امریکہ ایران جنگ ؛ہندوستان میں قلت اور مہنگائی میں اضافہ کا باعث

مضامین
از؛۔محمداعظم شاہد
تقریباً تین سال اور پانچ مہینوں سے امریکہ کی پشت پناہی کے باعث اسرائیل نے اپنے جنگی تباہ کاریوں سے غزہ میں جو وحشیانہ بربریت مچائی ہے، اس کا راست اثر دیگر ملکوں پر نہیں ہوا- اس لئے بھی کہ غزہ سے تجارتی تعلقات ایشیا کے دیگر ممالک سے اتنی اہمیت کے حامل نہیں رہے- البتہ کھجور اور زیتون کی فصلیں ان پچھلے تین سالوں میں بری طرح متاثر رہی ہیں اور غزہ کی برآمدات پر بھی اس کا راست اثر پڑا اور معیشت بھی بری طرح اثر انداز رہی – اسرائیل کے غزہ پر مظالم محض حماس کے خاتمے پر مرکوز تھے، مگر اس کی آڑ میں اسرائیل نے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے – امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل ملک شام،لبنان اور ایران پر جنگی حملے کرتا رہا ہے -دراصل ایران کی معیشت کو تباہ کرکے وہاں کے تیل کے وسائل پر اپنا مجرمانہ اور ناجائز قبضہ جمانے کے منصوبے کے تحت امریکہ اوراسرائیل ایران کو نشانہ بناتے آئے ہیں – ایران پر امریکی پابندیاں عرصۂ دراز سے جاری ہیں -مگر اپنے دفاع میں ایران نیوکلیئر جنگی اسلحہ سازی میں ثابت قدم رہا- امریکہ کی اجارہ داری کے آگے کبھی بھی سمجھوتہ نہ کرنے والے ایران نے اپنے وطن کے وقارکو ظالم حملہ آوروں کے آگے کبھی بھی مجروح ہونے نہیں دیا- اب چونکہ چالیس دنوں سے امریکہ اسرائیل ایران کی جنگ جاری ہے -ایران نے امریکہ کی حمایت کرنے والے خلیجی ممالک اور جنوبی مغربی ایشیائی ممالک جنہوں نے امریکہ کو اپنے دفاعی فوجی اڈوں کے قیام کیلئے اپنے ممالک میں جگہ دی ہے -ان ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کو اپنی جوابی کارروائی میں ایران نے نشانہ بنایا ہے – اب امریکی صدر ٹرمپ کی بددماغی پوری دنیا پر واضح ہوگئی ہے -ایران میں اسلامی جمہوریت کے خاتمے اور وہاں جمہوری نظام حکومت کے قیام کی آڑ میں امریکہ ایرانی عوام کو ورغلاتا رہا ہے – امریکی منصوبے کو ناکام کرنے ایران میں حکومت، عوام اور فوج نے ان دنوں جاری جنگ میں امریکہ کے ساتھ لوہا لیا ہے – اس جنگ کے زیر اثر ایران نے آبنائے ہرموز جوایران اورعمان کے درمیان واقع ہے، جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے – یہ اسٹریٹجک آبی گذرگاہ دنیا کا سب سے اہم تیل کی ترسیل کا چوکی پوائنٹ ہے – آبنائے ہرمز پر ایران نے امریکی اور اسرائیلی جنگی حملہ کی جوابی کارروائی کے طورپر پابندیاں لگائی ہیں – جس کے باعث خام تیل اور تیل کی مصنوعات کی عالمی تجارت پر پابندیاں لگی ہوئی ہیں – اور تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی اثر پڑا ہوا ہے – عالمی خام تیل کی تجارت کا 21 فیصد جو تقریباً 21 ملین بیرل روزانہ آبنائے ہرمز سے گذرتا ہے – گویا یہ عالمی تیل کی تجارت کی اہم شریان بھی سمجھی جاتی ہے –
آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے ناکہ بندی یا بڑی رکاوٹ خام تیل کی قیمتوں کو 100 (ایک سو) ڈالر فی بیرل سے کہیں زیادہ دھکیل سکتی ہے – یہاں تک کہ عارضی طورپر توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ، شپنگ لاگت میں اضافہ اور مال بردار جہازوں کے گذرنے پر پابندیاں سپلائی میں نمایاں تاخیرکا باعث بن سکتی ہیں – ہمارا ملک ہندوستان 80 فیصد خام تیل اور ایندھن تیل کی مصنوعات اور زراعت کیلئے کھاد بھی درآمد کرتا آیا ہے جو آبنائے ہرمز کے راستے ہی ہمارے ہاں پہنچتا ہے – 28 فروری 2026 سے امریکہ اسرائیل ایران جنگ کے زیراثر آبنائے ہرمز پر جاری پابندیوں کے درمیان ایران نے ہندوستان کو پہنچنے والے خام تیل اور