی ہیں,قیدیوں کا مخصوص لباس پہنا ہوا تھا اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اس کا بازو تھاما ہوا تھا۔ میدان قصاص میں لاکر عدالت کے اہلکاروں نے اپنی آخری کارروائی مکمل کرتے ہوئے مقتول کے والد سلیمان سے پوچھا "کیا آپ قاتل کو پہچان رہے ہیں؟ ” اس نے اور اس کے چچازاد بھائیوں اور قبیلے کے افراد نے گواہی دی، "ہاں ! یہی وہ قاتل ہے” ادھر جلاد نے تلوار میان سے نکال لی۔ اس دوران شہزادہ فہد نے آخری بار پکارا "اے سلیمان ! اللہ کی رضا کی خاطر مجھے معاف کردیں” مقتول کے والد سلیمان نے بتایا "میں نے گزشتہ تمام وقت صرف اور صرف قصاص ہی پر زور دیا تھا۔ میرے چچازاد بھائی عبدالرحمن نے مجھے ایک بار پھر کہا "پانچ منٹ تک مزید غور کرلو” میں سوچتا رہا۔ پانچ منٹ بعد پولیس کے چیف نے مجھ سے پوچھا ” تمہارا کیا فیصلہ ہے؟ ” میں نے جواب دیا ” قصاص اور صرف قصاص” چنانچہ اس نے جلاد کو اشارہ کردیا …. جلاد نے تلوار نیام سے پہلے ہی نکالی ہوئی تھی، اب وہ بالکل تیار تھا …. لیکن اس دوران میرے قبیلے کے بعض افراد نے مشورہ دیا کہ میں ایک بار پھر استخارہ کروں اور اپنے رب سے مشورہ طلب کرلوں۔ میں اس سے پہلے دو مرتبہ استخارہ کرچکا تھا اور اسی نتیجے پر پہنچا تھا کہ ہر حالت میں قصاص چاہئیے۔ میں نے ایک بار پھر استخارے کا فیصلہ کیا۔ قتل گاہ سے چند میٹر دور اپنا رُخ قبلے کی طرف کیا۔ آدھا گھنٹہ میں نماز ادا کرتا رہا اور مسلسل گڑگڑاکر اپنے رب سے مشورہ کرتا رہا۔ نماز کے بعد میں نے اپنے بیٹے تمیم سے کہا "موبائل پر اپنی والدہ سے بات کراؤ” فون پر اہلیہ سے بات ہوئی، میں نے پوچھا "تمہارا کیا فیصلہ ہے؟” اس نے کہا "تم جو بھی فیصلہ کروگے، مجھے منظور ہے۔” اب چند لمحات کی بات تھی۔ شہزادہ فہد سر جھکائے ہوئے تھا۔ جلاد تلوار سونتے اشارے کا منتظر تھا اور ہزاروں لوگوں کی نظریںمقتول کے والد سلیمان پر جمی ہوئی تھیں۔
سلیمان نے اپنے بیٹے تمیم اور بھائی عبدالرحمن کو آخری مشورے کےلئے بلایا اور پھر یکدم قاتل کو مخاطب کرتے ہوئے اعلان کیا "جاؤ ! میں نے اللہ کی رضا کے لئے تمہیں معاف کردیا ،لیکن یاد رکھو ! مجھے کسی نے مجبور کیا ہے نہ ہی مجھے کوئی مالی لالچ ہے۔ ہاں ! لیکن تمہیں قرآن حفظ کرنا ہوگا اور بقیہ زندگی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں گزارنی چاہیے” یہ اعلان سننا تھا کہ میدان "اللہ اکبر” کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ آج عفو ودرگزر اور عدل کایہ نظام دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ سلیمان آگے بڑھا، شہزادہ فہد کو گلے لگایا۔ شہزادہ فہد نے سلیمان کے سر کے بوسے لئے! اپنے فعل پر ندامت کا اظہار کیا اوراس کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تصوراتی کہانی یا صدیوں پہلے کی کوئی رومانی روداد نہیں بلکہ یہ اسی صدی کا ایک سچا واقعہ ہے۔ یہ وہی اسلامی "نظام عدل” ہے جس کے سامنے شاہی خاندان بھی اپنے آپکو بے بس پاتا ہے۔ جی ہاں ! اسلام کا "نظامِ عدل” جس کے سامنے شاہ سعود بن عبدالعزیز کا پوتا بھی سرجھکائے کھڑا نظر آتا ہے۔
اللہ ہر جگہ اسلام اور عدل کا نظام قائم فرمائے .
اسلامی تاریخ ایسے عدل و انصاف والے واقعات سے بھری پڑی ہے۔خلافت راشدہ حضرت عمر کے زمانے میں ایک یہودی کی شکایت پر گورنر مصر اور اسکے بیٹے کو مدینہ بلاکر انصاف کیا واقعہ
حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ مصر کے گورنر تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک قبطی یہودی مصری نے شکایت کی کہ ہم گھوڑا دوڑ کا مقابلہ کر رہے تھے اور میرا گھوڑا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے آگے ہوا
تو اس کے بیٹے نے مجھ کوڑے سے مارا کہ پیچھے ہو جاؤ میں بڑے باپ یعنی گورنر کا بیٹا ہوں۔اس وجہ سے میں ڈر کے پیچھے ہوگیا اور گھڑ دوڑ دانستہ ہار گیا
مجھے پتہ چلا ہے کہ اسلام میں ہر کسی کے ساتھ برابری کے لحاظ سے انصاف ہوتا ہے اسی لئے اسلامی نظام عدل سےانصاف مانگنے میں مصر سے مدینہ آیا ہوں مجھے انصاف چاہئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تم اپنے بیٹے کے ساتھ فورا مدینہ حاضر ہوجاؤ
جب باپ بیٹا مدینہ پہنچے تو اسلامی عدالت سجی۔ مدعی نے مدعا علیہ پر فرد جرم عائد کردیا, مدعا علیہ کی طرف سے خاموشی کو اقرار جرم تصور کرتے ہوئے,حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس قبطی یہودی مصری لڑکے کو کوڑا دیا اور فرمایا کہ "مار اس بڑے باپ کے بیٹے کو اور اس کے باپ کے سرپر بھی ایک کوڑا مار”
گورنر مصر نے تڑپ کر کہا ” یا امیر المومنین اس میں میرا کیا قصور؟”
تب حضرت عمر رض نے کہا "تیرے عہدے کے غلط استعمال نے, تیرے بیٹے کو یہ جرات بخشی کہ وہ سرعام ان کو غلاموں کی طرح مارتا ہے جنہیں انکی ماوؤں نے آزاد رینے کے لئے جنا تھا”
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔۔ کہ پہلے ہم چاہتے تھے کہ قبطی یہودی مصری اس گورنر کے لڑکے کو مارے لیکن وہ اسے اتنا مارا کہ اب ہمیں اس لڑکے پر ترس آیا کہ اب اس کو چھوڑنا چاہیے
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قبطی یہودی مصری سے کہا کہ "اس کے باپ کو بھی ایک درہ مار, کیونکہ اس باپ کی وجہ سے اس کے بیٹے نے یہ کہنے کی جرات کی ہے کہ میں گورنر کا بیٹا ہوں”
لیکن اس مصری نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو معاف کیا اور لوگوں نے بھی سفارش کی کہ باپ کی تو کوئی غلطی نہیں ہے
لیکن اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک تاریخی جملہ کہا اور فرمایا "کہ تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنانا شروع کیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے تو انکو آزاد جنا تھا”
ایک مرتبہ ایک یہودی نے اپنے مسلمان غلام پر چوری کا الزام لگائے اس پر "اسلامی سزا حد چوری” ہاتھ کاٹنے کاجب مطالبہ کیا توحضرت عمر رضی اللہ نے غلام کو بلاکر چوری کئے جانے پر استفسار کیا مسلم غلام نے کہا "یا امیر المومنین مجھے چوری کی قباحت کا علم ہے لیکن میں چونکہ اس یہودی کا غلام ہوں اس لئے مجھ سے یہ ممکن نہیں کہ کہیں اور کچھ کما اپنے بچوں کی کفالت کر سکوں اور پوری تندہی ایمان داری سے کام کرنے کے باوجود میرا مالک یہودی مجھے اتنی اجرت نہیں دیتا ہے کہ میں اپنے بچوں کی کفالت کرسکوں اسی لئے میں مالک کے گھر سے بغیر اجازت کچھ روٹیاں لئے جاتا ہوں تاکہ میں اپنے بچوں کو کھلائے انہیں زندہ رکھ سکوں” یہ سن کر حضرت عمر نے اس یہودی سے پوچھا کہ "تمہیں اس بات کا ادراک رہتے ہوئے کہ وہ تمہارا غلام کہیں اور کام کئے کچھ زاید رقم کما نہیں سکتا تو تم کیوں کراسے اس کی آل کو زندہ رہنے لائق نان نطقہ نہیں دیتے ہو؟ چونکہ تمہاری لاپرواہی نے اسے چوری کرنے مجبور کیا ہے تو تم مالک غلام رہتے, تم پر اسکی چوری کی حد گر جاری کی جائے تو کیسا لگے گا؟” اس واقعہ سے بھی یہ معلوم ہوتا پے اپنے ماتحین مکفولین کو انکی مجبوری کا فائیدہ اٹھائے عمومی تنخواہ سے کم اجرت یا تنخواہ دی جائے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قحط پڑا تو آپ نے چوری کی حد معطل کردی بلکہ کوتوال کو اپنی طرف سے سزا دینے پر, اسے سزا دی تھی
وقت خلافت راشدہ حضرت عمر رضی اللہ کا کیا عدل و انصاف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے چوری کی حد کو بوجہ شُبہ ساقط کرنے اور چور کے مالک پر تاوان مقرر کرنے سے متعلق ایک اور واقعہ (جس میں غلام پر بوجہ شبہ کہ مالک نے اپنے غلام کو بھوکا رکھا جس کے سبب وہ چوری کرنے پر مجبور ہوا، حد ِسرقہ نافذ نہ کی گئی) روایات میں ملتا ہے، امام مالک رحمہ اللہ (المتوفى: 179ھ) کے ہاں یہ واقعہ کچھ یوں منقول ہے:
"یحیي بن عبد الرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ حاطب رضی اللہ عنہ کے غلاموں نے’’مُزینہ‘‘ (قبیلہ) کے ایک آدمی کی اونٹنی چرا کر ذبح کرلی ، یہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اونٹنی کے مالک سےکہا کہ میرا خیال ہے کہ تم اپنے غلام کوبھوکا رکھتے ہو، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں تمہارے اوپر اتنا تاوان ڈال دوں گا کہ تم گرانی محسوس کرو گے، پھر مُزنی سے فرمایا کہ تمہاری اونٹنی کی قیمت کیا ہوگی؟ مُزنی نے کہا: خدا کی قسم !میں نے تو وہ چار سو درہم میں بھی نہیں دی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے(بیت المال سے) آٹھ سو درہم دے دو۔”بحالت مجبوری زندہ رہنے کے لئے کی گئی چوری کے لئے چور پر اسلامی حد سزاء چوری لاگو نہ کئے جانے والا یہ واقعہ یہ درشاتا ہے کہ اپنے ماتحتین مکفولین کو مناسب تنخواہ دی جائے تاکہ انہیں بمجبوری چوری کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
بعد آزادی ھند دستور ساز کمیٹی کی پہلی نشست میں, ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے جب مہاتما گاندھی کو حاضر مجلس رہنے بلایا تھا تواس وقت مہاتما گاندھی نے دستور ساز اجلاس میں شرکت سے معذرت پیش کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا وہ تاریخ کے صفحات کا حصہ بنے حیات دوام پائے ہوئے ہے۔ اس وقت مہاتما گاندھی نے کہا تھا "کہ رام اور کرشن تو ھندو مائیتھولوجی کے قصے کہانی کے کردار ہیں اسلئے ان کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کرتے ہوئے مسلمانون کے خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی سللہ عنہ کی زندگی کے بارے میں,میں پڑھا ہے کہ وہ اپنی رعایا کو خوش و مطمئین رکھنے کے بڑے فکرمند تھے انہوں نے اپنے زمانے میں آپنی عوام کو انصاف دلانے کی۔ بڑی کوششیں کی تھیں۔ ان کی زندگی کو سامنےرکھےہندستانی دستور ترتیب دیا جائے تاکہ ہندستانی عوام کو چین و سکوں راحت کے ساتھ پورا پورا انصاف مل پائے”
آج کے دور والے عالم کی سب سے بڑی سیکیولر جمہوریت ملک بھارت میں, اپنے ہزاروں سالہ گنگا جمنی عدل و انصاف کے چرچوں کتھاؤں کے سائے میں, وہی پرانے سناتن دھرمی آسمانی ویدک قانون والے رام راجیہ بنانے کے دعوے والی سنگھی سرکار,اپنے رام راجیہ میں, سنگھی سرکاری نازی قانون کے خلاف احتجاج کرتے کسانوں کے ہجوم پر 3 اکتوبر 2021 کو لکھیم پور کھیری ضلع، اتر پردیش میں زرعی قوانین کے خلاف مظاہروں کے دوران,ایک تیز رفتار ایس یو وی، جو مبینہ طور پر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کے قافلے کا حصہ تھی، پرامن طریقے سے مارچ کرنے والے کسانوں کے ایک ہجوم سے ٹکرا گئی تھی۔ اس دانستہ حادثہ کے نتیجے میں چار کسان اور ایک صحافی مارے گئے تھے اور احتجاجی کسانون کے ہاتھوں بی جے پی کے دو کاریہ کرتا اور گاڑی کا ڈرائیور بھی مارے گئے تھے۔
آشیش مشرا کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ وہ کسانوں کو کچلنے والی کار میں سوار تھے۔ وائرل ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ گاڑی کسانوں کو پیچھے سے ٹکراتی ہے۔ وزیر اور ان کے بیٹے نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کار پر مظاہرین نے حملہ کیا تھا اور ڈرائیور کنٹرول کھو بیٹھا تھا۔
سپریم کورٹ نے پیر کو سابق مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کو 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد سے متعلق کیس میں ضمانت دے دی جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے، اور ان کی نقل و حرکت کو دہلی یا لکھنؤ تک محدود کر دیا تھا۔
کلدیپ سنگھ سینگر کو 2017 کے اناؤ کیس میں ایک نابالغ بھارتیہ ناری کے اغوا اور عصمت دری اور اسکے رشتہ داروں سمیت اس کے وکیل تک کو بھی حادثے میں مروانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔دسمبر 2019 میں، دہلی ہائی کورٹ نے بی جے پی کے سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو ضمانت دے دی تھی، جو اناؤ عصمت دری کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے،
2017 کے واقعے کے لئے ان کی سزا کو دسمبر 2025 تک معطل کر دیا گیا تھا۔ اس سے ملک گیر احتجاج ہوا، جس کے اثر سے سپریم کورٹ نے اس ضمانتی حکم پر روک لگا دی ہے۔
اس سے پرے گجراتی ھندو بابا آسارام باپو پر اس بڑھاپے میں نابالغ لڑکی کی عصمت دری سمیت انیک لڑکیوں کی عصمت دری کیسز میں عدالتی حکم سے مجرم قرار دئے سزا کاٹ رہے مجرم بابا کو یہ سنگھی حکومت موقع موقع اور بہانے بہانے سے پیرول پر آزاد کرتی رہتی ہے۔بابارام رحیم بھی نابالغ لڑکیوں کی عصمت دری کیس میں سزا کاٹ رہے ہوتے جیل میں عیش و عشرت والی زندگی گزار رہے ہیں۔ کسی ملک میں پوری طرح عدل و انصاف کی شفافیت مشکل تر امر ہوتا پے لیکن ایک حد تک مجرموں کو سزا دئیے عوامی راحت و چین و سکوں کو بنائے رکھنے کی پوری کوشش بھی ہوتی ہے۔ تین چوتھائی عالم پر پورے بارہ سو سال کبھی خلافت راشدہ بنو امیہ فاطمیہ تو کبھی خلافت عثمانیہ والی اسلامی خلافت رہتی ہے جو نامناسب حالات میں بھی اپنے عدل وانصاف والے عملی کردار سے عام رعایا پر ظلم و جبر ہونے سے سختی سے روکتی پائی جاتی ہے اور موجودہ جدت پسند دور کے لوگوں کی طرف سے چنی گئی عام باشندوں پر منتخبہ لوگوں کی حکومت اور عدل وانصاف میں برابری کے ببانگ دہل وعدوں دعوؤں باوجود, بھارتیہ عام عوام کو کس قدر خواص کے ہاتھوں کچلا، دبایا عدل و انصاف سے ماورا جینے مجبور کیا جاتا ہے کوئی آزاد بھارت کے اس سنگھی رام راجیہ میں آکر دیکھ سکتا ہے 2019 دہلی فساد کے ماسٹر مائینڈ اور عوامی جلسوں میں تک "گولی مارو سالوں کو (مسلمانوں کو) ببانگ دہل نعرے لگائے, دہلی فساد کی آگ کو بھڑکانے والوں کو انعام میں حکومتی وزارت سے نوازا جارہا پے اور بے قصور مسلمانوں کو مارنے والے درندے ایوان حکومت کے سائے میں آزاد دنیوی زندگی کے مزے لوٹ رہے ہوتےہیں اور رام راجیہ کی دعویدار سنگھی حکومت جے این یو ہیومن ایکٹیویسٹ, بے قصور طلبہ عمرخالد شرجیل امام جیسے بے قصوروں کو فرضی الزامات سے گھیرے, ضمانت تک سے محروم رکھے سابقہ چھ سالوں سے سنگھی جیلوں میں سڑایا جا رہا پے۔ یہ ہے عالم کی سب سے بڑی عوامی سیکیولر جمہوریت میں عدل وانصاف سے ماورائیت کا حال۔ کیا انصاف سے بیگانہ بدحال چھوڑی عام جنتا رام راجیہ کے نعروں والے اس سنگھی سیاست دانوں کو نکارتے ہوئے عدل وانصاف کرنے والی مسلم خلافت کی منتظر کیا پائی جارہی ہے؟؟وما التوفیق الا باللہ