ایل پی جی سے لدے مال بردار جہازوں کے گذرنے کیلئے اجازت دی ہے -مگر عام طورپر جس آسانی کے ساتھ حسب سابق میں جو سہولیات تھیں، اب ان میں واضح تبدیلی آئی ہے -خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے – جس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اور باورچی خانوں میں استعمال ہونے والی پکوان ایل پی جی (رسوئی گیس) اورکمرشیل یل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے – اور آٹورکشا کیلئے استعمال ہونے والی گیس کی قلت میں بڑا مسئلہ بن گئی ہے –
ایران پر اسرائیل امریکہ حملے اور جنگ کے نتیجے میں تمام ممالک بشمول ہندوستان جو آبنائے ہرمز سے اپنے خام تیل اور گیس کے درآمدات حاصل کرتے تھے – ان ممالک میں اب ہر عام آدمی پر اس جاری جنگ کے اثرات مرتب ہوئے ہیں- جہاں قلت اور مہنگائی میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے – ہر کوئی ایسے ماحول میں جنگ کی مارسہہ رہا ہے – سب منتظر ہیں کہ جنگ کب رکے گی اور حالات معمول پر آجائیں -مگر اس پورے معاملے میں امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیراعظم نتین یاہو کی بددماغی اور دہشت گردی نے متاثرہ پورے خطے میں حالات سنگین اورتشویشناک بنادئے ہیں – جہاں پکوان گیس (ایل پی جی) اور پٹرولیم مصنوعات کی قلت اور مہنگائی کی مار ہے وہیں یہ خدشہ بھی لاحق ہورہا ہے کہ زراعت میں فصلوں کی افزائش کیلئے جوکھاد درآمد کی جاتی رہی ہے، اس کی سپلائی بھی متاثر ہوسکتی ہے – قلت کے باعث اگر کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تو روزانہ استعمال کی اورکھانے پینے کی چیزیں بھی مہنگی ہوجائیں گی – ممکن ہے کہ غذائی اجناس کی قلت اور گرانی کا اثرعام آدمی پر بھی راست مرتب ہوکر رہے گا- بتایا جارہا ہے کہ جاریہ جنگ کے اثرات شیئر بازار پر بھی دیکھے جارہے ہیں – افراطِ زر کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے – ملک کی کرنسی روپیہ کی ساکھ بھی متاثر ہورہی ہے اور GPP شرح نمو میں بھی گراوٹ ممکن سمجھی جارہی ہے – ان حالات میں ایک بار پھر یہ واضح اشارہ دنیا کے سامنے ہے کہ جنگ خود ہی ایک مسئلہ ہے،جنگ بھلا کیا مسئلوں کا حل دے پائے گی- کسی ایک فرد کی ذہنی بیماری اور اس کی بے حس اجارہ داری سے خود اس کا اپنا ملک جنگ کا خمیازہ ادا کرتا ہے – اورجس ملک پر اس بددماغی کے زیراثر حملہ ہوتا ہے وہاں کے معمولات زندگی، جان ومال کا نقصان، ترقی کی رفتار میں رکاوٹ اور بے قصور لوگوں کی ہلاکتیں، تباہی ہی تباہی، سب کچھ بربادی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے – جنگ میں ملوث ممالک راست طور پر متاثر رہتے ہی ہیں،مگر تجارت کے حوالے سے درآمدات اور برآمدات میں جو رکاوٹیں اور تبدیلیاں آتی ہیں -اس کے اثرات دیگر ممالک میں انفرادی اور اجتماعی طور پر مرتب ہوتے ہیں – مصنوعات کیلئے حسب ضرورت قوت خرید کے باوجود بھی پہلے قلت اور پھر مہنگائی سے حالات ابتر ہوتے چلے جاتے ہیں- یہی سب کچھ اب ہمارے ملک میں بھی ہورہا ہے – گھروں میں باورچی خانوں میں پکوان کے مسائل ہیں تو چھوٹے بڑے ہوٹل بھی کمرشیل یل پی جی کی قلت کے باعث مسائل کا شکار ہیں – کئی ہوٹلوں میں پکوان کی تیاری کے مسائل کے باعث کئی کھانے پینے میں استعمال ہونے والی چیزیں اب بن نہیں پارہی ہیں – کئی ہوٹل بند بھی ہوگئے ہیں -جنگ کی کارستانیاں اور تباہ کاریاں راست متاثرہ ممالک میں ہونی لازمی ہیں- مگر بالراست دیگر ممالک میں وہاں کے عوام کی کسی بھی طرح کی شمولیت ہی جاریہ جنگوں میں نہیں ہوا کرتی ہے -مگر پھر بھی وہ جنگ سہتے ہیں –

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے